تقریظ

بسم الله الرحمن الرحیم

اسلام دین فطرت ہے ، اس لیے اس نے فطری تقاضوں کے پورا کرنے کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے ، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کو آسان بھی بنایا ہے ۔ ایسے ہی تقاضوں میں ایک ’ نکاح ‘ بھی ہے ، نکاح ایک ایسا معاملہ ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہو ، تب بھی وہ نکاح کرسکتا ہے ، البتہ اس پر دو مالی ذمہ داریاں رکھی گئی ہیں :
ایک : مہر جو فرائض نکاح میں ہے ، لیکن اسے باہمی رضا مندی سے مہلت کے ساتھ بھی ادا کیا جاسکتا ہے ،
دوسرے : ولیمہ جو سنت ہے ، اور اسراف و تکلف کے بغیر اپنی حیثیت کے مطابق کیا جاسکتا ہے ، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تھوڑے سے جو اور چند پیالے دودھ سے ولیمہ کیا ہے ، یہ سہولت اس لیے رکھی گئی ہے کہ حلال کو انجام دینا جتنا آسان ہوگا ، معاشرہ میں حرام کا ارتکاب اتنا دشوار ہوجائے گا اور اگر حلال کو دشوار کردیا جائے تو حرام اور گناہ لوگوں کے لیے آسان ہوجائے گا ۔

چونکہ یہ دونوں ذمہ داریاں مردوں پر رکھی گئی ہیں ۔ اس لیے مسلم معاشرہ میں برصغیر کے سوا کہیں یہ تصور نہیں کہ نکاح میں عورت پر کوئی مالی بوجھ ڈالا جائے بلکہ اس کا برعکس پہلو عرب معاشرہ میں ملتا تھا کہ لڑکی اور اس کا ولی ہونے والے شوہر و داماد سے ایک خطیر رقم کا مطالبہ کرتے تھے آج بھی خلیجی ملکوں میں یہ رواج ہے ، اس لیے فقہ کی کتابوں میں اسی رسم کی مذمت ملتی ہے ۔
ہندوستان میں ہندو معاشرہ میں قدیم زمانہ سے عورت کو جہیز دینے کا تصور چلا آرہا ہے ، کیوں کہ ہندو مذہب میں عورت کو اپنے والدین کی جائیداد میں میراث نہیں ملتی ۔ جب وہ اپنے سسرال رخصت کی جاتی تو سمجھا جاتا کہ اب اس خاندان سے اس کا کوئی رشتہ نہیں رہا ، اس لیے کوشش یہ کی جاتی کہ اس کو کچھ دے دلاکر رخصت کر دیا جائے۔ اسلامی شریعت میں مرد و عورت دونوں حقوق کے اعتبار سے مساوی درجہ کے حامل ہیں ۔ ماں کو اپنی اولاد کے ترکہ سے ، بیٹی کو اپنے ماں باپ کے ترکہ سے اور بیوی کو شوہر کے ترکہ سے لازماً میراث ملتی ہے اور اس کا تعلق اپنے خاندان سے باقی رہتا ہے ، بد قسمتی سے ہندو سماج سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے بھی ایک طرف جہیز کی غلط رسم کو اختیار کرلیا اور دوسری طرف عورتوں کو حقِ میراث سے محروم کرنے لگے ۔۔

ان غلط رسوم کے تدارک کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مختلف مدہبی و سماجی تنظیمیں کام کررہی ہیں اور اس سلسلہ میں مفید لٹریچر بھی شائع ہوتے رہے ہیں ، اللہ تعالی جزائے خیر دے محبی جناب علیم خاں فلکی زیدت حسناتہ کو کہ انہوں نے جہیز اور شادی کے موقع پر انجام دی جانے والی غیر شرعی اور فضول خرچی پر مبنی رسوم کا بڑی تفصیل سے سے جائزہ لیا ہے اور امت کی دکھتی ہوئی رگ پر انگلی رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس موضوع پر جو قلمی کاوشیں ہوئی ہیں ، غالباً یہ ان میں سب سے جامع تحریر ہے اور عام فہم زبان اور سادہ اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ مولف کا پیغام محبت اور کلمۂ نصح و دعوت ہر طبقہ تک پہنچ سکے اور کم پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے استفادہ کرسکیں ۔
کاش ! مصنف کے الفاظ ہمارے سماج میں کانوں اور دلوں کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہوگیا ہے ، اس کو طے کرسکیں ۔ ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں اور قلب و نظر کے بند دروازوں پر دستک دے سکیں۔ وبالله التوفیق وھوالمستعان ۔

خالد سیف اللہ رحمانی
(خادم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد )

27 / جمادی الثانی 1430ھ
21 / جون 2009ء

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

2 تبصرے

  1. اللہ تعالیٰ آپ کی کاوش کو قبول کرے :

    محترم علیم خان فلکی صاحب قابل مبارکباد ہے، اللہ تعالیٰ آپ کی کاوش کو قبول فرمإٕئے، اور دنیا وآخرت میں اس کا بدل عطا فرمائے، کتاب بہت مفید ہے، جہیز یقینا ایک ایسی لعنت ہے جس کا اثر نسلوں تک جاری رہتا ہے، اور اس کی نحوست سے میاں بیوی کے درمیان زندگی بھر نااتفاقی قائم رہتی ہے۔ جہیز کی لالچ انسان کو اپنے رفیق حیات کی محبتوں اور نئے رشتے کے احترام کو غارت کردیتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ نوجوانان ملت کو اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دے، اور امت کی بیٹیوں کا بہترین انتظام فرما، ان کے لیٕے ان کے مناسب جوڑے عطا فرما، اور اس میدان میں خدمت انجام دینے والے تمام افراد کو جزائے خیر دے۔
    مبصرالرحمن القاسمی
    ریڈیو کویت

  2. کتاب بے حد مفید ہے ….مولف کے دل کی آواز ہے ،اللہ تعالی مولف کو جزائے خیردے ، اور نوجوانان ملت کو توفیق کہ اس ناسور کا اپنے سماج سے خاتمہ کرسکیں ، اس کی حرمت کیا بیان کی جائے یہ رشوت ہے ، یہ غیرقوموں کی مشابہت ہے ،یہ مہذب بھیک ہے ، یہ اللہ کے قانون کی پامالی ہے ،یہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت ہے ۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے
    آپ کا بھائی صفات عالم محمدزبیر تیمی
    ایڈیٹر ماہنامہ مصباح کویت

تبصرہ ارسال کریں