ولیمہ

ولیمہ سنت ہے لیکن ۔۔۔

مہر میں بے اعتدالی کی طرح اگر ولیمہ میں بھی بے اعتدالی ہو تو اس کے نقصانات وہی ہوتے ہیں جو جوڑے جہیز اور کثرتِ مہر کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ آج سے پچیس تیس سال قبل تک سعودی عرب میں یہ رواج عام تھا کہ کسی کے ہاں اگر ولیمہ ہوتا تو گلی میں شامیانے لگتے ، دولہے کی طرف سے کوئی شخص تمام پڑوس کے گھروں پر جاتا ،چاہے کوئی ہندی پاکستانی ہو کہ مصری یا سوڈانی ، اُسے زبانی دعوت دیتا کہ آج پڑوس میں فلاں کا ولیمہ ہے شریک ہوجائیے ۔ یہ صحیح سنت بھی تھی لیکن افراطِ زر نے اب رسم و رواج بدل دئیے ہیں ۔ اب جب تک قیمتی شادی خانے کرائے پر نہ لیے جائیں ، ضرورت سے کہیں زیادہ کھانا بنوا کر آخر میں پھینکا نہ جائے ولیمہ مکمل ہی نہیں ہوتا ۔
مہر کی زیادہ رقمیں یوں بھی مردوں پر کوئی کم بوجھ نہ تھیں جو اب ولیمے کے سسٹم نے مزید ظلم ڈھایا اور ان کی کمر توڑ دی ۔ لوگ اعانت ا نفاق بلکہ صدقات مانگ کر مہر اور ولیمے کی رقمیں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ مسجدوں میں باضابطہ اپیل ہوتی ہے ، سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس کام کے لیے مختص ہیں جو نوجوانوں کی شادی کے لیے چندے جمع کرتے ہیں اور تقسیم کرتے ہیں جس طرح یہاں جوڑے جہیز نے لڑکی والوں کو بھکاری بنادیا اسی طرح وہاں مہر اور ولیموں کی زیادتی نے لڑکوں کو بھکاری بنادیا ۔ ایسا انفاق کرتے ہوئے دینے والے کو نیکی یا ثواب کی بھی خوشی نہیں ہوتی کیوں کہ یہ سراسر بدعت ہی نہیں سماج کو اخلاقی طور پر تباہ کرنے والی مدد ہے ۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی کسی لڑکی یا لڑکے کی شادی کے لیے چندہ جمع کرنے کی نہ کسی کو ترغیب دی ، نہ صحابہ میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے ، البتہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کسی کو زرہ بیچ کر جہیز اور مہر و ولیمہ کا انتظام کرنے کی ترغیب دی تو کسی کو کلہاڑی فراہم کی کہ جاؤ لکڑی کاٹو اور اپنا گزر بسر کرو
مال مفت دل بے رحم ، جب مفت کا مال ہاتھ آتا ہے تو خرچ بھی ناجائز طریقوں سے ہوتا ہے ۔ یہاں لوگ غریب لڑکی کی شادی پر پُر درد اپیل کر کے چندے جمع کرتے ہیں اور ساری فضول رسمیں حتی کہ آتش بازی ، ویڈیو اور فوٹو البم تک بنواتے ہیں وہاں بھی اسی طرح مرد حضرات فلاحی اداروں سے اعانت حاصل کر کے گھر ڈیکوریشن فرنیچر وغیرہ پر دل کھول کر خرچ کردیتے ہیں ۔ ایسے موقعوں پر تاجر بھی دو ہزار کی چیز کو چار ہزار میں فروخت کرتے ہیں ۔

ولیمہ کیا ہے ؟

یہ صرف ایک اعلان ہے کہ فلاں عورت اب فلاں شخص کے نکاح میں ہے ، اس کی اولاد اب فلاں کی وارث ہوگی ۔ لیکن ہندو رسموں میں یہ بہت اہم ہے کہ ڈنکا بجے اور لوگ جمع ہوں ، خوب دھوم دھڑاکا ہو کیوں کہ شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے بار بار نہیں ۔ اس لیے جب تک خوب ہنگامہ نہ ہو شادی محسوس ہی نہیں ہوتی ۔ ان کے ہاں یہ ایک ارمان ہے اب یہ ارمان پورے عالم اسلام میں در آیا ہے ۔ سچ فرمایا حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے کہ شریف کو غصے میں اور رذیل کو خوشی میں پہچانا جاتا ہے ، ایک جائز موقع کو لوگ ناجائز طریقوں پر منانے لگیں تو وہ معاشرہ یقیناً دکھاوے فضول خرچی، فخر و غرور میں مبتلا ہوگا اور اس کا انجام ہوگا مال کی بربادی ، قرضوں کی لعنت، امداد کی طلب اور ایک دوسرے کی تقریبات کو دیکھ کر اس سے زیادہ شاندار کرنے کی آرزوئیں ۔گھر اللہ کی رحمت و برکت سے محروم ہوجائینگے۔ اور ہو بھی یہی رہاہے ایک طرف شرحِ طلاق بڑھتی چلی جارہی ہے۔ دوسری طرف گھریلو تشدّد کے واقعات ہر روز اخبارات کی زینت بنتے چلے جارہے ہیں۔

النکاح من سنتی ‘ میں ولیمہ کیا ہے ؟

مولانا تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ :
ولیمہ فرض یا واجب نہیں حسب استطاعت کرنا مسنون ہے اس کے نہ کرنے سے نکاح میں کوئی حرج نہیں ۔ استطاعت نہ ہو تو دوست احباب اپنا اپنا کھانا جمع کرلیں اس کے لیے قرض لینا منع ہے ۔ اسی کو ’ نکاح ‘ کو آسان کرنا کہتے ہیں ۔
حدیث : آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عبدالرحمان بن عوف سے فرمایا کہ :
اولم و لو بشاة
ولیمہ کرو چاہے ایک بکری کا کیوں نہ ہو ۔(مشکوٰة 278)

سب سے بڑا ولیمہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت زینب (رضی اللہ عنہا) سے نکاح کے وقت کیا تھا اور وہ ایک بکری کا تھا ۔ دوسرے ولیموں میں دو مد جو ( دیڑھ کلو جواری ) کی روایت ملتی ہے ۔
حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا ولیمہ کھجو ر ، منقہ اور سادہ پانی پر تھا ۔ جس شخص کو ولیمہ اپنی پوزیشن ، شہرت رواج یا یادگار کے طور پر کرنے کی نوبت آئے اور اسراف کی حدوں سے گزرنا پڑے اُیسے شخص کو فاسق کہا گیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فاسق کی دعوت قبول کرنے سے منع کیا ہے ۔ ( مشکوٰة )
حدیث : ’ بدترین ولیمہ کا کھانا وہ ہے جس میں مالداروں کو دعوت دی جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے ‘ ۔

آجکل کی ولیمہ دعوتیں کیا جائز ہیں

ایک طرف آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کا حکم ہے کہ ولیمہ کی دعوت کو قبول کریں دوسری طرف عہدِ حاضرمیں ولیمہ کی دعوتوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ نوّے فیصد دعوتیں غرور، تکبر، تفاخر اور دکھاوے سے بھر پور ہیں۔ ایسی دعوتوں کے تعلق سے فرمانِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ ہیکہ :
”جو شخص شہرت کے واسطے کام کرے گا اللہ اُسے شہرت دے دے گا اور قیامت کے روز رسوا کرے گا“۔
اسی لئے فقہاء نے ایسی دعوتوں میں شرکت سے منع فرمایا ہے جو محض شہرت ، نمود اور تفاخر کے طور پر کی گئی ہوں۔
(رد المختار ، جلد 5 ، صفحہ 245)۔
نیز حدیث میں ان دو لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے بھی منع کیاگیا ہے جو آپس میں مقابلے میں کھلاتے ہیں۔ کیونکہ اسکے پسِ پردہ رِیاکاری، تکبر اور تفاخر کا جذبہ زیادہ کارفرما ہوتا ہے۔
لڑکے والوں اور لڑکی والوں کے درمیان ایک خاموش مقابلہ رہتاہیکہ کون کتنے آدمیوں کو کھانا کھلائیگا۔ شہر کے کتنے بڑے لوگ اسمیں شریک ہونگے اور اور کون کتنی ڈِشیں بنوائیگا۔ کہیں چار قسم کی بِریانی ہے تو کہیں پانچ قسم کے گوشت۔ اُدھر عورتوں میں کپڑوں ، زیوروں اور میک اپ کے ایک سے اعلیٰ ایک مظاہرے ہیں۔ مہمانوں کے درمیان تحفوں کے مقابلے ہوتے ہیں۔

لوگ قسمیں کھاتے ہیں کہ ایسی عالیشان دعوتیں کرنے کے پیچھے ان کے دل میں کوئی غرور یا تفاخر کا جذبہ نہیں بلکہ صرف اعلیٰ مہمان نوازی کی خواہش ہے۔ کئی لوگ جواز نکال لاتے ہیں کہ اللہ نے جب مال دیا ہے تو اُسے کھانے کھلانے پر خرچ بھی کرنا چاہئے۔ اللہ نے مہمان نوازی سے منع کہاں کیا ہے وغیرہ۔
یہ جھوٹ کہتے ہیں۔
اگر ولیمہ پر اِسطرح کا خرچ کرنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہوتا تو عبد الرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) اور عثمان غنی (رضی اللہ عنہ) سے زیادہ امیر اور کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے کیوں ایسی پرتکلف دعوتیں نہیں کیں؟ اگر آج لوگوں کے دل میں تفاخر نہ ہوتا تو وہ معیار شہر کے بڑے لوگوں کی دعوتوں کو نہیں بناتے بلکہ ان صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو بناتے۔ مقابلہ دکھاوے کا نہیں سادگی کا کرتے۔ جب ان سے قرآن، حدیث اور سیرتِ صحابہ (رضی اللہ عنہ،) بیان کی جائے تو سِرے سے نظر انداز کرتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کے ذہن میں وہ بے شمار دعوتیں ہوتی ہیں جن میں یہ شرکت کرچکے ہیں اور خود گواہ ہیں کہ ان دعوتوں میں اسراف اور غیر ضروری لوازمات کے اور کچھ نہیں لیکن جب ان کی باری آتی ہے تو ان کا سر شرم سے اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے آگے نہیں بلکہ ان لوگوں کے سامنے جھک جاتا ہے جنہیں بلاکر اگر اُسی طرح نہ کھلایا جائے جسطرح انہوں نے اِن کو کھلایا ہے۔
یہ معیار جب نو دولتیئے امیر وں نے قائم کیا تو متوسط افراد نے قرض لے کر اور غریبوں نے چندہ، خیرات اور زکوٰة مانگ کر اس معیار کی تقلید کرنی شروع کی اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنا شروع کیا۔ وہ کونسی شئے ہے جو انہیں اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پسند و ناپسند معلوم ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی، نافرمانی اور آناکانی پر اُکساتی ہے ؟ پتہ چلے گا کہ سوسائٹی میں اپنے مقام کا زعم، مذاق اڑائے جانے کا خوف ، اپنے دریادل، مہمان نواز یا کلچرڈ امیج قائم کرنے کا جذبہ ، یہی وہ چیزیں ہیں جو ان لوگوں کو اسراف اور دکھاوے پر مجبور کرتی ہیں۔ کئی افراد تو ایسے بھی ہیں جو واقعی ایسی دعوتوں میں سادگی کا معیار قائم کرنا تو چاہتے ہیں لیکن ان میں عورتوں کو سمجھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ہندوستان اور پاکستان کے معاشرے میں عورت حکمران ہے۔ بالخصوص خوشی کے موقعوں پر سارا نظام عورتوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ مرد بھولے پن سے یہ سمجھتا ہے کہ عورت کا محض دل رکھنے کی خاطرمروّت میں اجازت دے رہاہے جبکہ حقیقت میں عورتوں کے آگے وہ ہتیار ڈالتا چلا جارہا ہے ۔
مومن کا نفس اسکے قرضے کے بدلے معلق رہتاہے۔ حتٰی کہ اسکا قرض ادا کردیا جائے۔ یعنے جو شخص مقروض ہوکر مرا تو وہ اُس وقت تک معاف نہ کیاجائے گاجب تک اسکا قرض نہ ادا کیا گیا ہو۔ شادی بیاہ کیلئے سودی قرض اس رو سے شرعاً حرام قرار پاتے ہیں۔ جو لوگ قرض لے کر شادیاں اور ولیمے کرتے ہیں وہ خود سوچ لیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔
قاعدہ شرعی یہ ہیکہ جو مباح ذریعہ معصیت اور معیّن جرم بن جائے وہ بھی معصیت اور جرم ہو جاتا ہے۔ پس جو نکاح اور ولیمہ کے احکامات جاننے کے باوجود اس سے روگردانی کرے اور غیر لازم کو لازم کرے اور غلط پر بجائے شرمندہ ہونے کے اصرار کرے وہ حرام کے دروازے نہ صرف خود پر بلکہ اپنے پورے خاندان اور احباب پر کھول رہاہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ نے” بہشتی زیور“ میں ان تمام امور پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا :
” غیر لازم کو لازم سمجھنا بدعت اور ضلالت ہے لہذا اسکا ترک کرنا واجب ہے“۔
(بہشتی زیور ، حصّہ ششم ، اصلاح الرسوم)۔

ایک تجویز : ولیمہ ڈِنر  شادی کے دن ہی کیوں نہیں دیا جا سکتا؟

شریعت کے ہر حکم کے پیچھے عِلّت دیکھی جاتی ہے۔ ولیمہ کی علت یہ ہیکہ نکاح کا اعلان ہو۔ نکاح کے اگلے روز ولیمہ ہونے میں مصلحت یہ تھی کہ دلہا دلہن کی ملاقات کے بعد جبکہ وہ ایک دوسرے سے مطمئن بھی ہوچکے ہوں، دونوں کے درمیان رشتہ اور تعلق مصدق Confirmed ہوجاتاہے۔ اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) کے طریقے کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء بالخصوص امام ابو حنیفہ رحمة اللہ نے ولیمہ شبِ نکاح کے اگلے دن کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر پوری شادی کی کاروائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) کے طریقے کے مطابق ہورہی ہو تو ولیمہ بھی انہی کے طریقے پر ہونے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اگر لوگ کئی دوسرے امور تو اپنی مرضی یا پھر ہندو اور عیسائی طریقوں کی تقلید میں کریں اور ولیمہ کیلئے فقہی جواز پیش کریں تو یہ زیادتی ہے۔ اگر لوگوں کی ضرورت یہ ہو کہ وہ نکاح کے دن ہی تمام دوستوں اور رشتہ داروں میں اعلان کرنا چاہتے ہوں تو یہ ان کی اپنی پیدا کی ہوئی ضرورت ہے نہ کہ شرعی۔

ا سلئے فریقین کی رضامندی سے بجائے ولیمہ کے دن کے، نکاح کے دن بھی کھانا کھلایا جاسکتاہے۔ اور یہی طریقہ تمام عرب ممالک میں رائج ہے جہاں کی اکثریت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ، امام مالک رحمة اللہ یا امام شافعی رحمة اللہ کی تقلید کرتی ہے۔ وہاں نکاح گھروں پر یا شادی خانوں پر نہیں ہوتا بلکہ محکمہ (عدالت) میں ہوتا ہے۔ قاضی چل کر دلہا کے پاس نہیں آتا بلکہ دلہا دلہن کو چل کر اسکے پاس جانا پڑتاہے۔ دونوں مع ولی اور شاہدوں کے قاضی کے سامنے حاضر ہوتے ہیں، ایجاب و قبول قاضی کے سامنے انجام پاتاہے، قاضی کی موجودگی میں مہر کی رقم ادا کی جاتی ہے ۔ اس پوری کاروائی کو خطوبہ یا خِطبہ کہتے ہیں۔ اسطرح قانون طور پر دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں۔ پھر وداعی کی تقریب منعقد ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ اُسی دن ہو۔ دونوں فریق اپنی اپنی سہولت سے دن مقرر کرتے ہیں۔ وداعی کے دن ہی تمام مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتاہے۔ وداعی کے بعد مزید کوئی دعوتِ طعام کا طریقہ عرب ممالک میں نہیں ہے۔ چونکہ وداعی کے دن کا کھانا لڑکے والوں کی طرف سے کھلایا جاتا ہے جسمیں لڑکی کے بھی سارے رشتہ دار جمع رہتے ہیں اسلئے اسی کو ولیمہ تصوّر کیاجاتاہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ملتی ہیکہ ولیمہ نکاح کے تین دن کے اندر کرنا افضل ہے، ایک اور حدیث میں سات دن بھی بیان ہوا ہے۔
(ترمذی، سنن، کتاب النکاح بہ روایت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ)۔
علماء کی رائے اس بارے میں منقسم ہیکہ پہلا دن نکاح کے دن کو ہی گِنا جائے یا شبِ وصال کے بعد کے دن کو۔ جن علماء نے نکاح کے دن کو ہی پہلا دن قرار دیا ہے وہ اس کی تائید میں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ام المومنین حضرت ام حبیبہ (رضی اللہ عنہا) سے نکاح پیش کرتے ہیں۔ نجاشی نے اس محفل نکاح کو منعقد کیاتھا۔ اسمیں جعفر بن طیار (رضی اللہ عنہ) اور دوسرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) موجود تھے۔ اسمیں نجاشی نے خطبہ پڑھا اور دوسری طرف سے ان کے وکیل خالد بن سعید (رضی اللہ عنہ) نے خطبہ پڑھا۔ اسکے بعد نجاشی نے تمام حاضرین کی دعوتِ طعام کی۔
اور اسکا یہ قول یوں نقل کیا گیا ہیکہ : ” تزویج کے بعد کھانا ہوتا ہے“۔
(رحمة للعلمین از قاضی محمد سلیمان منصورپوری بحوالہ الاستیعاب لابن عبدالبر ۔ زندگی نو ، مارچ 1995)۔

یہ جواز اسلئے بھی قوی ہیکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خودوہاں موجود نہیں تھے۔ اسلئے حضرت ام حبیبہ (رضی اللہ عنہا) سے ان کا وصال ممکن نہیں تھا۔ بعد از وصال آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے پھر ولیمہ کی کوئی روایت بھی موجود نہیں ہے۔ اسلئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ”ولیمہ کیلئے نکاح شرط ہے وصال شرط نہیں“۔
بہتر تو یہی ہیکہ نکاح مسجد میں ہو، اور بغیر کسی دھوم دھام کے لڑکی کے گھر ہی سے لڑکی کی وداعی ہو۔ لڑکا اگلے دن کھانا کھلائے اور اعلان کرے۔ کھانا کھلانا دراصل اعلان ہی کی صورت ہے۔ لیکن اگر لڑکے والوں کا یا لڑکی والوں کا اصرار ہو کہ اعلان نکاح کے دن ہی کردیا جائے تو بجائے اس بدعت کے کہ نکاح کے دن لڑکی والوں کے خرچ پر کھانا کھلایا جائے اور اگلے دن لڑکے والوں کے خرچ پر دوبارہ کھلایا جائے۔جو کہ سراسر بدعت اور اسراف ہے اگر لڑکا عربوں کی طرح ولیمہ کرے تو اسمیں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ وہ یہ کہ لڑکا ایک ایسی چیز سے بچ جائیگا جو حرام کے ارتکاب کی طرف لے جاتی ہے یعنی اسراف، اکل الاموال بالباطل (لڑکی والوں پر دستورِ زمانہ کے نام پر کھانے کے اخراجات کا بار ڈالنا) ، اور ایک ایسا کام کرنا جو النکاح من سنتی کے طریقے سے خارج ہے۔
آج کی تاریخ میں بڑے شہروں جیسے کراچی یا لکھنو یا حیدرآباد دکن میں ایک کھانے کی دعوت پر کم سے کم چھ سات لاکھ روپئے کا خرچ آتا ہے جو صاحبِ استطاعت لوگوں کیلئے کوئی بار نہیں لیکن متوسط اور غریب طبقے کیلئے یہ ایک مصیبت ہے جسکا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو اس مشکل سے گزرے ہیں۔ انہیں بھی کم سے کم دو تین لاکھ تو خرچ کرنا ہی پڑتا ہیں۔ وہ اس سے فرار اسلئے بھی نہیں حاصل کرسکتے کہ خوشحال لوگ جو ماڈل پیش کردیتے ہیں وہی سوسائٹی کا چلن تصور کیا جاتا ہے۔ اگر دوسرے لوگ اسکی تقلید نہ کریں تو لڑکی کو سسرال میں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ صاحبِ استطاعت حضرات کو اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کہ شریعت کا حکم ٹوٹتا ہے۔ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ دو چار عمرہ یا حج کرلینے سے اور کچھ انفاق و خیرات میں اضافہ کردینے سے ہر گناہ دُھل جائیگا۔ مشکل میں تو وہ لوگ پڑجاتے ہیں جو زمانے کے دستور کو باقی رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور بیٹی کی عزت کی خاطر شریعت کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اوپر ہر مشکل لاد لیتے ہیں۔

متاعِ دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خونریز ہے ساقی

اسلئے لوگ اگر دو الگ الگ ڈِنر رکھنے کے بجائے ایک ہی دن رکھیں تو غریب امت کے نہ صرف کروڑوں روپئے کی بچت ہوگی بلکہ امت کی اس نادانی کا فائدہ اٹھانے والے شادی خانوں کے مالک اور دوسرے تمام لوازمات مہیا کرنے والے کاروباری دام کم کرنے پر خود بخود مجبور ہوجائینگے۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

ایک تبصرہ

  1. SUBHAN :

    assalamoalaikum
    hi khan saheb
    kia zabardast tadakh mazmoon balke pouri kitab aisi hai ke log amal karlein tou subhan allah kam az aadhay masayel hal ho jayen duniya ke-
    JUST A QUESTION WHAT U HAVE WRITTEN IN THE BOOK HAVE U TAKEN ANY ACTION IN PARTICULAR
    DO U HAVE COURAGE TO REFUSE ANYARTY MARRAIGE THAT IS INCULIDED ALL THIS NONSESNE AS U MENTIOND SO NOT ATTEND TO IT

    ANY ACTIONN FROM YOU PERSONALLY OR GROUP THAT IS WORKING
    TALKING BEAUTIFUL KNWO ANY ONE BUT DO WHO WILL OF THE

تبصرہ ارسال کریں