قاضی صاحبان کا رول

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلّاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

خطبہ کی اہمیت

قاضی حضرات خود غور فرمائیں کہ ایک مکمل شریعت موجود ہونے کے باوجود عورتوں کو پولیس اور کورٹ کا کیوں سہارا لینا پڑتا ہے ۔ آئے دن پرسنل لا سے متعلق کوئی نہ کوئی جھگڑا کھڑا ہوتا رہتا ہے اور اخبارات اسکو کس قدر اچھالتے ہیں یہ بھی سب کے علم میں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور میں خطبہ کو اہمیت دی جاتی تھی ۔ عام اوقات میں بھی جب کوئی اہم بات آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہنی ہوتی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اٹھتے ، منبر پر تشریف لاتے اور خطبہ دیتے ۔ اسلام میں خطبہ کی بڑی اہمیت ہے جیسے جمعہ کی نماز کا خطبہ ، اس کی اہمیت کے پیش نظر چاروں ائمہ کرام کے نزدیک دوران خطبہ نماز ، تلاوت ، سلام کا جواب حتی کہ ذکر بھی منع ہے ۔ اسی لیے علماء کی اکثریت نے خطبہ سننے کو واجب کہا ہے۔ اسی طرح خطبہ عیدین بھی ہے یا جب کسی کی تدفین کا موقع ہوتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس وقت بھی خطبہ دیتے ۔ ایسے مواقع لوگوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ بدقسمتی سے آج یہ سارے مواقع ناکارہ کردئیے گئے ہیں۔ ہمارے امام ، خطیب اور قاضی صاحبان کو چاہئے کہ ایسے اہم موقعوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور لوگوں کو حلال و حرام بتائیں۔ ازدواجی زندگی سے متعلق ہر اہم بات جس کا دینی اخلاقی و معاشرتی زندگی پر اثر پڑتا ہو وہ کھول کھول کر پیش کریں ۔
مفتی محمد شفیع (رحمۃ اللہ علیہ) نے فرمایا کہ :
خطبہ کے مسنون اجزاء حمد و درود ، دعا اور حالات حاضرہ کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہیں ۔
(جواہرالفقہ)۔
آخری جز ہمارے قاضی حضرات نے اپنے فرائض سے یوں خارج کردیا ہے گویا یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں ۔

کیا یہ عقد ہے ؟

عقد یا نکاح کے معنی ایک قرار داد Agreement کے ہیں ۔عقد یا ایگریمنٹ کا واضح اعلان اصل نکاح ہے ، نہ کہ سکہ ’ رائج الوقت و سرخ دینار کا رسمی اعلان۔ دراصل اسلام نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے جتنے موثر ترین Most Effective طریقے ہمیں دئیے تھے وہ سب ہم نے ناکارہ کردئیے ہیں۔ انہی میں سے ایک خطبہٴ نکاح بھی ہے ۔ قاضی حضرات کو شریعت نے ایک استاد ، امام ، مربی اور خطیب کا مقام دیا وہ اس دس پندرہ منٹ کے وقفے کو استعمال کر کے شریعت کے احکامات لوگوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا ان کی اہم ترین ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری سے سبکدوش یہ خود ہوئے ہیں ۔ انہیں جلد سے جلد دستخطیں لے کر اپنی فیس وصول کر کے کسی دوسرے نکاح کی تقریب میں بھاگنے کی جلدی ہوتی ہے ۔ چونکہ نکاح ناموں کی قانونی اہمیت ہے ، ان قاضیوں کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے اس لیے قضاء ت کا کام بھی ایک سرکاری کاروبار کا حصہ بن گیا ہے ۔ کورٹ میریج اور اس تقریب نکاح میں سوائے اس کے کوئی فرق نہیں رہا کہ کورٹ میں آفیسر عربی میں چند آیات پڑھ کر فاتحہ نہیں کہتا اور گواہ اپنے سروں پر کچھ دیر کے لیے ٹوپیاں یا دستیاں نہیں رکھتے ۔
قاضی حضرات جب خطبے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں وہ اُس وقت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جانشین ہوتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایسے موقع پر اہم ہدایات ایک امانت ہیں جن کو پہنچانا خطیب کی ذمہ داری ہے۔ لوگ سنتے ہیں یا نہیں، عمل کرتے ہیں یا نہیں یہ سوچنا جب نبیوں کا منصب نہیں تو قاضی یا خطیب کا کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے موقع پر قاضی حضرات دو ٹوک الفاظ میں اگر یہ بیان کریں کہ جوڑا جہیز حرام ہے ۔ نکاح کے دن کا کھانا کسی طرح جائز نہیں اور دیگر رسمیں جنمیں اسراف، تفاخر اور لہوالحدیث پوشیدہ ہے وہ ساری کی ساری حرام ہیں تو لوگوں کے دلوں میں کانٹے تو چبھ سکتے ہیں۔ سننے والوں میں ایسے چند زندہ ضمیر تو موجود ہوتے ہیں جن پر یہ باتیں اثر کرجاتی ہیں۔

نکاح نامے میں جوڑا جہیزاور مہر مؤجل کا اعلان کیوں نہیں ہوتا؟

شریعت میں ’اصل ‘ دیکھی جاتی ہے ۔ نکاح کی اصل بھی ایگریمنٹ کا اعلان ہے جس کو آج کے عرف یا رواج کے مطابق ہونا چاہئے ۔مہر کی رقم کے اعلان کے ساتھ ساتھ جتنا جہیز، نقدی وغیرہ کا لین دین ہوا ہے اسکا بھی اس عقد میں زکر ہونا لازمی ہے۔ ورنہ یہ انصاف نہیں ہے کہ مرد جوکچھ دے رہا ہے اس کا تو بھری مجلس میں اعلان ہو اور عورت جو مرد کو دے رہی ہے ، اس کا ذکرتک نہ ہو ۔ نکاح نامے میں بھی اس لین دین کی صراحت ہونی چاہئے تاکہ رشتہ نہ نبھنے کی صورت میں عورت کو اس کا پورا پورا مال واپس مل سکے ۔ بارات ، کھانا ، شادی خانے کا بل وغیرہ یہ لڑکی کے سرپرست پر نہیں بلکہ لڑکے کے ذمہ ہیں ، اگر اس کی طرف سے لڑکی والے یہ خرچ اٹھاتے ہیں تو یہ ایک قرض ہے جو لڑکے کو کبھی نہ کبھی ادا کرنا ہے ، اس کا بھی نکاح نامہ میں تصریحاً ذکر ہونا چاہئے ۔
بالخصوص مہرمؤجل کا بھی عقد نامے میں واضح طور پر یہ اندراج ہوکہ وہ کب اور کیسے دیا جائیگا۔ چونکہ شریعت میں مہر کا مطلب مہر معجّل ہے اسلئے اسکا کتابوں میں تذکرہ نہیں ملتا کہ کب اور کیسے دیا جائیگا ۔ لیکن آج چونکہ لوگوں نے شریعت کو اپنی سہولت کے مطابق بدل دیا ہے اسلئے یہ بھی عقد نامے میں واضح ہونا چاہئے کہ مہر کب اور کیسے دیا جائیگا۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں