الحمد لله ثم الحمدلله کہ ہفتہ وار ”گواہ“ کے ایک انٹرویو نے پہلے ایک کتابی شکل اختیار کی اور اس کے بعد کچھ ترامیم اور اضافوں کے ساتھ دوسرا ایڈیشن آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ پہلے ایڈیشن کے ٹائٹل ”مرد بھی جسم بیچتے ہیں ۔۔۔جہیز کیلئے “ پر احباب کا ردِّعمل بہت سخت رہا۔ اس لیے نہیں کہ ٹائٹل غیر اخلاقی یا فحش تھا اس لئے کہ جہیز اور نقدی لینے کا جو لوگ ارتکاب کرچکے تھے اُنہیں اپنے غیر اخلاقی عمل کا احساس ہوا۔ بجائے اس کے کہ وہ اِس احساس کو احساسِ ندامت اور مہلتِ استغفار میں بدلتے، اُنہوں نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ سخت تنقیدی رویّہ اپنایا اور کئی سوالات اُٹھائے جیسے
جوڑا جہیز کے لین دین کو ”حرام“ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
جہیز تو ایک ہدیہ یا تحفہ ہے جو خوشی سے دیا جاتا ہے۔ شریعت اِسے کس طرح حرام قرار دے سکتی ہے؟
شادی کے دن کا کھانا تو مہمان نوازی ہے اِسے کیونکر خلافِ شرع قرار دیا جا سکتا ہے؟
کچھ دوستوں نے اِملا اور کتابت کی غلطیوں کو نشانہ بنایا اور کچھ نے حوالوں کی کمزوریوں کو آڑ بنا کر اصل موضوع سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایسے تمام اعتراضات اور حیلہ بازیوں کی نفسیاتی وجوہات کو باب ”فرار کے فلسفے“ میں بیان کیاگیا ہے۔ بہرحال میں ان تمام معترضین اور ناقدین کا مشکور ہوں کہ اِنکی وجہ سے مجھے شریعت کے احکام اور انکے Applications کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ہند و پاک کے کئی علماء کرام و مشائخین سے اِس موضوع پر استفادہ کرنے کا بھی۔ الحمدلله تقریباً سبھی علماء و مشائخین نے عہدِحاضر کے مروّجہ نظامِ جہیز کے حرام ہونے کی تصدیق کی اور نہ صرف یہ بلکہ اسکے خلاف مہم چلانے کیلئے ہمت افزائی بھی فرمائی۔ اسی کے نتیجے میں جدہ میں سوشیل ریفارم سوسائٹی اور ایک ویب سائٹ کا قیام عمل میں آیا۔
اسلام پوری انسانیت کی فلاح کا دین ہے نہ کہ صرف کسی خاص طبقے، علاقے یا زبان کا۔ لیکن آج ہر ذہن میں یہ سوال گونج رہاہیکہ اسلام کی جو موجودہ شکل ہمارے سامنے ہے کیا حقیقتاً یہ اصل اسلام ہے؟ جن مسائل پر آج سارے مسالک، مذاہب،گروہ اور جماعتیں متحارب At war ہیں کیا ان مسائل کا تعلق پوری انسانیت کی فلاح سے ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو لفظوں میں دین کی تعریف بیان فرمادی کہ ” الدین معاملہ“ یعنی دین معاملہ داری Dealings کا نام ہے۔
ہر انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ جو کچھ رشتہ، تعلق یا معاملہ ہے اگر وہ دین کے اصولوں اور سیرتِ پاک کے نقشِ قدم پر ہو تو اس سے انسانیت کی فلاح ممکن ہے، ورنہ دین کی جو موجودہ شکل مسلمانوں نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے اس سے پورے عالمِ انسانیت کی فلاح تو درکنار خود مسلمانوں کی فلاح ناممکن ہے۔ جب بھی بات ہیومن رائٹس، ویمنس رائٹس، اقوامِ متحدہ کے چارٹر وغیرہ کی آتی ہے ہر مسلمان دانشور یہی دعویٰ پیش کرتا ہے کہ یہ سب چودہ سو سال سے ہمارے پاس موجود ہے۔ سوال یہ ہیکہ آج معاملہ داری پامال ہے، انسانیت سسک رہی ہے اور ہم کِن مسائل کو اسلام بنا کر پیش کررہے ہیں؟
بقول اعتماد صدیقی مرحوم
کیا مرے عہد کا تقاضہ ہے
کیا سدا آ رہی ہے منبر سے
میاں بیوی کے تعلقات اور بالخصوص موقع نکاح، معاملات بین انسانی میں اہمیت کے اعتبار سے سرِفہرست ہیں۔یہ جب تک سیرت کے تابع نہ ہوں ایک صالح معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا۔ اور جب تک ایک صالح معاشرہ کی تشکیل نہ ہو اُس وقت تک سائینس ، تعلیم، ٹکنالوجی، اکنامکس وغیرہ چاہے جتنی ترقی کرلیں انسانیت کو صحیح فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔
یہ کتاب معاشرے کی اصلاح کی جانب ایک حقیر سی کوشش ہے۔ میں ہر قاری سے ملتمس ہوں کہ بارگاہِ رب العزت میں اسکی قبولیت اور توقیر کیلئے دعا فرمائے۔ بقول طارق غازی صاحب ، اندھیروں کو دریافت کرنا کمال نہیں یہ کام برسوں سے ہمارے دانشور کرتے آ رہے ہیں۔ کمال یہ ہیکہ روشنی کی ایک کرن دریافت کی جائے چاہے وہ ایک معمولی جگنو کے برابر کیوں نہ ہو۔ قرآن، حدیث اور ائمّہ سلف سے اخذ کردہ کئی حکمتوں کے خزانے اس کتاب میں محفوظ ہیں جو زندہ ضمیروں، بیدار ذہنوں اور اولوالعزم حوصلہ مندوں پر ہی کھل سکتے ہیں۔ معمولی ہوا سے لچک جانے والے ارادے رکھنے والوں کیلئے اسمیں شائد مزید اعتراضات ہی ڈھونڈھنے کے بہانے ملیں گے۔
چراغ سے چراغ جلتاہے۔ اگر دس فیصد افراد بھی جوڑا جہیز کو مِٹانے کی مہم میں ساتھ ہوجائیں تو ایک عظیم انقلاب برپا ہونے کیلئے منتظر ہے ان شاء اللہ۔
علیم خان فلکی
جدہ( سعودی عرب )
جولائی 2009ء


(ورژن-3 یا آگے)
(ورژن-7 یا آگے)
(ورژن-2 یا آگے)
(ورژن-8 یا آگے)
