چند ضروری وضاحتیں

# اس کتاب میں جہیز کے لفظ ساتھ لفظ ” جوڑا “ کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔ دکن میں یہ لفظ محاورتاً اُس نقد رقم یا کسی بھی معاملے (Deal) کو کہا جاتا ہے جو دُلہا کو جہیز کے ساتھ دی جاتی ہے۔ یہی چیز پاکستان میں سلامی یا معیاری شادی کہلاتی ہے اور بِہار میں ”تِلک “ ، کیرالا میں ” استری دھن “ ، ٹامل ناڈو اور سری لنکا میں ”ورو دکھشنا“ ، شمالی ہند میں ”ھُنڈا “ یا ”ھَنڈا“ اور بنگلہ دیش میں ” روتک“، مہاراشٹرا میں ”روکڑا“ کہلاتی ہے۔

# اس کتاب کے پہلے ایڈیشن ”مر د بھی جسم بیچتے ہیں․․․․جہیز کے لیے“ میں کتاب کے ٹائٹل ، کتابت اور حوالوں پر قارئین نے جہاں توجہ دِلائی تھی وہیں یہ بھی اعتراض تھا کہ جوڑا جہیز کو مکروہ تو کہا جاسکتا ہے لیکن حرام کیونکر؟ اسلئے اِس بار قرآن ، حدیث اور ائمّہ سلف سے وہ تمام ثبوت پیش کردیئے گئے ہیں جن کی بنیاد پر اِسے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجوداگر کوئی اصرار کرے کہ یہ جائز ہے تودرخواست ہے کہ وہ ایک بار درج ذیل ابواب کا دوبارہ بغور مطالعہ فرمائیں :
فرار کے فلسفے، رشوت ، سُحت، جوڑا جہیز ․․․ ایک مہذّب بھیک ، حلال کمائی اور دعاؤں کی قبولیت کی شرط ۔

# دانستہ طور پر اہم نکات کا دوہرانا (Repeatation) ناگزیر تھا۔ ایک ہی بات کو الگ الگ پس منظر میں دوہرانے بلکہ تکرارکرنے کا اسلوب ہمیں قرآن سے ملتاہے جسمیں نبیوں کے تذکرے، یہودیوں ،نصرانیوں اور مشرکوں کے قصّے، آخرت ، جنّت اوردوزخ وغیرہ کے مضامین بکثرت دوہرائے گئے ہیں۔ پانی کا قطرہ اگر بار بار پتھر پر ٹپکے تو پتھر میں بھی سوراخ ہو ہی جاتا ہے۔ شاید قرآن بھی آیات کی اس لیے بار بارتکرار کرتا ہیکہ سخت دِلوں اور پتھر ذہنوں میں بھی سوراخ ہو اور بات احساس تک پہنچے۔

# میں طوالت کے لیے معافی کا درخواست گزار ہوں کہ میرے پیشِ نظر وہ قاری زیادہ ہیں جو اشاروں کنایوں میں بات نہیں سمجھتے۔یا سمجھنا نہیں چاہتے ۔ ان کی نظر میں جوڑا جہیز ایک برائی ضرور ہے لیکن جو لین دین وہ کر رہے ہیں اسمیں کوئی برائی نہیں۔ اس لیے اِس میں ملوّث 90 فیصد لوگ اپنے آپ کو بَری اور مستثنیٰ Exemptedسمجھتے ہیں۔ اس لیے اُن کا گریبان پکڑ کر اُنہیں ہر دلیل کے ساتھ یہ سمجھانا ضروری ہے کہ جناب یہ قرآن، حدیث اورتمام دیگر دلائل صرف آپ سے مخاطب ہیں۔

# جہیز کی حرمت ، شادی کے دن کا کھانا جو لڑکی والوں کی طرف سے کھلایا جائے اسکا اور دیگر رسومات کا ناجائز ہونا اہل سنت الجماعت اور اہل تشیع کے تمام مسالک میں ثابت ہے ۔ اس لیے اس کتاب میں تمام مسالک ، مذاہب اور مکاتبِ فکر کے علماء سے استفادہ کیا گیا ہے ۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں