نقش نظر

موضوع تو وہی پرانا ہے۔لیکن پھر رات کے اندھیرے میں صبح کی بات تاریکی کو ناگوار ہو تو اس کی شکایت کیا․اور اس کی بھی کیا شکایت کہ اندھیروں سے بیزارلوگوں کو یہی ایک رٹ کیوں رہ گئی کہ ”سحر، سحر، ارے توبہ، سحر نہیں ہوتی “۔
علیم خان فلکی اندھیرے سے ملول ایسے ہی شخص ہیں۔ اور انہوں نے برسوں محنت کرکے کئی اندھیرے دریافت کئے ہیں جن سے امت مسلمہ نبرد آزما ہے۔
موصوف ویسے تو بزنس مین ہیں مگر عمر گزری ہے ملی اجتماعی کاموں میں ۔ساری زندگی کے عملی کام کا ماحصل ان کی سماجی اصلاح کے موضوعات پر تین کتابیں اور کئی مضامین ہیں۔ جسمیں میں انہوں فقط زوال کا رونا نہیں رویا، بلکہ اپنے اختصاص علمی کو تاریخ، نفسیات اور عمرانیاتِ اسلامی سے جوڑ کرعملی اقدامات کے راستے دریافت کئے․ان کی تحقیق کی رو سے یہ خامیاں مسلم معاشرے کے مسلسل انحطاط اور زوال کا باعث ہیں جن کی اصلاح پر مسلم قومیں، معاشرے اور گروہ اقدامی کارروائی کر سکتے ہیں․مسئلہ ہے کام کیسے اور کہاں سے شروع کریں ۔ اس سلسلہ میں مولانا حسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہ) سے کچھ رہنمائی ملتی ہے۔
ایک بار مولانا(رحمۃ اللہ علیہ) ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔سامنے والی نشست پر ایک بڑے شائستہ اور نستعلیق سوٹ بوٹ صاحب تشریف فرما تھے․کچھ ابتدائی بات ہوئی مگر سوٹ صاحب کو مولوی صاحب بڑے دقیانوسی اور قوم کی پسماندگی کی دلیل نظر آئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھی۔کچھ دیر بعد سوٹ صاحب کو بیت الخلا کی حاجت ہوئی۔مگر بیت الخلا کا دروازہ کھولتے ہی انہوں نے ناک پر رومال رکھ لیا اور جھٹ سے دروازہ بند کرکے واپس اپنی نشست پر آبیٹھے․بیت الخلا میں کسی بے ہودہ شخص نے سارے میں غلاظت پھیلا دی تھی۔واقعی کوئی نفاست پسند شخص وہاں ناک نہیں دے سکتا تھا۔سوٹ صاحب کی ضرورت شدید ہوئی تو وہ پھر اٹھے، مگردوبارہ اندر جانے کی ہمت نہ کر سکے اور واپس آگئے۔ایسا تین چار بار ہوا۔ اب مولانا حسین احمد اٹھے۔لوٹا ہاتھ میں لیا اور بلا جھجک بیت الخلا میں داخل ہوکر دروازہ اندر سے بند کر لیا ۔ سوٹ صاحب نے ایک مولوی کی اس بے حسی پر ناک منہ بنایا۔ انہیں یوں بھی کسی مولوی سے تہذیب تمیز کی امید نہیں تھی۔
دس پندرہ منٹ بعد مولانا بیت الخلا سے برآمد ہوئے اور سوٹ صاحب سے کہا:
واقعی اندر بے حد غلاظت تھی اوروہاں جانا آپ کی نفاست پسندطبیعت سے بعید تھا ، مگر آپ کی سخت ضرورت دیکھ میں نہ رہ سکا۔میں نے بیت الخلا کو خوب اچھی طرح دھو دیا ہے۔اب آپ اطمینان سے جا سکتے ہیں․

تو بات غلاظت کوصاف کرنے کی ہے․ملت کے چاروں طرف زوال، انحطاط، نکبت، عیاشی،افلاس، زر اندوزی کی غلاظتوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں․ہر شخص تو ناک پر ہاتھ رکھ کر گھر میں جابیٹھتاہے۔کوئی توجہ دلائے تو لوگ اس کے سر ہوجاتے ہیں۔ تو زوال و انحطاط کی وہ گندگی صاف کیسے ہوگی۔
”مرد بھی بکتے ہیں۔۔جہیز کیلئے“ میں علیم خان فلکی نے شہر اسلام کے ان محلوں کی نشان دہی کردی ہے جہاں کام کر نے کی ضرورت ہے ۔ مولانا حسین احمد کا انتقال ہوئے 53 برس گزر گئے کہ انہی کو اس کام پر لگاتے۔اب کرنا ہے تو اپنے سوٹ بوٹ اتار کر یہ کام خود کیجئے ،یا یہ دیکھئے کہ کوئی حسین احمداس قسم کے کام میں کہیں لگا ہوا ہے․ورنہ شکایتوں کا دفتر بندکرکے اپنے سوٹ کی کریز درست کرتے رہیئے۔

اتنا بڑا کام ہے کہ نہ تو اس کی تکمیل ایک آدمی کے بس میں ہے نہ ایک تنظیم کے۔ ․پھر بعض کام تو ایسے ہیں کہ بظاہراصلاح کا کوئی امکان دور دور نظر نہیں آتا۔ مثلاً کوئی جان کا نہیں تو عقل کادشمن ہی ملکوں کی سیاست میں تبدیلی کی بات کرے گا۔ عفریتوں سے کون مقابلہ کریگا․پھر ان ہی عفریتوں کے نثری، شعری،تقریری قصیدے پڑھ پڑھ کے تو اپنے دینی ملی کاموں کے لئے فنڈ اور اپنے گھروں کے لئے قالین ملتے ہیں۔ معاش کااونٹ انفرادی کروٹ ہی سیدھا نہیں بیٹھتا، تو اجتماعی کی بات کیسے کریں․سماج میں ایک علیم خان فلکی کو تو دس آدمی نہ ملے ایک تنہا حیدرآباد میں جہیز اور جوڑے کی لعنت کے خلاف کام کرنے کے لئے․مگر پھر علیم خان بھی گھر بیٹھ رہیں تو اگلے سو سال اور اس عذاب کو جھیلنا پڑے گا۔اب کم سے کم چوتھی نسل تو امید کرسکتی ہے کہ یہ وبا اس کے زمانے میں مٹ چکی ہوگی۔

مسائل انبار بر انبارہیں․ساری دنیا میں سارے مسلمانوں کے مسائل ایک سے بھی نہیں ہیں۔اس لئے اس سطح پر تو اجتماعی اصلاح کی بات سوچنا ہی غلط ہے۔ہاں بہت چھوٹی سطح پر کا م کا آغاز ممکن ہے۔ علیم خان فلکی نے کتابی سطح پر سوچنے والے دماغ اور مستقبل بیں آنکھ کی ایک مثال تو قائم کر دی۔ اب اس کام کو عمل کی دنیا میں برپا کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔اس مرحلہ میں یہ احساس کسی ایک فرد یا جماعت میں ہونا چاہیئے کہ معاشرے کو کسی تبدیلی کی ضرورت ہے․مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں الحمد للہ یہ احساس پایا جاتا ہے۔کہ امت مسلمہ کو اجتماعی طور پر کچھ تبدیلی درکار ہے۔ مگرہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ کس نوعیت کی تبدیلی درکار ہے اور اس کے لئے کیا کرنا چاہیئے۔ جن افراد کو یہ احساس ہے وہ عموماً اوروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ تبدیلی لے آئیں، یا پھر کہیں غیب سے کوئی شخص اٹھ کر یہ کام کر ڈالے۔
مَردے از غیب بروں آید و کارے بکند

علیم خان فلکی کی فکر اس سمت میں ایک مثبت رہنمائی کرتی ہے۔ ایک عرصہ سے یہ ان کی زندگی کا مقصد ہے۔اس مسئلہ کو عوام کے سامنے رکھنے کے لئے انہوں نے کم و بیش بیس سال پہلے سیمینارز اور جلسوں کے ذریعے یہ کام شروع کیا تھا۔انہوں نے اس موضوع پر جدہ میں جو پہلے پہل جلسے منعقد کیے ان کو مرحوم مجاہدالاسلام قاسمی (رحمۃ اللہ علیہ) اور ڈاکٹر اسرار احمد صاحبان نے مخاطب فرمایاتھا۔ مجھے بھی اس میں کچھ گفتگو کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔علیم خان فلکی تب سے دن رات اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے قرآن و حدیث کی سندیں، عقلی دلائل، اور معاشرتی روایات کو اس کتاب میں یکجا کردیا ہے․یہ کتاب ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔

بظاہر تو کام پورا ہوگیا۔لیکن سچ یہ ہے یہ کتاب اصل کام شروع کرنے کا نقارہ ہے۔ نہ محض کتاب لکھنا کوئی مقصد تھا اور نہ بات کہہ دینا خواہ کوئی سنے نہ سنے․یہ تو ایک اہم معاشرتی معاملہ میں امت کو صحیح اسلامی نہج پر واپس بلانے کی مسلسل کوشش کا ایک حصہ ہے اور ایک امتحان بھی ہے۔سوال یہ ہے کہ قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ کی سند کے بعد کیا کوئی دلیل شادی بیاہ کی فضول رسموں، جوڑے جہیز کے ظالمانہ مطالبات کے جرم کے حق میں باقی رہ جاتی ہے؟ اس کے بعد بھی کوئی ان رسومات پر اصرار کرے تو وہ توبہ کب کرے گا؟ اورجب ان دلائل کے بعد جوڑے گھوڑے، تلک جہیزوغیرہ جیسی سماجی لعنتوں کے حق میں کوئی دلیل باقی نہیں تو علیم خان فلکی کی درخواست سن کر بہرا بن جانا توخود اپنی جان پرہی نہیں پوری قوم پر اور بھی بڑا ظلم ہوا ۔ہاں فلاح و فوزان کا حصہ ہوگی جو اس بات سے متفق ہو کر اول تو اپنے گھر میں ایسی رسومات کے خاتمہ کا اعلان کریں، اور پھر معاشرے میں اپنے اپنے طور پراصلاح کا کام شروع کر دیں۔تو حالات تبدیل ہونے میں کتنی دیر لگے گی۔

امید بلکہ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ عزیز محترم علیم خان فلکی کی اس کتاب کوبرصغیر کے مسلمانوں میں ایک معاشرتی انقلاب کا ذریعہ بنا دے، ان کی مسلسل کوشش کو بار آور کرے، ہمارے معاشرہ کے بڑوں اور والدین کوتباہ کن برائیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔

محمد طارق غازی
آٹوا ، کینڈا
سہ شنبہ 13 رجب 1430 / 7 جولائی 2009ء

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں