روابط

کتاب “مرد بھی بکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کیلئے” پر کچھ تبصرے ۔۔۔
  • مرد بھی بکتے ہیں ، جہیز کے لیے — تعارف و تبصرہ
    تبصرہ نگار : نثار احمد حصیر القاسمی

    محترم جناب علیم خان فلکی حد درجہ لائق داد و تحسین اور مستحق سپاس ہیں کہ انہوں نے ان لعنتوں کے خلاف نہ صرف قلم اٹھایا بلکہ ایک تحریک شروع کی ہے اور مسلم معاشرے کو بڑی جراءت و ہمت کے ساتھ جھنجھوڑنا شروع کیا ہے۔
    زیر نظر کتاب ” مرد بھی بکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کے لیے” اسی تحریک کی ایک کڑی ہے جس میں انہوں نے نہایت مستند دلائل کی روشنی میں اس لعنت کی حرمت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے نہایت خوش اسلوبی اور داعیانہ لب و لہجہ میں جہیز اور شادی کے موقع پر انجام دی جانے والی غیر شرعی اور فضول خرچی پر مبنی رسوم کا تفصیل سے جائزہ لیا اور امت کی دکھتی رگ پر انگلی رکھنے کی کوشش کی ہے۔
    جہیز اور جوڑے گھوڑے کی روک تھام کے لیے جو بھی کوششیں اب تک ہوئی ہیں ان میں زیر نظر کتاب سب سے جامع اور مفصل ہے ، زبان عام فہم اور اسلوب سادہ ہے تاکہ یہ پیغام امت کے ہر طبقہ تک آسانی کے ساتھ پہنچ سکے اور ہر خاص و عام کے لیے اس سے استفادہ آسان ہو۔

    فاضل مؤلف نے جہیز کے جواز کے قائل اور اس میں تساہل و مداہنت برتنے والوں کا جواب بھی نہایت مدلل انداز میں دیا ہے۔ کتاب کو ابواب و فصول پر تقسیم کرنے کے بجائے جہیز اور نکاح سے متعلق دیگر غیر اسلامی رسم و رواج کو مختلف عنوانات قائم کر کے ذکر کیا ہے۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھئے ۔۔۔

  • جہیز کی حرمت پر علیم خان فلکی کی ایک مدلل اور جامع تحقیق
    تبصرہ نگار : محمد مجاہد سید (جدہ)

    شگفتہ نثر لکھنے والے نہایت مخلص و دردمند ادیب اور سماجی کارکن علیم خان فلکی نے اپنی تالیف “مرد بھی بکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کیلئے” میں کاغذ پر اپنا دل نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انسانی معاشرہ جتنا قدیم ہے ، سماجی امراض بھی اتنے ہی پرانے ہیں۔
    علیم خان نے اس کتاب میں مسلم معاشرے کے زوال کی ایک بڑی نشانی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ حرمت کے قریب پہنچنے والی جہیز کی لعنت پر مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے۔ بنجارہ ہلز میں سکونت پذیر طبقہ اگر یاقوت پورہ اور مغل پورہ کی گلیوں میں سماجی اصلاح کی کوشش کے لئے اپنی شیروانی میلی کرتا پھرے تو بار بار اپنی آنکھوں کو مل کر اور چشمے کا شیشہ صاف کر کے ایسے بھلے آدمی کا چہرہ ٹھیک سے دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔
    علیم خان تعلیم یافتہ اور خوشحال ہیں اور اپنی بیٹی تو کیا دوسرے ضرورت مند لوگوں کی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر سکتے ہیں بلکہ دھوم دھام سے کر سکتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہے کہ بنجارہ ہلز کے نشیب میں ۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھئے ۔۔۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *