مشائخین کا رول

رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوزِ مشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے ساقی

کرے گی داورِمحشر کو شرمسار اک روز
کتابِ صوفی و ملّا کی سادہ اوراقی

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

مشائخین کا تاریخی کردار

اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ سواد ِاعظم کی دینی و روحانی قیادت کس کے ہاتھوں میں ہے اور ذہنوں اور عقیدوں پر آج بھی کس کی حکمرانی ہے؟ تو ہم یہی کہیں گے کہ مشائخین کی ۔
اس کی وجہ بھی ہے وہ یہ کہ ہندوستان میں اگر اسلام کسی نے پھیلایا تو وہ تھے معین الدین چشتی (رحمۃ اللہ) ، نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ) ، فرید الدین بابا شکر گنج (رحمۃ اللہ) وغیرہ ۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی (رحمۃ اللہ) نے سات جلدوں پر مشتمل ’ دعوت و عزیمت ‘ میں یہی پیش کیا ہے کہ کس طرح ان صوفیوں نے ہندوستان کے مشرکانہ ماحول میں داخلہ لیا کس طرح حالات کا مقابلہ کیا اور لوگوں کی زندگی سے شرک دور کیا ۔ ان کی قربانیوں اور للہیت کے نتیجے میں اللہ تعالی نے انہیں کرامات سے بھی نوازا ۔ انہی میں قطب و ابدال و اولیاء پیدا ہوئے ۔
آج بھی لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان کرامات کے لیے انہی کی درگاہوں کا رخ کرتے ہیں ۔ بڑی بڑی جماعتیں اور لیڈر اور علماء اتنے افراد اکٹھا نہیں کرسکتے جتنے افراد مشائخین حضرات بغیر کسی اعلان یا تشہیر کے ہر سال عرس کے موقع پر جمع کرلیتے ہیں ۔ آج بھی جگہ جگہ غوث اعظم (رحمۃ اللہ) اور دوسرے بزرگان دین کے چلے ، چادریں، گیارہویں کے جھنڈے ، فاتحہ درود ، برُدے شریف اور میلاد النبی کی محفلیں اور جلوس و جلسے اس بات کا ثبوت ہیں کہ روحانی قیادت آج بھی مشائخین کے ہاتھوں میں ہے ۔ سادہ لوح عوام کو یہ جس چیز کا حکم دیں ان کے لیے پتھر کی لکیر بن جاتی ہے ۔
صوفیائے کرام نے ہندوستان سے ہر مشرکانہ رسم مٹانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ آج اُن کے جانشینوں سے غریب لڑکیاں اور مجبور ماں باپ فریاد گوہیں کہ مشرکانہ رسم رواج آج مسلم معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں ، مشائخین آگے بڑھیں اور سنت اجمیری نبھائیں ۔ اُن بزرگوں نے تو مشرکانہ رسم و رواج کا ہندوستان سے خاتمہ کرنے اور اللہ کے محبوب کی سنّتوں کو اس سرزمین پر قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا لیکن آج وہی مشرکانہ رسم و رواج اور کافرانہ طور طریق مسلمانوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایک مشرک کو مشرّف بہ اسلام کرنا شائد آسان ہے، لیکن مسلمان کومسلمان بنانا بہت مشکل ہے۔ آج تمام اولیاء کے خانوادوں، سجّادوں، اور مریدوں کیلئے یہ انتہائی نازک امتحان ہیکہ وہ کسطرح ان بزرگوں، ولیوں، قطب و ابدال کی عظمتوں کو بحال کرتے ہیں اور ان کے مشن کو پھر سے ہندوستان پاکستان میں جاری و ساری کرتے ہیں۔

مشائخین کا سوسائٹی میں مقام

یہ جس تقریب میں شرکت کریں اسے تقدس حاصل ہوجاتا ہے ۔ جس تصویر میں نوشہ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں وہ تصویر یا ویڈیو نوشہ کے لیے باعثِ فخر، متبرک اور یادگار بن جاتی ہے ۔ کاش ایسا ہوتا کہ یہ مشائخین حضرات ہر مرید اور عقیدت مند سے یہ فرما دیتے کہ جوڑاجہیز حرام ہے چاہے خوشی سے دیاگیا ہو یا کہ مطالبے یا فرمائش پر۔یہی تو وہ موقع ہے جب اہلِ بیت پر جان نثار کرنے والوں، سید الہاشمی کے سلسلہ نسب کا فخر کرنے والوں اور عشقِ رسول میں ”لك مالي فدا لك جاني فدا“ کے سلام پڑھنے والوں کیلئے علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہ) کے خاندان کی روایت کی مکمل حفاظت کرتے ہوئے انہی کے طریقے پر نکاح کی ترغیب دیں تاکہ ان کی نسلوں میں بھی حسن (رضی اللہ عنہ) و حسین (رضی اللہ عنہ) جیسے فرزندانِ توحید پیداہوں اور سید خاندان کی سادگی، دینداری اور اہلِ بیت کی صحیح وراثت عمل سے بھی ثابت ہو۔
اگر شانِ رسالت اور شانِ سید الہاشمی نسب کے یہ جانشینی کے دعویدار اگر ایسی تقریبات میں ہرگز شرکت نہ کریں اور نہ ایسے لین دین کرنے والے افراد کو اپنے حلقہ بیعت واردات میں آنے دیں تو نہ صرف یہ کہ چند سالوں میں ایک مشرکانہ رسم کا خاتمہ ہوجائے گا ، بلکہ صوفیائے کرام کے وہ تمام کارنامے جن سے تاریخ روشن ہے لیکن ان کے جانشینوں اور مجاوروں نے ان کارناموں کی تجارت کر کے ان بزرگوں کی کرامات و فیوض پر پردہ ڈال دیا ہے وہ کارنامے پھر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجائیں گے ۔
آج بدقسمتی سے جوڑا جہیز لینے دینے والا ایک بڑا طبقہ انہی مشائخین اور ان کے ماننے والوں کا ہے ۔جیسے کہ ایک عربی مقولہ ہے :
الناس علي ملوكهم
لوگ اپنے بادشاہوں کی پیروی کرتے ہیں۔
چونکہ آج مشائخین روحانی بادشاہ ہیں ، اس لیے عوام کی اکثریت انہی کے کہنے پر چلتی ہے ۔ عوام میں جذبہ تحقیق و شوقِ مطالعہ نہیں ہوتا ، عوام کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ
اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ …. // التوبة:31
اللہ کو چھوڑ کر یہ لیڈروں اور مرشدوں کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں ۔

حضرت عدی بن حاتم (رضی اللہ عنہ) نے جو پہلے عیسائی تھے اسی آیت کے ضمن میں یہ سوال کیا کہ :
ہم نے تو کبھی انہیں اپنا خدا نہیں بنایا ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا ’ کیا وہ کسی بات کو جائز کہیں تو تم جائز نہیں سمجھتے تھے ‘ ؟
حضرت عدی (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ہاں !
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا ’ کیا یہی مرشد اور قائد جس چیز کو حرام کہہ دیتے تم اس کو حرام نہیں سجھتے تھے ‘ ؟
حضرت عدی نے فرمایا ’ ہاں ‘ ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی ان کو اللہ کی جگہ اپنا رب بنا لینا ہے ۔
(ترمذی)

شیر مردوں سے ہوا پیشہ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

مشائخین حضرات کو بھی اللہ تعالی نے ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ لوگ ان کے پاس جوق درجوق آتے ہیں ، اگر انہیں یہ اسلام کی صحیح د عوت پیش کرنے میں ناکام ہوئے تو نہ صرف اس منصب کی تذلیل ہے اور نہ صرف صوفیائے کرام کی رسوائی ہے بلکہ پوری انسانیت پر ایک ظلم ہے ، اسلام امن کا دین ہے ۔ آج ساری دنیا امن اور سکون چاہتی ہے ۔ لیکن امن کے پیغامبر مریدوں اور عقیدت مندوں کے ہجوم میں اصل پیغام کو بھول جائیں تو انسانیت کا اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے ؟

دورِ حاضر ہے حقیقت میں وہی دورِ قدیم
اہلِ سجّادہ ہیں یا اہلِ سیاست ہیں امام

آج اتحاد امت کے لیے ساری امت آرزو مند ہے۔ عقائد کے اختلافات ، جماعتوں کے اختلافات اور علماء و لیڈروں کے اختلافات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کوئی ایسا نکتہ نہیں جس پر اتحاد ہوسکے ۔ ان حالات میں اگرکوئی ایک موضوع ایسا ہوسکتا ہے جس پر ہر جماعت ہرمسلک اور ہر گروہ متفق ہوتو سب یک زباں ہوکر کہیں گے کہ جوڑا جہیز کا ہی ایسا موضوع ہے جو Common Agenda بن سکتا ہے ۔ سب اقرار کریں گے کہ یہ حرام ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ اگر صرف جوڑے جہیز کے موضوع پر مشائخین آگے بڑھیں تو سوادِ اعظم کی زبردست طاقت Strength ان کے ساتھ ہے ۔ جمہوری نقطہ نظر Democratic Point of View کے مطابق یہی امت کے قائدین بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس عظیم سماجی انقلاب کو برپا کرنے کا بیڑہ اٹھائیں ۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *