<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مرد بھی بِکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کے لیے</title>
	<atom:link href="http://jahez.aleemkhanfalaki.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com</link>
	<description>Dowry ... A form of Male prostitution</description>
	<lastBuildDate>Tue, 20 Oct 2009 07:22:54 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.4</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>جوڑا جہیز اور وراثت کا مسئلہ</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jahez-warasat/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jahez-warasat/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 18:32:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[جہیز کا لزوم]]></category>
		<category><![CDATA[مسئلہ وراثت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=210</guid>
		<description><![CDATA[ہندو دھرم میں جہاں عورت کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ، جہیز کے ذریعے اس کے ساتھ انصاف کر دیا جاتا ہے۔
اسلام نے عورت کو باپ اور بھائی کی وراثت کا حقدار قرار دیا ہے۔ لیکن جوڑا جہیز کے لزوم compulsion نے لوگوں کو احکامِ وراثت سے منہ موڑنے پر مجبور کر دیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہندو دھرم میں جہاں عورت کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ، جہیز کے ذریعے اس کے ساتھ انصاف کر دیا جاتا ہے۔<br />
اسلام نے عورت کو باپ اور بھائی کی وراثت کا حقدار قرار دیا ہے۔ لیکن جوڑا جہیز کے لزوم compulsion نے لوگوں کو احکامِ وراثت سے منہ موڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اکثر یہ شکایتیں سامنے آتی ہیں کہ عورتوں کو وراثت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ شریعت کی ایک صریح نافرمانی ہے کیونکہ قرآن نے وراثت کے احکامات کے ذریعے مردوں اور عورتوں کے حقوق کے درمیان ایک انصاف قائم کیا تھا جس کو مرد پامال کر رہے ہیں۔<br />
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لڑکیوں کو جوڑا جہیز دیا جائے تو لڑکوں کے ساتھ انصاف کہاں قائم رہتا ہے؟ ایسے خوشحال گھرانے معاشرے میں پانچ دس فیصد ہی ہوتے ہیں جن کے مال میں لاکھوں کا جہیز دینے کے بعد بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن %90 تو وہ گھرانے ہوتے ہیں جہاں ایک باپ کو بیٹیوں کا جہیز دینے کے بعد بیٹوں کو دینے کچھ نہیں بچتا۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ ایک باپ جتنا بیٹیوں کے جہیز پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتا ہے اس کا آدھا بھی بیٹوں کو نہیں دے سکتا۔ اب یا تو لڑکیوں کو جہیز دینے کے بعد باقی مال بھائیوں کو وراثت میں دے دیا جائے یا پھر جوڑا جہیز کو بند کیا جائے۔ تاکہ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابر کا انصاف ہو۔ ورنہ کسی ایک کے ساتھ تو ناانصافی یقینی ہے۔<br />
جب تک جوڑا جہیز سوسائیٹی سے ختم نہیں ہوگا بھائی اپنی بہنوں کو حقِ وراثت سے محروم کرتے رہیں گے اور بہنیں جوڑا جہیز کی وجہ سے بھائیوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتی رہیں گی۔<br />
ہر دو صورتوں میں شریعت کی نافرمانی کی سزا میں فتنہ ، فساد اور نفرتیں پروان چڑھیں گی اور انصاف کے لئے غیر شرعی کورٹ اور وکیلوں کے دروازے کھٹکھٹانا پڑے گا۔<br />
ظاہر ہے جوڑا جہیز ایک غیر اسلامی رسم ہے ، اس کی خاطر وراثت کے نصوصِ قرآنی تو نہیں بدلے جا سکتے۔ لیکن سوال یہ ہنوز باقی ہے کہ پھر لڑکوں کو انصاف کیسے ملے گا؟</p>
<p>یہ مسئلہ ہمارے علماء ، مشائخین ، جماعتوں اور دانشوروں کے لئے فوری توجہ کا طالب ہے۔ ہاں اگر عورت چاہے تو یہ مسئلہ آج ہی ختم ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے مردوں کو عورت کی تربیت کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ جو آج کے مردوں کے لئے ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jahez-warasat/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جوڑا جہیز کے خاتمے سے فائدے</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/faidey/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/faidey/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2009 19:07:37 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=208</guid>
		<description><![CDATA[چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رَفَعْنَا لکَ زِکرک دیکھے
» اگر دس فیصد لوگ بھی جوڑا جہیز کا خاتمہ کر کے شادی کو مکمل ’ النکاح من سنتی ‘ کی بنیاد پر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس کا سب سے پہلا اثر مسلمان معاشرے ہی پر پڑے گا ۔ اور ایک انقلاب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے<br />
رفعتِ شانِ رَفَعْنَا لکَ زِکرک دیکھے</span></p>
<p>» اگر دس فیصد لوگ بھی جوڑا جہیز کا خاتمہ کر کے شادی کو مکمل ’ النکاح من سنتی ‘ کی بنیاد پر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس کا سب سے پہلا اثر مسلمان معاشرے ہی پر پڑے گا ۔ اور ایک انقلاب آجائے گا ۔<br />
» مسلمانوں ہی کی نہیں ملک کی معاشی حالت بدلے گی ۔ دلہن کے بھائی کاروبار کرنے کے قابل ہوجائیں گے جو پیسہ جوڑا جہیز میں ضائع ہونے سے بچ جائے گا اس کو کاروبار میں لگا کر دوسرے اور لوگوں کے روزگار کا بھی ذریعہ بنیں گے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ رزق کے اللہ تعالیٰ نے دس دروازے رکھے ہیں ، جس میں نو تجارت کرنے والے کے ہیں ۔ کسی بھی ملک یا شہر کو دیکھےئے وہی گروہ اصل حاکم ہوتا ہے جو تجارت میں آگے ہوتا ہے ۔<br />
» جب لوگوں پر کمانے کا بوجھ نہیں ہوگا تو جھوٹ ، رشوت ، دھوکہ ، فریب وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑے گی وہ اپنا وقت اچھے کاموں کے لیے نکال سکیں گے ۔<br />
» جو نکاح علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے طریقے پر ہوگا اس سے حضرت حسن (رضی اللہ عنہ) و حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) جیسی اولاد بھی ممکن ہے۔ لیکن جس نکاح کا طریقہ جائز نہ ہو اس نکاح سے ایسی نسل پیدا ہونا ناممکن ہے۔<br />
»  اگر کمائی حلال ہوجائے گی تو نکاح میں برکت ہوگی، دعوں کی قبولیت کے باب کھل جائیں گے ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">مرد کی حاکمیت قائم ہوگی</span></p>
<p>مرد کو اللہ تعالیٰ نے خود قوّامیت بخشی ہے۔ اگر وہ جوڑا جہیز سے بے نیاز ہوجائیگا تو قوّام کہلانے کا اہل بھی ہوگا۔ اور عورتوں میں بھی صبر، شکر ، قناعت اور توکّل پیدا ہوگا۔ لڑکی والوں کے اصرار کرنے کے باوجود جب مرد شریعت کو ترجیح دیتے ہوئے لینے سے سختی سے انکار کریگا تو دوسری قوموں کے دل میں بھی شریعت کی عزت بڑھے گی۔<br />
میاں بیوی کے اختلافات میں ایک اہم رُخ یہ بھی ہوتاہیکہ بیوی اپنے لائے ہوئے مال کیوجہ سے حکمرانی جتاتی ہے۔ علحدگی کی صورت میں مرد کو پورا مال واپس کرنے کا خوف رہتا ہے جس کی وجہ سے دونوں چالیں چلتے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات دھرتے ہیں۔ اگر مرد نے کوئی مال نہ لیا ہوتو نہ اسے واپس کرنے کا خوف ہوتا ہے نہ عورت کے دل میں مال کے ڈوبنے کا خوف۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">یونیفارم سیول کوڈ غلط کیوں؟</span></p>
<p>اگر مسلمان جوڑا جہیز کی لعنت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یونیفارم سیول کوڈ کا مطالبہ کرنے والے خود شرمندہ ہونگے۔ ورنہ انکا مطالبہ صحیح ہیکہ جب مسلمان اپنی شریعت کے خلاف ہندو ہی کی طرح جوڑا جہیز تِلک اور استری دھن تو وصول کرتا ہے لیکن طلاق کے معاملے میں آکر شریعت کی آڑ ڈھونڈھتا ہے تو یہ عورت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اسلئے اسکو ہندو ہی کیطرح ایک یونیفارم سیول کوڈ کا پابند کیوں نہیں کرنا چاہئے۔ ۔<br />
دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جیسا کہ وی ٹی راج شیکھر جو کہ مشہور دلت لیڈر ہیں اپنی کتاب ”برہمن، مسلم پرسنل لا کا دشمن کیوں“ میں لکھتے ہیں کہ:<br />
”جس دن ہندو عورت کو ان حقوق کا پتہ چلے گا جو اسلام نے عورت کو دئیے ہیں تو وہ ایک دن بھی ہندوازم میں باقی نہیں رہے گی “۔<br />
ہزاروں غیر مسلم آج شادی بیاہ اور جہیز کے بوجھ سے خود کشی پر مجبور ہیں ، ان لوگوں کو ایک نئی روشنی مل جائے گی ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">لڑکیوں کی پیدائش کو منحوس تصوّر کرنے والی قوم</span></p>
<p>لڑکیوں کو پیدائش کو منحوس تصوّر کرنا تاریخ میں نیا نہیں ہے۔ ہر دور میں مشرک قوموں کا یہ چلن رہاہے، جیسے کہ قرآن یوں بیان کرتا ہے کہ<br />
<strong><span style="font-family: Traditional Arabic, Tahoma;">وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالأُنثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيم<br />
يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلاَ سَاء مَا يَحْكُمُون<br />
النحل:58-59</span></strong><br />
ترجمہ: جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی تو اسکے چہرے پر کلونس چھا جاتی۔ اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا۔ لوگوں سے چُھپتا پھرتا کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے گا۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کے ساتھ رہے یا مٹی میں دبا دے۔ دیکھو کیسے برے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگاتے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">آخری بات</span></p>
<p>مذکورہ آیات یہ بتارہی ہیں کہ اسلام کی دعوت کیلئے ہندوستان کی سرزمین انتہائی سرسبز ہے۔ ہندو دھرم آج ایک اصلاحی مرحلے Reforming stage میں ہے۔ ایک طرف ہندوتوا طاقتیں نفرت پھیلارہی ہیں تو دوسری طرف ان کا تعلیم یافتہ طبقہ دھرم کی غیر سائنٹفک خرافات سے بیزار ہے۔ مسلمانوں کو کئی سازشوں کے ذریعے ہندو عوام سے دور کرنے کا واحد مقصد ایک تعلیم یافتہ ہندو کو اسلام کی تعلیمات سے دور رکھنا ہے۔ ایسے وقت میں اگرایک ایک مسلمان اپنے پڑوسی، ساتھ کام کرنے والے اور بستی کے دوسرے لوگوں کے سامنے اسلام کا دیا ہوا صحیح اخلاقی نظام پیش کردے تووہ کروڑوں مشرکوں کیلئے توحید کا پیغامبر بن سکتاہے۔ اگر یہ کام مشائخین لے کر اٹھیں تو ہندوستان میں اولیاء اللہ کے کارنامے زندہ ہوجائیں، اگر جماعتیں اس کام کو لے کر اٹھیں تو جمہوری طاقتیں ان کے قدموں میں جھک جائیں۔ قائدین اگر اس کام کو لے کر اٹھیں تو ان کانام تاریخ میں محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی اور امام الہندابوالکلام آزاد کی طرح روشن ہوجائے۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/faidey/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایک عام آدمی کا رول</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/aam-admi-role/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/aam-admi-role/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2009 05:06:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=206</guid>
		<description><![CDATA[تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے
تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے
کونسی جماعت صحیح ہے؟
آج یقیناً بے شمار جماعتیں ، سلسلے، انجمنیں، تحریکیں، عقائد، مسالک اور مدارس ہیں۔ ہر عالمِ دین اپنے حق ہونے کے دلائل پیش کررہاہے اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری<br />
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے<br />
تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا<br />
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">کونسی جماعت صحیح ہے؟</span></p>
<p>آج یقیناً بے شمار جماعتیں ، سلسلے، انجمنیں، تحریکیں، عقائد، مسالک اور مدارس ہیں۔ ہر عالمِ دین اپنے حق ہونے کے دلائل پیش کررہاہے اور دوسرے کی تکفیر کررہاہے۔ ایک عام مسلمان برسوں سے بلکہ دو ڈھائی سو سال سے اس سوال سے پریشان ہیکہ صحیح کس کو کہے اور غلط کس کو۔ دین پر مر مٹنے کا جذبہ ہر دل میں ہے لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہاہے کہ دین کا کو نسا حکم پہلے ہے کو نسا بعد میں ہے۔ ایسے وقت میں ایک مسلمان کیلئے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہیکہ وہ شریعت کی بالادستی چاہتا بھی ہے یا نہیں۔<br />
ہندوستان میں اگر مسلمانوں کا غلبہ ممکن ہے تو صرف ایک صورت میں۔ وہ یہ کہ ہندو معاشرے میں اسلام کے صحیح سماجی اور اخلاقی نظام کو پیش کریں۔ لوگ آپ کی نمازوں کو دیکھتے ہیں نہ داڑھی کی سائز کو، نہ آپ کے وظائف ان کے کام آنے والے ہیں نہ تقریریں۔آپ کی جماعت ان کیلئے اہم ہے نہ سلسلہ یا مسلک۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کی سوسائٹی میں لڑکیوں کی پیدائش ایک عذاب ہے یا رحمت۔ اسکی شادی ایک بوجھ ہے یا سچی خوشی ہے۔ اسکے لئے کمانے کے طریقے اخلاقی ہیں یا غیر اخلاقی۔<br />
یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ کیا واقعی آپ شریعت کی بالادستی چاہتے ہیں ہم آپ کو ایک طریقہ بتانا چاہیں گے۔ یہ وہ طریقہ ہے جسکی مخالفت نہ کوئی جماعت کرسکتی ہے نہ کوئی مدرسہ یا سلسلہ اس پر انگلی اٹھا سکتاہے۔ اسمیں نہ کسی دیوبندی بریلوی کا اختلاف ہے نہ شیعہ سنّی کا۔<br />
وہ طریقہ یہ ہیکہ آپ <span style="text-decoration: underline;">سوشیل ریفارم</span> سے اپنے کام کا آغاز کریں۔<br />
جوڑا جہیز کے نظام نے نہ صرف سوسائٹی کو بلکہ پورے اسلام کے نام کو برباد کیا ہے۔ اس کو مٹانے کے لیے اٹھنا دورِ حاضر میں مکہ کی زندگی کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مشن کو لے کر اٹھنے کے برابر ہے۔ جب تک آپ کے پاس انسانیت کے درد کا درماں نہ ہو ، لوگ دل سے آپ کونہ اپنا ہمدرد و بہی خواہ تسلیم کریں اور نہ آپ کے دین کو قبول کریں گے۔ اس کام کے لیے آپ کو پہلے ایک اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔ یوں سمجھ لیجیئے کہ آپ کے سامنے دو پارٹیاں ہیں۔ آپ کو کسی ایک کو ووٹ دے کر اُسے اہم اور دوسرے کو غیر اہم قرار دینا ہے۔ یاد رکھئے جس کو آپ ووٹ دینگے وہ آپ کو بھی عزت دے گا۔ کس کی دی ہوئی عزت آپ کو پیاری ہے یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ یہ ووٹنگ ایک دو بار نہیں، قدم قدم پر ہے۔آپ نے کبھی ایک کو ووٹ دیا اور کبھی دوسرے کو ، تو یہ منافقت ہوگی۔ اس منافقت میں نہ آپ کبھی سربلند ہونگے نہ آپ کے دین و قوم۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">آپ کس پارٹی کے ساتھ ہیں؟</span></p>
<p>ذیل میں دس سوال دئے گئے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیئے کہ دو پارٹیاں ہیں ایک پارٹی ”ز“ ہے اور دوسری پارٹی ”ش“ ہے۔<br />
ہر سوال کے حق میں دو جواب ہیں ایک ”ز“ کی جانب سے اوردوسرا ”ش“ کی جانب سے۔<br />
آپ کو کوئی ایک جواب منتخب کرنا ہے۔<br />
آخر میں پتہ چل جائگا کہ آپ کس پارٹی کے آدمی ہیں۔<br />
جو جواب آپ کو صحیح لگے، اس کے بٹن کو کلک (click) کیجئے۔</p>
<table border="1" cellspacing="1" id="table1">
<tr>
<th bgcolor="#C0C0C0">نمبر شمار</th>
<th width="100%" bgcolor="#C0C0C0">سوال</th>
<th bgcolor="#C0C0C0">ز</th>
<th bgcolor="#C0C0C0">ش</th>
</tr>
<tr>
<td>1</td>
<td colspan="3">جہیز</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">جہیز اگر خوشی سے دیا جائے توجائز ہے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V1" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">خوشی سے دیاجائے یا سوشیل بلیک میل کی وجہ سے ، ہرگز جائز نہیں</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V1" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>2</td>
<td colspan="3">جوڑا، تلک، استری دھن یا اسکے بدلے کوئی اور Deal</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">والدین کی خواہش یا لڑکی والوں کے اصرار پر لینا جائز ہے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V2" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">یہ الرجال قوامون ۔۔۔ کے خلاف ہے ، لینا ہرگز جائز نہیں</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V2" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>3</td>
<td colspan="3">نکاح</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">نکاح بے شک مسجد میں ہو، وداعی شادی خانے سے ہو یہ دستور ہے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V3" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">نکاح مسجد میں ہو، دلہن اسکے گھر سے وداع ہو، یہ سنّت ہے</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V3" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>4</td>
<td colspan="3">شادی کے دن کا کھانا</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">کھانا معیاری ہونا چاہئے تمام دوست و رشتے دار جمع ہونا چاہئے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V4" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">لڑکی والوں کے خرچ پر اپنے مہمانوں کو کھلانا بے غیرتی اور ناجائز ہے</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V4" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>5</td>
<td colspan="3">مہر</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">فوری ادا کرنا ضروری نہیں ، بعد میں کبھی ادا کیا جا سکتا ہے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V5" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">اِسے فوری ادا کرنا واجب ہے ورنہ زانیوں میں سے اٹھایا جائیگا</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V5" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>6</td>
<td colspan="3">ولیمہ</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">شاندار پیمانے پر ہو، ہر شخص تعریف کرے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V6" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">حسبِ استطاعت ہو، انتہائی سادہ ہو چاہے کسی کو پسند نہ آئے</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V6" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>7</td>
<td colspan="3">تحفے</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">تعلقات کی بنیاد پر دینا چاہئے ، اس سے عزت بڑھتی ہے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V7" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">دینے وقت صرف اللہ کی رضا دل میں ہو، نہ کہ عزت</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V7" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>8</td>
<td colspan="3">شرکت</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">تعلقات کی بنیاد پر ہر شادی میں شرکت کرنا چاہئے چاہے جیسی ہو</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V8" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">چاہے تعلقات خراب ہوجائیں اگر شادی میں جوڑا جہیز، کھانا یا اسراف ہو تو ہرگز شرکت نہیں کرنا چاہئے ، مکمل بائیکاٹ ہو</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V8" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>9</td>
<td colspan="3">جو لے چکے وہ کیا کریں</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">اللہ معاف کرنے والا ہے، جو لے چکے اُسے بھول جانا چاہئے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V9" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">یہ رشوت تھی جس کا لوٹانا فرض ہے، چاہے وہ واپس نہ لیں ، یہ ناجائز ہے</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V9" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>10</td>
<td colspan="3">امر بالمعروف نہی عن المنکر</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">یہ رسم مٹانا ناممکن ہے، اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے ، کہہ کر اپنے تعلقات خراب کرنے نہیں چاہئے</td>
<td bgcolor="#FFD7D7">
<input type="radio" name="V10" value="ON"></td>
<td bgcolor="#FFD7D7">&nbsp;</td>
</tr>
<tr>
<td>&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">منکرات سے روکنا فرض ہے چاہے کوئی سنے یا نہ سنے</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">&nbsp;</td>
<td bgcolor="#E6FFE6">
<input type="radio" name="V10" value="ON"></td>
</tr>
<tr>
<td colspan="4" height="2px">&nbsp;</td>
</tr>
</table>
<p>’ز‘ پارٹی سے مراد زمانہ ہے<br />
اور<br />
’ش‘ پارٹی سے مراد شریعت ہے۔<br />
آپ اپنے ووٹوں کا Total کیجیئے اور دیکھیئے کہ آپ نے کس کے حق میں زیادہ ووٹ دیئے ہیں؟<br />
اگر آپ کے ووٹ شریعت کے حق میں زیادہ ہیں تو الحمدللہ ، آج سے سچے دل سے عہد کیجئے کہ آپ اپنے ووٹ پر قائم رہیں گے اور منافقت ہرگز نہیں ہونے دینگے۔<br />
اور اگر آپ کے زیادہ ووٹ” ز“ پارٹی کیلئے ہیں تو درخواست ہیکہ ایک بار پھر پوری کتاب پڑھ کر اسکے خلاف دلائل جمع کیجئے اور مطمئن ہو جائیے کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مرضی کے مطابق ہے۔ آپ کو کئی ایسے مولوی اور ملّا مل جائیں گے جو ان تمام واضح احکامات کی خلاف ورزی کے باوجود جنت اور شفاعت اور مغفرت کے طریقے بتاسکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/aam-admi-role/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>غریب لڑکیوں کی شادیاں کروانے والی انجمنوں کا رول</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/anjuman-role/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/anjuman-role/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2009 03:35:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=204</guid>
		<description><![CDATA[یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتاہے
گلیمِ بوذر(رض) و دلقِ اویس(رض) و چادرِ زہرا(رض)
اکثر اخبارات میں یہ خبریں معہ تصاویر نظر سے گذرتی ہیں کہ مختلف تنظیموں کی مدد سے پچیس پچاس جوڑوں کی شادیاں منعقد ہوئیں۔ ہر دلہے کے جہیز میں فلاں فلاں چیز دی گئی ۔ تصویر میں دلہوں کے ہجوم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتاہے<br />
گلیمِ بوذر(رض) و دلقِ اویس(رض) و چادرِ زہرا(رض)</span></p>
<p>اکثر اخبارات میں یہ خبریں معہ تصاویر نظر سے گذرتی ہیں کہ مختلف تنظیموں کی مدد سے پچیس پچاس جوڑوں کی شادیاں منعقد ہوئیں۔ ہر دلہے کے جہیز میں فلاں فلاں چیز دی گئی ۔ تصویر میں دلہوں کے ہجوم کے درمیان منتظمین Organisers اور شہر کی ایک دو اہم شخصیتیں بھی ہوتی ہیں ۔<br />
یہ بات قابل تعریف ہے کہ کسی نے تو غریب لڑکیوں کے بارے میں سوچا۔لیکن جہاں تک ان غریب لڑکیوں کی خدمت کے طریقہ کار کا تعلق ہے یہ غلط ہے ۔ اسلام جس جوڑے جہیز ہی کے نظام کو حرام قرار دیتا ہے بجائے اُسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اس کو قائم رکھنے کے لیے چندہ جمع کرنا ، نہ شرعی طور پر مستحسن ہے نہ اخلاقی طور پر ۔ چندہ ضرور جمع کیجئے لیکن اس سے علماء اور اچھے مقررین کو بلا کر ان نوجوانوں کی ذہن سازی کیجئے کہ جو جہیز انہیں سسرال کی طرف سے ملے یا انجمنِ خدمت خلق کی طرف سے ملے وہ ان کے لیے جائز نہیں وہ ایک بھیک ہے۔ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کل ان کی اولاد یہ کہے کہ ہمارا باپ اتنا خود دار نہیں تھا کہ خود اپنی محنت کے بل بوتے پر شادی کر کے ہمیں پیدا کرتا ، اس لیے اس نے ہماری ماں سے شادی کر کے انجمنوں کے چندوں سے جمع کیا ہواجہیز لیا ۔<br />
یہی تو وہ موقع ہے کہ دنیا کو دکھایا جائے اور بالخصوص آریہ سماج جیسی تنظیموں کو جو پانچ روپئے میں مندر میں شادی کروا کر دھرم کا پرچار کر رہی ہیں ، ان کو یہ دکھائیں کہ اسلام میں شادی کا معاملہ غریب کیلئے بھی اتنا ہی آسان ہے جتنا ایک امیر کیلئے۔ صرف ایک ولی اور دو گواہ کافی ہیں ۔ مرد اپنی استطاعت کے مطابق مہر دے اور پہلے ہی اپنی ہونے والی بیوی کو اپنی گھریلو حالت بتا دے پھر وہ اگر راضی ہو تو شادی کرے ورنہ نہیں ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ اس کے لیے آپ پلنگ ، الماری ، آٹو یا ٹھیلے کا انتظام کریں تو وہ شادی کریں گے ؟ اگر آپ یہ انتظام نہیں کریں گے تو کیا وہ شادی ہی نہیں کریں گے ؟<br />
امیر خلیجی حکومتیں مردوں کو چندے دے کر ایک غلط رسم کو مٹانے کے بجائے مضبوط کرتی ہیں اور یہاں یہ انجمنیں بھی چندے لے کرعورتوں کو دے کر ایک غلط رسم کو مضبوط کرتی ہیں ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کوئی ایسی انجمن قائم کی تھی؟</span></p>
<p>اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کسی موقع پر بدر یا احد کے یتیموں کی شادی کے لیے کوئی انجمن قائم کی ہوتی ، کسی غریب نوجوان کے مہر اور جہیز کے لیے کوئی اپیل کی ہوتی تو آج کوئی جواز ہوتا ۔ خدمت خلق اور انفاق فی سبیل اللہ کے یہ نت نئے بدعتی طریقے امت کو بجائے فائدہ دینے کے الٹا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔<br />
جو نوجوان ایسے کام کے لیے اٹھے ہیں ان کی محنت اور حوصلے اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک بہترین انعام ہیں ۔ اسی محنت اور حوصلے کو ایک دوسرے مشن کی طرف موڑ دیں یعنی غریب لڑکوں کی ذہن سازی کا کام شروع کردیں تو امت کے حق میں ایک عظیم خدمت ہوگی ۔ سعودیوں میں پہلے ایک بہت اچھا رواج تھا کہ وہ نوجوانوں کو جو استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کی پوشیدہ طریقے سے مدد کرکے انہیں مہر اور جہیز اور ولیمے کیلئے رقم دیا کرتے تھے۔ یہی رواج ہندوستان پاکستان میں پھیلانے کی ضرورت ہیکہ بجائے عورت کی مدد کرکے مرد کو بھکاری بنایا جائے، مرد کی مدد کیجائے اور اُسے عورت کے سامنے خودداری سے رہنے کی ترغیب دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/anjuman-role/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مشائخین کا رول</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/mashaaikh-role/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/mashaaikh-role/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2009 03:04:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=202</guid>
		<description><![CDATA[رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوزِ مشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے ساقی
کرے گی داورِمحشر کو شرمسار اک روز
کتابِ صوفی و ملّا کی سادہ اوراقی
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی
مشائخین کا تاریخی کردار
اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ سواد ِاعظم کی دینی و روحانی قیادت کس کے ہاتھوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوزِ مشتاقی<br />
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے ساقی</span></p>
<p><span style="color: #0000ff;">کرے گی داورِمحشر کو شرمسار اک روز<br />
کتابِ صوفی و ملّا کی سادہ اوراقی</span></p>
<p><span style="color: #0000ff;">چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر<br />
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">مشائخین کا تاریخی کردار</span></p>
<p>اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ سواد ِاعظم کی دینی و روحانی قیادت کس کے ہاتھوں میں ہے اور ذہنوں اور عقیدوں پر آج بھی کس کی حکمرانی ہے؟ تو ہم یہی کہیں گے کہ مشائخین کی ۔<br />
اس کی وجہ بھی ہے وہ یہ کہ ہندوستان میں اگر اسلام کسی نے پھیلایا تو وہ تھے معین الدین چشتی (رحمۃ اللہ) ، نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ) ، فرید الدین بابا شکر گنج (رحمۃ اللہ) وغیرہ ۔<br />
مولانا ابوالحسن علی ندوی (رحمۃ اللہ) نے سات جلدوں پر مشتمل ’ دعوت و عزیمت ‘ میں یہی پیش کیا ہے کہ کس طرح ان صوفیوں نے ہندوستان کے مشرکانہ ماحول میں داخلہ لیا کس طرح حالات کا مقابلہ کیا اور لوگوں کی زندگی سے شرک دور کیا ۔ ان کی قربانیوں اور للہیت کے نتیجے میں اللہ تعالی نے انہیں کرامات سے بھی نوازا ۔ انہی میں قطب و ابدال و اولیاء پیدا ہوئے ۔<br />
آج بھی لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان کرامات کے لیے انہی کی درگاہوں کا رخ کرتے ہیں ۔ بڑی بڑی جماعتیں اور لیڈر اور علماء اتنے افراد اکٹھا نہیں کرسکتے جتنے افراد مشائخین حضرات بغیر کسی اعلان یا تشہیر کے ہر سال عرس کے موقع پر جمع کرلیتے ہیں ۔ آج بھی جگہ جگہ غوث اعظم (رحمۃ اللہ) اور دوسرے بزرگان دین کے چلے ، چادریں، گیارہویں کے جھنڈے ، فاتحہ درود ، برُدے شریف اور میلاد النبی کی محفلیں اور جلوس و جلسے اس بات کا ثبوت ہیں کہ روحانی قیادت آج بھی مشائخین کے ہاتھوں میں ہے ۔ سادہ لوح عوام کو یہ جس چیز کا حکم دیں ان کے لیے پتھر کی لکیر بن جاتی ہے ۔<br />
صوفیائے کرام نے ہندوستان سے ہر مشرکانہ رسم مٹانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ آج اُن کے جانشینوں سے غریب لڑکیاں اور مجبور ماں باپ فریاد گوہیں کہ مشرکانہ رسم رواج آج مسلم معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں ، مشائخین آگے بڑھیں اور سنت اجمیری نبھائیں ۔ اُن بزرگوں نے تو مشرکانہ رسم و رواج کا ہندوستان سے خاتمہ کرنے اور اللہ کے محبوب کی سنّتوں کو اس سرزمین پر قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا لیکن آج وہی مشرکانہ رسم و رواج اور کافرانہ طور طریق مسلمانوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایک مشرک کو مشرّف بہ اسلام کرنا شائد آسان ہے، لیکن مسلمان کومسلمان بنانا بہت مشکل ہے۔ آج تمام اولیاء کے خانوادوں، سجّادوں، اور مریدوں کیلئے یہ انتہائی نازک امتحان ہیکہ وہ کسطرح ان بزرگوں، ولیوں، قطب و ابدال کی عظمتوں کو بحال کرتے ہیں اور ان کے مشن کو پھر سے ہندوستان پاکستان میں جاری و ساری کرتے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">مشائخین کا سوسائٹی میں مقام</span></p>
<p>یہ جس تقریب میں شرکت کریں اسے تقدس حاصل ہوجاتا ہے ۔ جس تصویر میں نوشہ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں وہ تصویر یا ویڈیو نوشہ کے لیے باعثِ فخر، متبرک اور یادگار بن جاتی ہے ۔ کاش ایسا ہوتا کہ یہ مشائخین حضرات ہر مرید اور عقیدت مند سے یہ فرما دیتے کہ جوڑاجہیز حرام ہے چاہے خوشی سے دیاگیا ہو یا کہ مطالبے یا فرمائش پر۔یہی تو وہ موقع ہے جب اہلِ بیت پر جان نثار کرنے والوں، سید الہاشمی کے سلسلہ نسب کا فخر کرنے والوں اور عشقِ رسول میں <strong><span style="font-family: Traditional Arabic, Tahoma;">”لك مالي فدا لك جاني فدا“</span></strong> کے سلام پڑھنے والوں کیلئے علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہ) کے خاندان کی روایت کی مکمل حفاظت کرتے ہوئے انہی کے طریقے پر نکاح کی ترغیب دیں تاکہ ان کی نسلوں میں بھی حسن (رضی اللہ عنہ) و حسین (رضی اللہ عنہ) جیسے فرزندانِ توحید پیداہوں اور سید خاندان کی سادگی، دینداری اور اہلِ بیت کی صحیح وراثت عمل سے بھی ثابت ہو۔<br />
اگر شانِ رسالت اور شانِ سید الہاشمی نسب کے یہ جانشینی کے دعویدار اگر ایسی تقریبات میں ہرگز شرکت نہ کریں اور نہ ایسے لین دین کرنے والے افراد کو اپنے حلقہ بیعت واردات میں آنے دیں تو نہ صرف یہ کہ چند سالوں میں ایک مشرکانہ رسم کا خاتمہ ہوجائے گا ، بلکہ صوفیائے کرام کے وہ تمام کارنامے جن سے تاریخ روشن ہے لیکن ان کے جانشینوں اور مجاوروں نے ان کارناموں کی تجارت کر کے ان بزرگوں کی کرامات و فیوض پر پردہ ڈال دیا ہے وہ کارنامے پھر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجائیں گے ۔<br />
آج بدقسمتی سے جوڑا جہیز لینے دینے والا ایک بڑا طبقہ انہی مشائخین اور ان کے ماننے والوں کا ہے ۔جیسے کہ ایک عربی مقولہ ہے :<br />
<strong><span style="font-family: Traditional Arabic, Tahoma;">الناس علي ملوكهم </span></strong><br />
لوگ اپنے بادشاہوں کی پیروی کرتے ہیں۔<br />
چونکہ آج مشائخین روحانی بادشاہ ہیں ، اس لیے عوام کی اکثریت انہی کے کہنے پر چلتی ہے ۔ عوام میں جذبہ تحقیق و شوقِ مطالعہ نہیں ہوتا ، عوام کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ<br />
<strong><span style="font-family: Traditional Arabic, Tahoma;">اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ ....  // التوبة:31</span></strong><br />
اللہ کو چھوڑ کر یہ لیڈروں اور مرشدوں کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں ۔</p>
<p>حضرت عدی بن حاتم (رضی اللہ عنہ) نے جو پہلے عیسائی تھے اسی آیت کے ضمن میں یہ سوال کیا کہ :<br />
ہم نے تو کبھی انہیں اپنا خدا نہیں بنایا ۔<br />
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا ’ کیا وہ کسی بات کو جائز کہیں تو تم جائز نہیں سمجھتے تھے ‘ ؟<br />
حضرت عدی (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ہاں !<br />
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا ’ کیا یہی مرشد اور قائد جس چیز کو حرام کہہ دیتے تم اس کو حرام نہیں سجھتے تھے ‘ ؟<br />
حضرت عدی نے فرمایا ’ ہاں ‘ ۔<br />
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی ان کو اللہ کی جگہ اپنا رب بنا لینا ہے ۔<br />
<span style="color: #800080;"> (ترمذی)</span></p>
<p><span style="color: #0000ff;">شیر مردوں سے ہوا پیشہ تحقیق تہی<br />
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی</span></p>
<p>مشائخین حضرات کو بھی اللہ تعالی نے ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ لوگ ان کے پاس جوق درجوق آتے ہیں ، اگر انہیں یہ اسلام کی صحیح د عوت پیش کرنے میں ناکام ہوئے تو نہ صرف اس منصب کی تذلیل ہے اور نہ صرف صوفیائے کرام کی رسوائی ہے بلکہ پوری انسانیت پر ایک ظلم ہے ، اسلام امن کا دین ہے ۔ آج ساری دنیا امن اور سکون چاہتی ہے ۔ لیکن امن کے پیغامبر مریدوں اور عقیدت مندوں کے ہجوم میں اصل پیغام کو بھول جائیں تو انسانیت کا اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے ؟</p>
<p><span style="color: #0000ff;">دورِ حاضر ہے حقیقت میں وہی دورِ قدیم<br />
اہلِ سجّادہ ہیں یا اہلِ سیاست ہیں امام</span></p>
<p>آج اتحاد امت کے لیے ساری امت آرزو مند ہے۔ عقائد کے اختلافات ، جماعتوں کے اختلافات اور علماء و لیڈروں کے اختلافات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کوئی ایسا نکتہ نہیں جس پر اتحاد ہوسکے ۔ ان حالات میں اگرکوئی ایک موضوع ایسا ہوسکتا ہے جس پر ہر جماعت ہرمسلک اور ہر گروہ متفق ہوتو سب یک زباں ہوکر کہیں گے کہ جوڑا جہیز کا ہی ایسا موضوع ہے جو Common Agenda بن سکتا ہے ۔ سب اقرار کریں گے کہ یہ حرام ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ اگر صرف جوڑے جہیز کے موضوع پر مشائخین آگے بڑھیں تو سوادِ اعظم کی زبردست طاقت Strength ان کے ساتھ ہے ۔ جمہوری نقطہ نظر Democratic Point of View کے مطابق یہی امت کے قائدین بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس عظیم سماجی انقلاب کو برپا کرنے کا بیڑہ اٹھائیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/mashaaikh-role/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>علماء و مدارس کا رول</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/madaras-ulama-role/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/madaras-ulama-role/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 09 Oct 2009 19:02:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=200</guid>
		<description><![CDATA[عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی
علماء کی تاریخی خدمات
ہندوستان میں مسلمانوں کا عہدِ حکومت ختم ہونے کے بعد جب زوال آیا تو یہ مدرسوں ہی کی تحریک تھی جس نے اسلامی تعلیم کو زندہ رکھا ، انیسویں صدی کے درمیان میں لارڈ میکالے Thomas [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے<br />
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">علماء کی تاریخی خدمات</span></p>
<p>ہندوستان میں مسلمانوں کا عہدِ حکومت ختم ہونے کے بعد جب زوال آیا تو یہ مدرسوں ہی کی تحریک تھی جس نے اسلامی تعلیم کو زندہ رکھا ، انیسویں صدی کے درمیان میں لارڈ میکالے Thomas Macaulay (1934) ہندوستان آیا اور پوری ہندوستانی سوسائٹی کا جائزہ لینے کے بعد اس نے جس تعلیمی نظام کی اسکیم پیش کی ، اس کا لب لباب بلکہ خود اسی کا نعرہ یہ تھا کہ<br />
<span style="color: #0000ff;">’ ایک ایسی نسل تعمیر ہو جو پیدائشی طور پر مسلمان ، فکری طور پر انگریز ہو Muslim by birth and english by thought ‘</span><br />
علماء نے اس خطرے کو بھانپ لیا اور اپنی پالیسی Strategy یہ بنائی کہ :<br />
<span style="color: #0000ff;">’ ایسی نسل تعمیر ہو جو پیدائشی طور پر ہندوستانی ہو اور فکری طور پر مسلمان Indian by birth muslim by thought ہو ‘</span><br />
اس کے بعد مدارس کے قیام اور مفت دینی تعلیم کا سلسلہ چل پڑا تاکہ بغیر سرکاری مدد کے بچے بچے تک دینی تعلیم پہنچے ۔</p>
<p>دارالعلوم دیوبند ، ندوہ ، جامعہ نظامیہ ، حیدرآباد جیسے عظیم مدارس کی شہر شہر بنیادیں پڑیں ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی ، حمید الدین فراہی ، شبلی نعمانی ، اشرف علی تھانوی ، حسین احمد مدنی ، منت اللہ رحمانی ، مجاہد الاسلام قاسمی ، خواجہ حسن نظامی ، مناظر احسن گیلانی ، سید عبداللہ شاہ ، صدر الدین اصلاحی ، مولانا محمد الیاس ، مولانا ابواللیث ، مولانا محمد زکریا وغیرہ وغیرہ یہ تمام انہیں مدرسوں کی پیداوار ہیں جنہوں نے اسلام کو نازک وقتوں میں سہارا دیا اور آخری سانس تک فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">چرچ اور اسٹیٹ کی تقسیم</span></p>
<p>لیکن بہر حال اس حقیقت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ مدرسوں کی تحریک 1857ء کے بعدایک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وقتی تحریک تھی ۔ یہ امت کے روشن مستقبل کی تعمیر کا دائمی منصوبہ نہیں تھا ۔ علمِ دین جس حدتک پڑھایا جاتا تھا وہ زبان ، اسلوب تفسیر ، فقہی اصول و قوانین وغیرہ کی حد تک تو ایک طالب علم کو عالم بناسکتا تھا ۔ لیکن اس میں سیاسی ، سماجی، نفسیاتی ، معاشی، تحریکی اور ادبی خلاؤں کو پر کرنے کی تربیت شامل نہیں تھی۔ یہ خلا بڑھتا گیا اور چند ایک سالوں میں مسلمان قوم ’ ہر حکمران اور ہر رائج سرکاری نظام ‘ کی مخالف ، یکا و تنہا قوم بن کر ابھرنے لگی ۔ دوسری طرف جب دوسری قومیں ہیومن رائٹس، وومنس رائٹس، جمہوریت، سائینس وغیرہ پیش کرتی ہیں تو ہمارے علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ چودہ سو سال پہلے سے ہمارے پاس موجود ہے۔ سوال یہ ہیکہ چودہ سو سال سے ہم نے کیاکیا۔ اگر چودہ سو سال میں ان چیزوں کو ہم دنیا کو متعارف کرواتے تو آج مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی صورتِ حال مختلف ہوتی۔ عالمی انصاف کی عدالت بلجیم میں نہیں سعودی عرب میں ہوتی۔ بنک اور انشورنس کے سب سے بڑے مراکز مسلمان ملکوں میں ہوتے۔ اسلام پر ڈاکٹریٹ کرنے خود عرب مسلمان آکسفورڈ یا کیمبریج نہیں جاتے بلکہ وہاں سے انگریز خود مسلمان ملکوں کا سفر کرتے۔</p>
<p>چونکہ ’ دعوتِ دین ‘ کا مضمون اور اس کی تربیت شامل نصاب نہیں تھی اور نہ آج ہے۔ اس لیے دین کا قیام اور ایک اسلامی سیاست ، معاشرت اور معیشت کے قیام کا تصور Vision اور اس کی منصوبہ بندی Planning مدرسہ کے نصاب یا اس کے اغراض و مقاصد سے خارج رہی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’ چرچ اور اسٹیٹ Church &amp; State ‘ کی مسلمانوں میں بھی تقسیم وجود میں آگئی ۔<br />
دوسری طرف یہ ہوا کہ انگریزی تعلیم جس کے بارے میں ماضی میں ’ غیر اسلامی اور کافرانہ ‘ تعلیم کا سارویہ تھا مسلمان تیزی سے اسی طرف بڑھنے لگے وہاں دینی تعلیم کا دور دور تک وجود نہ تھا لیکن روزگار اسی سے جڑا تھا ۔یہاں آکر چرچ اور اسٹیٹ کی تقسیم مکمل ہوگئی ۔</p>
<p>مولانا قاسم نانوتوی اور سرسید ایک ہی استاد مولانا مملوک علی کے شاگرد تھے ایک نے قوم کے بچے بچے کو اسلامی تعلیم کے ذریعے مسلمان بنائے رکھنے کا عزم کیا ۔ دوسرے نے عصری سیکولر تعلیم کے ذریعے مسلمان بنائے رکھنے کا عزم کیا ۔ دیڑھ سو سال کے اس تجربے کے بعد مدرسہ اور سیکولر تعلیم جس مقام پر پہنچے وہ نتائج کے اعتبار سے بالکل ایک ہیں ۔ مدرسہ دین کو دنیا میں چلانے سے قاصر ہے اور عصری تعلیم دنیا میں دین برتنے سے نا آشنا ہے ۔ امت کی پستی اور زبوں حالی پر دونوں ایک سا تبصرہ کرتے ہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ عصری تعلیم والا چندہ دیتا ہے اور مدرسہ والا چندہ لیتا ہے ، اسی لین دین کے ذریعے مدارس ، مختلف ریلیف کے کام ، مسلم پرسنل لا بورڈ اور جماعتیں زندہ ہیں ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">مدرسوں کی مجبوری</span></p>
<p>ہمارے مدارس اور علماء کی مجبوری بھی پیش نظر رہے۔ آج مدارس کو سب سے زیادہ اعانت Donation دینے والے اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے صدر و سکریٹری جو اماموں خطیبوں اور حافظوں کو تنخواہیں ادا کرتے ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں جن کی زندگی میں جوڑا جہیز لینا اور دینا محبوب ہے۔ اگر مدراس اور علماء اسی کے خلاف تحریک اٹھائیں تو اعانتیں اور تنحواہیں بند ہوسکتی ہیں ۔ اس لیے علماء عمومی In General تو ان مسائل پر گفتگو کرتے ہیں لیکن ذاتی طور پر ایسے افراد کو جاکر نہیں سمجھا سکتے جو کہ دعوت کا اصل کام ہے بلکہ ان کی شادیوں اور منگنیوں، اور ولیموں میں شوق یا مصلحت کی وجہ سے ضرور شرکت کرتے ہیں اور تعریفی کلمات ادا کرتے ہیں ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">علماء کی ذمہ داری</span></p>
<p>اگر مدارس سے نکلنے والے علماء و حفاظ و قراء اپنے اور اپنی اولادوں کے لیے ہر قسم کا جوڑا جہیز جو ’ خوشی سے دینے ‘ کے رواج کے تحت دیا جارہا ہوا سے حرام تصور کریں اور واپس کردیں اور ایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کردیں تو ایک انقلاب آسکتا ہے ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے بجائے ڈاکٹر یا انجینئر کی خواہش کرنے کے حافظ یا عالم کی خواہش کرنے لگیں گے ۔<br />
ایک عام آدمی کی برائیوں پر کسی کی نظر نہیں پڑتی لیکن اہلِ علم کے دامن میں لوگ دور بین و خوردبین Microscope &amp; Binoculars لے کر دھبے ڈھونڈھتے ہیں تاکہ ان کے لیے بھی کوئی جواز نکل آئے۔ جیسے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے :<br />
’ بنی اسرائیل کے علماء لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے ۔ جب لوگ ان کی بات نہ مانتے اور اپنی چال پر قائم رہتے تو پھر اہل علم بھی ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے لگتے ‘ ۔<br />
اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور سخت تاکیدی انداز میں فرمایا :<br />
’ خبردار تم لوگ ایسا نہ کرنا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دعائیں کرو اور دعائیں رد کردی جائیں ‘ ۔</p>
<blockquote><p>اگر مدارس سے نکلنے والے علماء و حفاظ و قراء اپنے اور اپنی اولادوں کے لیے ہر قسم کا جوڑا جہیز جو ’ خوشی سے دینے ‘ کے رواج کے تحت دیا جارہا ہوا سے حرام تصور کریں اور واپس کردیں اورایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کردیں تو ایک انقلاب آسکتا ہے ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے بجائے ڈاکٹر یا انجینئر کی خواہش کرنے کے حافظ یا عالم کی خواہش کرنے لگیں گے ۔</p></blockquote>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/madaras-ulama-role/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جماعتوں کا رول</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jamat-role/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jamat-role/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 08 Oct 2009 23:31:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=198</guid>
		<description><![CDATA[افراد کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔ جوڑا جہیز
آج اکثر جماعتیں یہ رونا روتی ہیں کہ قحط الرجال ہے۔ نوجوان نسل دور ہوتی جارہی ہے۔ جو لوگ کام کررہے ہیں ان کی عمریں ساٹھ اور ستّر سے تجاوز کررہی ہیں۔ افراد کے فقدان کی اہم وجہ جوڑا جہیز کی وہ لعنت ہے جسکی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #ff0000;">افراد کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔ جوڑا جہیز</span></p>
<p>آج اکثر جماعتیں یہ رونا روتی ہیں کہ قحط الرجال ہے۔ نوجوان نسل دور ہوتی جارہی ہے۔ جو لوگ کام کررہے ہیں ان کی عمریں ساٹھ اور ستّر سے تجاوز کررہی ہیں۔ افراد کے فقدان کی اہم وجہ جوڑا جہیز کی وہ لعنت ہے جسکی وجہ سے آج ہر شخص اپنا وقت اور توانائیاں کمانے پر لگانے پر مجبور ہے۔ اگر یہ لعنت ختم ہوجائے تو ہزاروں ذہین لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو کسی بھی بامقصد جماعت سے جوڑنے کیلئے تیار ہیں۔<br />
اُمت مسلمہ کی فلاح و بہبود ہر جماعت کا اگرچہ مقصدِ اولین Prime Goal ہے لیکن کسی جماعت کے لائحہ عمل Line of Action یا منصوبہ بندی Planning میں یہ شامل نہیں کہ معاشرے کی بدترین برائی یعنی شادی کی کل رسومات جو مسلمان کے کردار ہی نہیں بلکہ وجود کو بھی مٹا رہی ہیں ان کے خلاف جنگ کی جائے ۔ بدقسمتی سے جماعتوں میں منصوبہ بندی کا شعبہ ہی نہیں پایا جاتا ۔ جلسوں یا خصوصی اجتماعات میں اگر جوڑے جہیز پر کوئی تقریر ہوتی بھی ہے تو محض ورائٹی Variety پیدا کرنے کی خاطر۔ مقرِّر حضرات شعلہ بیانی تو فرماتے ہیں اور پھر تقریر کے بعد ایک فاتح کی طرح اپنے قریبی رفقاء سے پوچھتے بھی ہیں کہ’ ’ تقریر کیسی تھی ‘ ؟لیکن ان کے ذہنوں میں اس برائی کو مٹانے کا کوئی سنجیدہ ایجنڈا نہیں ہوتا ۔<br />
جماعتیں اپنے نصب العین کو بار بار پڑھیں. اصل برائیوں کی تشخیص diagnose کریں ۔ مالیات ، سیاسیات ، بیت المال ، وفود ، دعوت نشر و اشاعت وغیرہ شعبوں کی طرح انسداد جوڑا جہیز کا ایک مکمل علحدہ شعبہ ہو ۔ برائیوں کو مٹانے کی یقیناً آپ جستجو کرتے ہیں لیکن ظلم یہ کرجاتے ہیں کہ جوڑا جہیز کو فلم بینی ، ٹی وی ، ڈرامہ ، فحش گانے ، سگریٹ نوشی وغیرہ کے مساوی جان کر اصلاحِ معاشرے کی تحریک میں تھو ک کے حساب سے ساری برائیوں کو ایک ترازو میں تول دیتے ہیں۔ جوڑا جہیز ایک AIDS جیسا خطرناک مرض ہے جب کہ دوسری برائیاں اسکے سامنے زکام بخار سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں ۔ اسکے لئے ایک مکمل تحریک کی ضرورت ہے جسے جنگی پیمانے پر جب تک نہ چلایا جائے اسکا رکنا ناممکن ہے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">جماعتیں شہروں سے باہر بھی نکلیں</span></p>
<p>Sunday Weekly کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ممبئی شہر میں دو لاکھ سے زیادہ لڑکیاں ایسی ہیں جو بارگرل، کیبرے یا جسم فروشی کا کام کرتی ہیں۔ جن میں کم سے کم ایک لاکھ مسلمان ہیں ، ان میں اکثریت ان لڑکیوں کی ہے جو صرف جوڑا جہیز سے مجبور ہو کرملک کے مختلف علاقوں سے ممبئی بھاگ آئی ہیں ۔<br />
آسام وغیرہ میں تو مسلمان لڑکیاں فروخت کردی جاتی ہیں ۔<br />
دہلی گجرات وغیرہ میں فرقہ پرست تنظیموں کے تاجر مسلمان لڑکیوں کو گھروں اور دوکانوں پر زیادہ تنخواہ دے کر ملازم رکھتے ہیں اور نہیں اپنے کلچر میں ضم Assimilate کرنے کی منظم Organised چالیں چلتے ہیں ۔<br />
جماعتوں کو چاہئے کہ ایسی تمام جگہوں پر اپنے وفود بھیجیں اور گاوں گاوں ، دیہات دیہات ذہن سازی کا کام کریں ۔<br />
اگر جماعتیں جوڑے جہیز کے مٹانے کو اپنا نصب العین Main Objective بنالیں تو بغیر کسی تقریر یا تحریر کے ، بغیر کسی جلسے جلوس کے ، بغیر لاکھوں روپئے خرچ کر کے اجتماعات کرنے کے صرف نکاح کے طریقے کو دیکھ کر نہ صرف غیر مسلم اسلام کی طرف راغب ہوں گے بلکہ مسلمانوں کی اخلاقی اور اقتصادی Economic حالت چند سالوں میں بہتر ہوجائے گی ۔<br />
Google search engine پرکبھی دیکھیئے کہ صرف ہندوستان میں کم سے کم ایک لاکھ تنظیمیں اور ویب سائٹس کام کررہی ہیں ان میں مسلمانوں کی جانب سے بمشکل پچاس سائٹس ہیں۔<br />
آریہ سماج نے 5 روپے میں شادی کے ذریعے نہ صرف ہندوؤں کو بلکہ بے شمار مسلمانوں کو مندر کا راستہ دکھایا ایسے وقت میں مسلمان جن کی شادی میں شرعاً 5 روپے کی بھی ضرورت نہیں غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ یہ جنگ جماعتیں ہی سب سے زیادہ بہتر لڑ سکتی ہیں ۔<br />
جتنی مسلمانوں کی جماعتیں ہیں وہ شہروں میں ہی اپنا دائرہ کار رکھتی ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شہروں سے دور گاوں ، دیہات اور قصبات میں رہتی ہے۔ جماعتوں کا ان مقامات پر یا تو مسلم کش فسادات کے موقع پر یا پھرکسی سیلاب، قحط یا کسی اور آفتِ آسمانی کے موقع پر ہی جانے کا اتفاق ہوتا ہے ۔ جسکا نتیجہ یہ ہیکہ شہر سے دور رہنے والے مسلمان رفتہ رفتہ اپنے مذہب اور تہذیب سے دور ہوچکے ہیں اور اکثریت میں جذب ہوتے جارہے ہیں۔ ان کی زبان، رسم و رواج، عقائد اور تعلیم اسلام سے بہت دور ہوچکی ہے۔ ان کو اگر دوبارہ اسلام کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے تو صرف سماجی، تعلیمی اور اخلاقی تحریکوں کے نتیجے میں لایا جاسکتاہے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">کونسلنگ کی اہمیت</span></p>
<p>» اچھے لڑکے اور لڑکیوں کی نسبت طئے کروانا ایک اہم سماجی خدمت ہے۔ اصولاً ایسی خدمت خلق کی تنظیمیں ہونی چاہئیں اور دینی جماعتوں میں بھی اس کا شعبہ ہونا چاہئے ، جس کا تعلق میریج کونسلنگ Marriage Counselling سے ہو ، جو نہ صرف لوگوں کو اچھے لڑکوں یا لڑکیوں کے انتخاب میں مدد کرے بلکہ شادی کے بعد ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے مسائل کو بھی حل کرنے میں مدد کرے ۔<br />
میریج کونسلنگ بے شک ان کاموں میں سے ایک ہے جن پر یہ حدیث کا اطلاق ہوسکتا ہے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے :<br />
<span style="color: #0000ff;">جب بندہ دوسروں کی خدمت میں لگ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کاموں پر لگ جاتے ہیں</span><br />
ونیز ۔۔۔<br />
<span style="color: #0000ff;">جب بندہ دوسروں کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ دعاء اس کے حق میں پہلے قبول فرماتے ہیں ۔</span></p>
<p>» Anti dowry مقدمات، طلاق اور ہراسانی کی روک تھام کیلئے اور جوڑا جہیز اور دوسری لعنتوں کے بارے میں ذہن سازی کیلئے جمعہ کی خطبے، کالج،یونیورسٹی، دینی مدارس اور مختلف فلاحی تنظیموں کے اسٹیج سے لکچر، سیمینار اور دوسری طرح کے پروگرام کروانا جماعتوں کیلئے آسان ہے۔ اکثر جماعتیں اور انجمنیں جگہ جگہ فری میڈیکل کیمپ اور مختلف اشیا ء کی تقسیم کے پروگرام کرواتی ہیں۔ اگر وہ ذہن سازی کی اس مہم کو بھی فروغ دیں تو اسمیں معاشرے کے اصلاح ممکن ہے۔</p>
<blockquote><p>سیرت کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے وقت کے ایک بہترین میریج کونسلر تھے جو شادی سے قبل اور شادی کے بعد کے ازدواجی مسائل حل کرتے تھے۔ اس سنّت کو مدرسوں نے اپنے نصاب سے اور جماعتوں نے اپنے دعوتی ایجنڈے سے خارج کردیا ہے</p></blockquote>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jamat-role/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قاضی صاحبان کا رول</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/qazi-role/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/qazi-role/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 08 Oct 2009 23:00:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=196</guid>
		<description><![CDATA[رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلّاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا
خطبہ کی اہمیت
قاضی حضرات خود غور فرمائیں کہ ایک مکمل شریعت موجود ہونے کے باوجود عورتوں کو پولیس اور کورٹ کا کیوں سہارا لینا پڑتا ہے ۔ آئے دن پرسنل لا سے متعلق کوئی نہ کوئی جھگڑا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی<br />
کہ وہ حلّاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">خطبہ کی اہمیت</span></p>
<p>قاضی حضرات خود غور فرمائیں کہ ایک مکمل شریعت موجود ہونے کے باوجود عورتوں کو پولیس اور کورٹ کا کیوں سہارا لینا پڑتا ہے ۔ آئے دن پرسنل لا سے متعلق کوئی نہ کوئی جھگڑا کھڑا ہوتا رہتا ہے اور اخبارات اسکو کس قدر اچھالتے ہیں یہ بھی سب کے علم میں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور میں خطبہ کو اہمیت دی جاتی تھی ۔ عام اوقات میں بھی جب کوئی اہم بات آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہنی ہوتی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اٹھتے ، منبر پر تشریف لاتے اور خطبہ دیتے ۔ اسلام میں خطبہ کی بڑی اہمیت ہے جیسے جمعہ کی نماز کا خطبہ ، اس کی اہمیت کے پیش نظر چاروں ائمہ کرام کے نزدیک دوران خطبہ نماز ، تلاوت ، سلام کا جواب حتی کہ ذکر بھی منع ہے ۔ اسی لیے علماء کی اکثریت نے خطبہ سننے کو واجب کہا ہے۔ اسی طرح خطبہ عیدین بھی ہے یا جب کسی کی تدفین کا موقع ہوتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس وقت بھی خطبہ دیتے ۔ ایسے مواقع لوگوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ بدقسمتی سے آج یہ سارے مواقع ناکارہ کردئیے گئے ہیں۔ ہمارے امام ، خطیب اور قاضی صاحبان کو چاہئے کہ ایسے اہم موقعوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور لوگوں کو حلال و حرام بتائیں۔ ازدواجی زندگی سے متعلق ہر اہم بات جس کا دینی اخلاقی و معاشرتی زندگی پر اثر پڑتا ہو وہ کھول کھول کر پیش کریں ۔<br />
مفتی محمد شفیع (رحمۃ اللہ علیہ) نے فرمایا کہ :<br />
خطبہ کے مسنون اجزاء حمد و درود ، دعا اور حالات حاضرہ کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہیں ۔<br />
<span style="color: #800080;"> (جواہرالفقہ)۔</span><br />
آخری جز ہمارے قاضی حضرات نے اپنے فرائض سے یوں خارج کردیا ہے گویا یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">کیا یہ عقد ہے ؟</span></p>
<p>عقد یا نکاح کے معنی ایک قرار داد Agreement کے ہیں ۔عقد یا ایگریمنٹ کا واضح اعلان اصل نکاح ہے ، نہ کہ سکہ ’ رائج الوقت و سرخ دینار کا رسمی اعلان۔ دراصل اسلام نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے جتنے موثر ترین Most Effective طریقے ہمیں دئیے تھے وہ سب ہم نے ناکارہ کردئیے ہیں۔ انہی میں سے ایک خطبہٴ نکاح بھی ہے ۔ قاضی حضرات کو شریعت نے ایک استاد ، امام ، مربی اور خطیب کا مقام دیا وہ اس دس پندرہ منٹ کے وقفے کو استعمال کر کے شریعت کے احکامات لوگوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا ان کی اہم ترین ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری سے سبکدوش یہ خود ہوئے ہیں ۔ انہیں جلد سے جلد دستخطیں لے کر اپنی فیس وصول کر کے کسی دوسرے نکاح کی تقریب میں بھاگنے کی جلدی ہوتی ہے ۔ چونکہ نکاح ناموں کی قانونی اہمیت ہے ، ان قاضیوں کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے اس لیے قضاء ت کا کام بھی ایک سرکاری کاروبار کا حصہ بن گیا ہے ۔ کورٹ میریج اور اس تقریب نکاح میں سوائے اس کے کوئی فرق نہیں رہا کہ کورٹ میں آفیسر عربی میں چند آیات پڑھ کر فاتحہ نہیں کہتا اور گواہ اپنے سروں پر کچھ دیر کے لیے ٹوپیاں یا دستیاں نہیں رکھتے ۔<br />
قاضی حضرات جب خطبے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں وہ اُس وقت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جانشین ہوتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایسے موقع پر اہم ہدایات ایک امانت ہیں جن کو پہنچانا خطیب کی ذمہ داری ہے۔ لوگ سنتے ہیں یا نہیں، عمل کرتے ہیں یا نہیں یہ سوچنا جب نبیوں کا منصب نہیں تو قاضی یا خطیب کا کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے موقع پر قاضی حضرات دو ٹوک الفاظ میں اگر یہ بیان کریں کہ جوڑا جہیز حرام ہے ۔ نکاح کے دن کا کھانا کسی طرح جائز نہیں اور دیگر رسمیں جنمیں اسراف، تفاخر اور لہوالحدیث پوشیدہ ہے وہ ساری کی ساری حرام ہیں تو لوگوں کے دلوں میں کانٹے تو چبھ سکتے ہیں۔ سننے والوں میں ایسے چند زندہ ضمیر تو موجود ہوتے ہیں جن پر یہ باتیں اثر کرجاتی ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">نکاح نامے میں جوڑا جہیزاور مہر مؤجل کا اعلان کیوں نہیں ہوتا؟</span></p>
<p>شریعت میں ’اصل ‘ دیکھی جاتی ہے ۔ نکاح کی اصل بھی ایگریمنٹ کا اعلان ہے جس کو آج کے عرف یا رواج کے مطابق ہونا چاہئے ۔مہر کی رقم کے اعلان کے ساتھ ساتھ جتنا جہیز، نقدی وغیرہ کا لین دین ہوا ہے اسکا بھی اس عقد میں زکر ہونا لازمی ہے۔ ورنہ یہ انصاف نہیں ہے کہ مرد جوکچھ دے رہا ہے اس کا تو بھری مجلس میں اعلان ہو اور عورت جو مرد کو دے رہی ہے ، اس کا ذکرتک نہ ہو ۔ نکاح نامے میں بھی اس لین دین کی صراحت ہونی چاہئے تاکہ رشتہ نہ نبھنے کی صورت میں عورت کو اس کا پورا پورا مال واپس مل سکے ۔ بارات ، کھانا ، شادی خانے کا بل وغیرہ یہ لڑکی کے سرپرست پر نہیں بلکہ لڑکے کے ذمہ ہیں ، اگر اس کی طرف سے لڑکی والے یہ خرچ اٹھاتے ہیں تو یہ ایک قرض ہے جو لڑکے کو کبھی نہ کبھی ادا کرنا ہے ، اس کا بھی نکاح نامہ میں تصریحاً ذکر ہونا چاہئے ۔<br />
بالخصوص مہرمؤجل کا بھی عقد نامے میں واضح طور پر یہ اندراج ہوکہ وہ کب اور کیسے دیا جائیگا۔ چونکہ شریعت میں مہر کا مطلب مہر معجّل ہے اسلئے اسکا کتابوں میں تذکرہ نہیں ملتا کہ کب اور کیسے دیا جائیگا ۔ لیکن آج چونکہ لوگوں نے شریعت کو اپنی سہولت کے مطابق بدل دیا ہے اسلئے یہ بھی عقد نامے میں واضح ہونا چاہئے کہ مہر کب اور کیسے دیا جائیگا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/qazi-role/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جوڑا جہیز کے بدترین نقصانات</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jahez-nuqsanat/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jahez-nuqsanat/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 08 Oct 2009 18:58:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=194</guid>
		<description><![CDATA[» نکاح مشکل اور زنا آسان ہوگیا ہے ۔ کسی بھی قریبی میٹرنٹی ہوم سے پتہ لگائیے کہ روزانہ کے وضع حمل Abortions کا اوسط کیا ہے ؟
» غریب لڑکیاں فحاشی Prostitution کی طرف بڑھ رہی ہیں اور متوسط گھروں کی لڑکیاں عیاشی کی طرف ۔
» خود دار گھرانوں کی لڑکیاں غیر مسلمین کے ہاں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;">»</span> نکاح مشکل اور زنا آسان ہوگیا ہے ۔ کسی بھی قریبی میٹرنٹی ہوم سے پتہ لگائیے کہ روزانہ کے وضع حمل Abortions کا اوسط کیا ہے ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> غریب لڑکیاں فحاشی Prostitution کی طرف بڑھ رہی ہیں اور متوسط گھروں کی لڑکیاں عیاشی کی طرف ۔<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> خود دار گھرانوں کی لڑکیاں غیر مسلمین کے ہاں شو روم، آفس اور اداروں میں معمولی معمولی کام کرنے پر مجبور ہیں ۔<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> چند خوشی سے دینے کی استطاعت رکھنے والے حضرات کی وجہ سے پورا ماحول اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہر شخص اُس کی نقل کرنے کی جستجو میں چوری ، جھوٹ ، ڈاکہ ، رشوت وبے ایمانی کا مرتکب ہورہا ہے اب یہ تمام برائیاں مجبوری میں جائز سمجھی جانے لگی ہیں ۔<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> لڑکیوں کی شادی کیلئےچندہ ، خیرات و زکواة مانگنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> دعاؤں کی قبولیت کا دار و مدار مکمل حلال رزق پر ہے ۔ جوڑا جہیز کی زیادتی نے دعاوٴں کی قبولیت کا باب بند کردیا ہے۔<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> لڑکیاں سرکش ہوتی جارہی ہیں کیوں کہ جب وہ اپنا جہیز اور نقدی خود فراہم کررہی ہیں تو نفسیاتی طور پر خود کو قواّم بھی محسوس کر رہی ہیں ، مرد عورتوں کے آگے جھک رہے ہیں، معاشرہ عورت کے پیچھے جارہا ہے۔<br />
<span style="color: #0000ff;">»</span> جماعتوں میں اب نوجوانوں کی تعداد کم ملتی ہے۔ زیادہ تر لوگ ریٹائرڈ عمروں، ریٹائرڈ ذہنوں کے بوڑھے ملتے ہیں۔ وہ لوگ جو ذہنی اور فکری اثاثہ بن سکتے ہیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کیلئے روپیہ کمانے پر مجبور ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/jahez-nuqsanat/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یہ لعنت ہند و پاک کے ہر علاقے میں موجود ہے</title>
		<link>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/indopak-problem/</link>
		<comments>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/indopak-problem/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 06 Oct 2009 20:30:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>علیم خان فلکی</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://jahez.aleemkhanfalaki.com/?p=192</guid>
		<description><![CDATA[بعض لوگ طنزیہ یہ کہتے ہیں کہ یہ لعنت صرف حیدرآباد دکن میں ہے اور بعض کہتے ہیں یہ تو بہار اور یوپی میں ہے۔ کوئی کہتا ہے ہمارے پنجاب میں تو یہ ہوتی ہی نہیں ہے اور کوئی کہتا ہے یہ توکراچی کے مہاجروں میں ہے ۔
تو پھر صحیح کیا ہے ؟
یہ دراصل لوگوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بعض لوگ طنزیہ یہ کہتے ہیں کہ یہ لعنت صرف حیدرآباد دکن میں ہے اور بعض کہتے ہیں یہ تو بہار اور یوپی میں ہے۔ کوئی کہتا ہے ہمارے پنجاب میں تو یہ ہوتی ہی نہیں ہے اور کوئی کہتا ہے یہ توکراچی کے مہاجروں میں ہے ۔<br />
تو پھر صحیح کیا ہے ؟<br />
یہ دراصل لوگوں کی غلط فہمی اور اصل مسئلے سے ناواقفیت ہے ۔ کم ازکم ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش میں یہ لعنت 95 فیصد لوگوں میں موجود ہے ۔ شکلیں بدلی ہوئی ہیں ، کہیں جوڑا ، جہیز، تلک کے نام پر، کہیں معیاری شادی کے نام پر، کہیں خوشی سے جو چاہے دینے کے نام پر ، اور کہیں جہیز نہیں مانگا جاتا لیکن فائیو اسٹار ہوٹل میں فنکشن کی خواہش کی جاتی ہے۔<br />
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جہیز صرف وہ ہوتاہے جو لڑکے والوں کی طرف سے مانگنے پر دیا جاتا ہے۔ جو چیز رواج کے مطابق ہر مانباپ کرنے پر مجبور ہیں لوگ اسکو جہیز ہی نہیں سمجھتے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کے علاقے یا ان کی جماعت یا برادری میں جہیز کے لعنت نہیں ہے وہ حضرات یہ بتائیں کہ کیا پلنگ ، بستر، فرنیچر، کچھ سازوسامان، منگنی یا شادی کے دن مہمانوں کو کھانا وغیرہ، انہیں دینا پڑتا ہے یا نہیں؟ یہی تو وہ چیزیں ہیں جنکو اسلام ختم کرنے کا حکم دیتاہے۔ یہ ہر گاوں اور ہر دیہات میں پائی جانے والی رسمیں ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">باہر سے آنے والے Expatriates زیادہ حریص</span></p>
<p>سعودی عرب، دوبئی وغیرہ سے آنے والے تو یہ حرکتیں کرتے ہی تھے لیکن ہم یہ سمجھتے تھے کہ لوگ امریکہ یا لندن جاکرتعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہوجاتے ہیں اور جوڑا جہیز جیسی لعنتوں سے بھی دور ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوجاتی ہے جب ہم گرین کارڈ ہولڈر لڑکے لڑکیوں کے ضرورت ِ رشتہ کے اشتہار دیکھتے ہیں اور جب ان کی شادیوں کے تعلق سے معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہیکہ ہر جاہلانہ بات پر اپنے وطن کو حقارت سے دیکھنے والے یہ خود ساختہ انگریز جو اپنے رویّے میں انتہائی Sophisticated, logical, educated ہوتے ہیں، شادی بیاہ کے معاملے ان کی سوچ وہی کراچی کے لالو کھیت یا حیدرآباد کے پرانے شہر والوں سے مختلف نہیں ہوتی۔ جہیز، جوڑا، وغیرہ کے جائز یا ناجائز ہونے کے معاملے میں ان کا رویّہ وہی ہوتا ہے جو بنی اسرائیل کا تھایعنے :<br />
”ہم تو اسی چیز کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا“۔ (سورہ بقرہ)۔</p>
<p>حقیقت تو یہ ہیکہ خلیج ہو کہ امریکہ، انہی باہر والوں نے شادی کے نظام کو تباہ کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ایک طرف یہ اتنے بے نیاز اور خود دار بننے کی ایکٹنگ کرنے لگے گویا انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اور صرف معیاری شادی، صرف اچھی دعوتِ طعام کی شرط کے ساتھ شادیاں کرنے لگے جبکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے منع کرنے کی ایکٹنگ کرنے کے باوجود انہیں بہت کچھ دیا جائیگا۔ اسکے مجرم تنہا لڑکے نہیں ہیں۔ وہ باہر والے بھی جو لڑکیوں کے باپ ہیں وہ بھی کوئی کم مجرم نہیں۔ انہوں نے ضرورت سے زیادہ خرچ کرکے ملک کے اندر رہنے والے لڑکوں اور ان کے گھر والوں کی نیتیں خراب کی ہیں۔ اسلئے اب لڑکے اقامہ ہولڈر اور گرین کارڈ ہولڈر لڑکیوں پر زیادہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">کچّی، میمن، کوکن، مہدوی، ہندستانی، حضرمی، آغاخانی وغیرہ </span></p>
<p>ایسی کئی برادریاں اور قبائل ہیں جنکے سماجی طور طریقے عام مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا ہیکہ ان کے ہاں جوڑے جہیز کی لعنت بالکل نہیں پائی جاتی۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں ان کے ہاں لڑکی والوں کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے وہ جو چاہے خوشی سے دیں۔ یہ جھوٹ اور خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے۔ ”خوشی سے لینا دینا “ کیا ہے اس کی تفصیلات جو پیش کی جاچکی ہیں ان کی روشنی میں اگر کوئی برادری یہ کہتی ہیکہ جوڑا جہیز دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے لیکن ان کے ہاں نہیں تو یہ فرار کا فلسفہ ہے۔ اس ہٹ دھرمی کا سبب شائد یہ ہیکہ جب تک ان کی اپنی کمیونٹی یا برادری کا اپنا عالم یا لیڈر کھڑا ہوکر یہ نہ کہے کہ یہ جو کچھ ”خوشی سے “ لینے دینے کا رواج ہے چاہے وہ ایک ہزار روپیئے کا مال یا نقد کیوں نہ ہو، حرام ہے، یہ لوگ ہرگز ماننے والے نہیں۔<br />
<span style="color: #0000ff;">فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے<br />
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">جہیز پاکستان میں</span></p>
<p>پاکستان میں اسکی بڑھتی ہوئی لعنت کیلئے سینیٹر آسیہ اعظم کا نیشنل اسمبلی سے خطاب غور کرنے کے قابل ہے۔ محترمہ جوعورتوں کی کئی فلاحی تنظیموں سے وابستہ ہیں، کہتی ہیں کہ یہ لعنت کراچی ، لاہور اور میں سب سے زیادہ ہے۔ کراچی میں فلیٹ، سونا اور دوسری چیزیں، لاہور میں نوٹوں کے ہار اور دوسرے علاقوں میں سامانِ ضرورت و بلا ضرورت کی رسمیں ہیں۔ وڈیروں میں عورت پر یہ ظلم ہیکہ اسکو وراثت دینے کی صورت میں جائداد کا بٹوارہ ہوجانے کے خوف سے اسکی شادی قرآن سے کردی جاتی ہے۔ وہ عمر بھر تنہا گزار دیتی ہے۔ کئی لڑکیوں کی شادی خاندان کے کم سِن لڑکوں سے کردی جاتی ہے تاکہ وراثت خاندان کے باہر نہ جائے۔<br />
<span style="color: #800080;">4th April, 2003, The Nation, Karachi</span></p>
<p>پاکستان میں جہیز، نقدی یا فلیٹ وغیرہ اور اسکے ساتھ ساتھ شادی کے دن کے کھانے کی لعنت اس قدر عروج پر ہیکہ ہندوؤں کی شادی اس کے سامنے ماند پڑجاتی ہے۔ کوئی پاکستان شائد ہی ایسا ملے جو شادیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا نہ ہو اسکے باوجود وہ یہ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ لعنت انڈیا میں ہی ہے۔<br />
بنگلہ دیش، کیرالا وغیرہ میں صورتِ حال یہ ہیکہ ایک معمولی چپراسی کیوں نہ ہو کم سے کم دو لاکھ روپئے نقد اور پور سامانِ جہیز وصول کرتا ہے۔ جتنی محنت سے یہ لوگ کماتے ہیں اپنی پوری کمائی صرف ا ستری دھن اور شادی کے اخراجات پر لٹا دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں غربت جتنی زیادہ ہے، عورتوں کی کمائی کھانے کا رجحان بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://jahez.aleemkhanfalaki.com/chapters/indopak-problem/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

