مہر

حرام نقد حلال اُدھار

مہر عورت کی قیمت نہیں ہوتی اور نہ عورت کے پیار و عصمت کی کوئی قیمت ہوسکتی ہے ۔ یہ تو صدیوں سے ظلم اور بے بسی میں جکڑی عورت کو آزادی کا اختیار Freedom of Will عطا کرنے کے لیے اسلام نے عورت کو مہر کا حق دے دیا ۔ یہ ایک علامت symbol ہے جس کو قبول کر کے وہ مرد کو اپنانے کا اعلان کرتی ہے ۔ اگر وہ اسے قبول نہ ہو تو نہ مرد اس پر زبردستی کر سکتا ہے نہ خود اس کے ماں باپ ۔ دراصل مہر عورت کی رضا مندی Consent کا اعلان ہے ۔
قرآن مجید میں واضح طور پر جہاں بھی مہر کا حکم آیا ہے ’ نقد ‘ ادا کرنے کے مفہوم میں آیا ہے ۔ فقہاء نے اگرچہ اس کو اُدھار رکھنے کی اجازت دی ہے لیکن قرآن مجید یا سیرت رسول و صحابہ سے ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا کہ مہر کو اُدھار رکھا گیا ہو ۔ صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی مالی حیثیت کیا تھی یہ تو سبھی جانتے ہیں ۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہر ایک کو حسب استطاعت جتنا نقد ادا کرسکتے ہوں ادا کرنے کا حکم دیا ہے بشرطیکہ وہ عورت کو قبول ہو ۔
کسی صحابی (رضی اللہ عنہ) کو زرہ فروخت کرنے کا حکم دیا کسی کے پاس صرف ایک چادر تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہی چادر دینے کا حکم دیا ۔
کسی کو صرف قرآن مجید کی کچھ آیتیں یاد تھیں ، اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہی سورتیں عورت کو یاد دلادینے کے کام کو مہر کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا ۔
حضرت اُم سلیم (رضی اللہ عنہا) کا واقعہ قابل مثال ہے کہ انہوں نے ابوطلحہ (رضی اللہ عنہ) جیسے امیر شخص کے لیے مہر میں صرف کلمہ پڑھنے کی شرط رکھی۔ (اُس وقت تک ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اسلام نہیں لائے تھے ) ۔
شادی کے رقعوں پر النکاح من سنتی لکھوانے والے غور کریں کہ اگر اُدھار رکھنے کا جواز ہوتا تو سیرت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) و صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے ہمیں بے شمار واقعات مل جاتے جو یقیناً بہت غریب تھے لیکن دلوں کے ایسے امیر کہ اگر وہ اُدھار بھی رکھتے تو ان کی طرف سے مہر کے ڈوب جانے کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

مہرکے فرض ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ :
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ // النساء:34
مرد کو عورتوں پر قوام اس لیے بھی بنایا گیا ہے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس کی ابتداء مہر سے ہوتی ہے ۔ جوڑا جہیز لے کر جہاں وہ اس آیت کو الُٹ دیتا ہے وہیں مہر کو اُدھار کر کے وہ ان تمام آیات کی خلاف ورزی کرتا ہے ، جن کے ذریعے عورت اس پر حلال ہوتی ہے ۔

جہیز نقد مہر اُدھار

فقہاء نے مہر کے معاملے میں عرف Prevailing Tradition کی اجازت دی ہے ۔ عرف کو جائز قرار دینے کے بعد تو خود جوڑا جہیز کے لیے بھی جائز ہونے کی دلیل نکل آتی ہے اور آج عرف یہ ہے کہ مہر صرف عورت کا نہیں ہوتا مہر عورت کی طرف سے مرد کا بھی ہوتا ہے ۔ مرد اپنا مہر پورا پورا نقد لیتا ہے اگر کوئی چیز باقی رہ جائے تو جب تک وصول نہ کرلے کوئی نہ کوئی چال چلتا ہی رہتا ہے اگر وہ معاف کردینا بھی چاہے تو اس کے گھر والے بہو پر کسی نہ کسی طرح دباو ڈالتے رہتے ہیں ۔
مہر کے لیے دو لفظ استعمال ہوتے ہیں ، تعجیل یا مہر معجل immediately Payable اور تاجیل یا مہر مؤجل Payable Later ۔۔۔ جس میں نہ کوئی ایگریمنٹ ہوتا ہے نہ مدت کا تعین ہوتا ہے نہ یہ طئے ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے دے بھی دیں گے یا بیوہ کو شوہر کی میت پر معاف کردینا پڑیگا ۔
اس طرح آج کا عرف یہ ہوا کہ مرد کا مہر مہرِ معجل اور عورت کا مہر مہرِ مؤجل ۔۔۔ جتنے بھی شریف زادوں نے مہر کو موجل Delay کیا ہے اگر لڑکی والے جہیز کو بھی موجل کرتے تو کیا یہ شریف زادے نکاح کرتے ؟

قرآن میں مہر کے بارے میں جو حکم ہے وہ فوری اداکرنے یعنی مہر معجل کے معنوں میں ہے جیسے :
وَآتُواْ النَّسَاء صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً … // النساء:4
اور عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ دیا کرو ۔

وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاء ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم … // النساء:24
ان (محرمات ) ماسوا جو عورتیں ہیں تمہارے لیے حلال کی گئیں کہ اپنے مالوں کے عوض ان سے طلبِ نکاح کرو ۔

فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً … // النساء:24
پس جو لطف تم نے ان سے اٹھایا ہے اسکے بدلے ان کے مہر ایک فرض کے طور پر ادا کرو۔

فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ … // النساء:25
(اگر آزاد عورت سے نکاح کی استطاعت نہ ہو تولونڈیوں سے) پس ان سے نکاح کرو لیکن ان کے مالکان کی اجازت کے ساتھ۔ اور دستور کے مطابق ان کا مہر ادا کرو۔

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا // النساء:21
(اگر طلاق ہوجائے تو) اور تم وہ مال کیسے لے سکتے ہوجو دے چکے ہو اور جب کہ تم ایک دوسرے کے پاس آچکے ہو ہے اور وہ تم سے عہدِ واثق لے چکی ہیں۔

مذکورہ آیات میں کسی مفسّرِ قرآن نے کہیں مہر کو اُدھار رکھنے کی گنجائش نہیں نکالی۔ مہر مقرر ہوجانے کے بعد آپس کی رضامندی سے اسمیں کمی بیشی کی تو اجازت ہے لیکن ادھار کی نہیں ۔ جو نقد ادا نہیں کرسکتے انہیں کم خرچ پر لونڈیوں سے نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ورنہ قرآن یہی حکم دیتا کہ آزاد عورت سے ادھار مہر پر نکاح طلب کرو۔ مہر کو نقد ادا کرنے کے حکم کے پیچھے مقصد ہی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ عورت کو مردوں کے اُس ظلم سے نجات دلائی جائے جو صدیوں سے چلاآرہاہے۔عرب کے مشرک سماج میں اُس وقت بھی عورت کو بیوہ یا مطلقہ ہوجانے پر دوسری شادی کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ قبیلے کے بڑے سردار اُسے داشتہ بناکر رکھتے۔ بیوہ کو منحوس تصوّر کیا جاتا۔ نکاح کیلئے اُسکی مرضی دریافت نہیں کی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کے ذریعہ عورت کی آازادی کا اعلان کیا اور اُسکی عزّتِ نفس کو بحال کیا۔اسطرح مہر کے پیچھے یہ مقصد پوشیدہ ہے کہ عورت کو مجبوری سے نہیں اپنی خوشی سے قبول کرنے کی آزادی مِلے۔ لیکن ہندوستان کے مشرک سماج میں رہتے ہوئے ہند و پاک کے مسلمانوں نے بھی وہی طریقے اپنائے جو ہندوؤں کے تھے اور عورت کو مجبور کردیاکہ مہر اُدھار رکھنے پر راضی ہوجائے۔ اوررفتہ رفتہ یہی ’عرف‘ یا ’معروف‘ بنتا چلاگیا۔ اور اس طرح عورت اسلام سے پہلے بھی مرد کے استحصال کا شکار تھی اور آج بھی ہے۔

مہر کا حکم احادیث میں

» مسلم، کتاب اللعان میں ایک واقعہ درج ہے جس میں ایک شوہر نے بیوی پر بے وفائی کا الزام دھرا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُسے الگ ہوجانے کا حکم دیا ۔ اس نے اپنا مال جو وہ مہر میں دیا تھا اسے واپس دلوانے کا مطالبہ کیا ۔ عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جواب دیا :
”مہر واپس لینے کا تجھے کوئی حق نہیں تو اس کے پاس جا چکا ہے اس لیے اب وہ مہر تیرا مال نہیں رہا اور اگر تو نے جھوٹا الزام لگایا ہے تو مہر واپس لینے کا حق تجھ سے یوں بھی دور ہوگیا“۔
» جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ یہ مہر دینا نہیں ہے وہ زانی ہے ۔
» جو مہر ادا کیے بغیر مر جائے وہ قیامت میں زانیوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ ( طبرانی )

ان تمام نصوص اور احادیث سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ یہ ہیں ۔
1) یہ کوئی رسمی نمائش Formal or Just Exhibitory شرط نہیں ہے بلکہ ایسی شرط ہے جس کے پورا ہونے پر ہی ایک مرد کے لیے عورت حلال ہوتی ہے ۔
2) مہر فوری ادا ہونا واجب ہے اور اگر دونوں کے درمیان کوئی قرار داد ہو کہ کب اور کس طرح ادا ہوگا تو یہ جائز ہے لیکن یہ قرار داد طئے نہ ہو تو یہ فوری واجب الادا یعنی معجل Immediately Payable ہوگا ۔ کیوں کہ شارع کے نزدیک اگر وقت اور طریقہ ادائیگی صاف صاف الفاظ میں طئے نہ ہوں تو تعجیل اصل ہوگی اور اس کے بعد اگر ایسا نہ ہو تو عورت کو حق ہے کہ وہ شوہر کو پاس آنے سے روک سکتی ہے ۔
( ماخوذ فقہ حنیفہ غایتہ البیان ، شرح العنایہ علی الہدایہ ، اسبیجابی ، رسائل و مسائل مولانا مودودی وغیرہ ) ۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر مہر فوری ادا نہ کیا گیا ہو اور وقت اور طریقہ ادائیگی کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہو تو رواج دیکھا جائے گا
( علامہ ابن ھمام ، فتح القدیر ) ۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ فقہ جس دور میں مرتب ہوئی اور صدیوں سے چلی آرہی ہے ، وہ دور قطعی الگ تھا مرتب کرنے والے فقہاء جن کا تعلق عرب سے تھا انہوں نے اگر ’ رواج ‘ کو جائز رکھا تو اس میں یہ بات سجھنی چاہئے کہ وہ آج کی ہندوستانی پاکستانی سوسائٹی سے قطعی مختلف تھی، وہاں تقویٰ اور اسلامی کردار کے ساتھ ساتھ سرکاری قوانین بھی اسلامی ہی ہوا کرتے تھے۔ فیصلے کے لیے کورٹ نہیں بلکہ قاضی تھے اور محکمہ قضاء ت پورے اختیارات کے ساتھ موجود تھی ۔ اگر عورت شوہر کے خلاف کوئی شکایت لے جاتی تو اس کو بغیر کسی وکیل کی مدد کے انصاف ملتا تھا ۔

خلع حاصل کرنے کیلئے آج کی طرح قاضی صاحب اس کو ہفتو ں اور مہینوں یہ کہہ کرنہیں ٹالتے تھے کہ ’ بی بی میں کیا کرسکتا ہوں ، آپ کے شوہردستخط کرنے کیلئے تیار نہیں ‘۔ اور اسکے علاوہ شوہر صاحب اُسے دوسری شادی کرلینے کی دھمکیاں الگ دیتے رہتے ۔ اس لیے جن علماء نے ’رواج ‘ کو جائز قرار دیا ہے ان پر تنقید کیے بغیر ہم صرف رواج ہی کو اگر اصل بنائیں تو آج مہر کا معجل یعنی فوری ادا کرنا لازمی ہے کیوں کہ یہ عورتوں کے حقوق Women’s Right کے خلاف بات ہے کہ مرد اپنا مہر تو نقد لے لے ۔ چاہے اس کے لیے لڑکی کے سرپرست بِک جائیں ، لیکن عورت کا مہر اُدھار رہے اور وہ بھی ایسا ادھار جس کا ملنا یقینی بھی نہیں ۔ یہ عورت کے ساتھ سراسر نا انصافی اور عورت کی عزّتِ نفس کی توہین ہے ۔ معمولی گائے بھینس بھی خرید کر لائیں اور نقد ادا نہ کریں تو ادائیگی کی قرار داد تو کرنی پڑتی ہے اور قرار داد کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ مردوں نے عورت کو گائے ،بھینس سے بھی کم حیثیت بنادیا ہے ۔
اس سلسلے میں مولانا ابوالا علی مودودی نے ’ رسائل ومسائل ‘ میں سیر حاصل جواب دیا ہے۔ فرماتے ہیں :
” قبل اس کے کہ ہم کسی خاص سوسائٹی میں اس قاعدے یعنی ’ رواج یا عرف ‘ کو جاری کریں ، ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شریعت نے رواج کو بطور ایک ماخذِ قانون (Source of Law) کے تسلیم نہیں کیا ہے کہ جو کچھ رواج ہو وہی شریعت کے نزدیک حق ہو۔ بلکہ اس کے برعکس وہ غیر متقی سوسائٹی اور اس کے غیر منصفانہ رواجوں کو تسلیم کرتی ہے جو ایک اصلاح شدہ سوسائٹی میں شریعت کی روح اور اس کے اصولوں کے تحت پیدا ہوئے ہوں ۔
لہذا رواج کو بے لکھا معاہدہ مان کر مثل قانون نافذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جس سوسائٹی کے رواج کو ہم یہ حیثیت دے رہے ہیں کیا وہ ایک متقی سوسائٹی ہے ؟ اور کیا اس کے رواج شریعت کی روح اور اس کے اصولوں کی پیروی میں پیدا ہوئے ہیں ؟ اگر تحقیق سے اس کا جواب نفی میں ملے تو اس قاعدے کو مثل قانون جاری کرنا عدل نہیں بلکہ قطعاً ایک ظلم ہوگا “۔
اس نقطہ نظر سے جب ہم اپنے ملک کی موجودہ مسلم سوسائٹی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ تعلقاتِ زن و شوہر کے معاملہ میں اس نے خواہشات نفس کی پیروی اختیار کر کے اس توازن کو بہت بگاڑ دیا ہے جو شریعت نے قائم کیا تھا۔ اور بالعموم اس کا میلان ایسے طریقوں کی طرف ہے جو شریعت کی روح اور اس کے احکام سے صریحاً منحرف ہیں ۔ اسی مہر کے معاملہ کو لے لیجئے جس پر ہم یہاں گفتگو کررہے ہیں ۔ اس ملک کے مسلمان بالعموم مہر کو محض ایک رسمی چیز سمجھتے ہیں ۔ ان کی نگاہ میں اس کی وہ اہمیت قطعاً نہیں ہے جو قرآن و حدیث میں اس کو دی گئی ہے ۔
نکاح کے وقت بالکل ایک نمائشی طور پر مہر کی قرار داد ہوجاتی ہے مگر اس امر کا کوئی تصور ذہنوں میں نہیں ہوتا کہ اس قرار داد کو پورا بھی کرنا ہے ۔ بارہا ہم نے مہر کی بات چیت میں اپنے کانوں سے یہ الفاظ سنے ہیں کہ ’ میاں کون لیتا ہے کون دیتا ہے ‘ گویا یہ فعل محض ضابطہ کی خانہ پُری کے لیے کیا جارہا ہے۔ ہمارے علم میں 80 فیصدی نکاح ایسے ہوتے ہیں جن میں مہر سرے سے کبھی ادا ہی نہیں کیا جاتا ۔
زرِ مہر کی مقدار مقرر کرنے میں اکثر جو چیز لوگوں کے پیش نظر ہوتی ہے وہ صرف یہ کہ اسے طلاق کی روک تھام کا ذریعہ بنایا جائے ۔ اس طرح عملاً عورتوں کے ایک شرعی حق کو کالعدم کردیا گیا ہے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی کہ جس شریعت کی رو سے یہ لوگ عورتوں کو مردوں پر حلال کرتے ہیں ، وہ مہر کو استحلال فروج کا معاوضہ قرار دیتی ہے اور اگر معاوضہ ادا کرنے کی نیت نہ ہو تو خدا کے نزدیک عورت مرد پر حلال ہی نہیں ہوتی ۔
ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جس سوسائٹی کا عرف اتنا بگڑ چکا ہو اور جس کے رواج نے شریعت کے احکام اور اس کی روح کے بالکل خلاف صورتیں اختیار کرلی ہوں ، اس کے عرف و رواج کو ازروئے شریعت جائز قرار دینا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ جن فقہاء کی عبارتیں اعتبارِ عرف کی تائید میں نقل کی جاتی ہیں ، انکے پیشِ نظر نہ یہ بگڑی ہوئی سوسائٹی تھی اور نہ اس کے خلافِ شریعت رواج ۔ انہوں نے جو کچھ لکھا تھا وہ ایک اصلاح شدہ سوسائٹی اور اس کے عرف کو پیش نظر رکھ کر لکھا تھا ۔ کوئی مفتی مجردان کی عبارتوں کو اچھی طرح سمجھ لے اور یہ تحقیق کر لے کہ جن حالات میں انہوں نے وہ عبارتیں لکھی تھیں ان سے وہ حالات مختلف تو نہیں ہیں جن پر آج انہیں چسپاں کیا جارہا ہے؟ “۔

مقدارِمہر میں بے اعتدالی کا نتیجہ

مہر کی مقدار میں بے اعتدالی سے سخت منع کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مہر عورت کی قیمت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کی رضا مندی کی محض ایک نشانی Symbol ہوتی ہے اس کی مقدار اتنی ہی ہو جتنی کہ ایک آدمی بغیر قرض لیے فوری ادا کرسکے ۔ کیوں کہ ایسا تو نہیں ہے کہ عورت کو اس کے بعد مرد سے کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے ۔

حديث : لا تغلوا فی مهور النساء فتكون عداوة (مسند زيد بن علي، احمد)
ترجمہ : عورتوں کے مہر کے معاملے میں غلو نہ کرو کہ عداوت کا سبب بن جائے ۔
و نیز حضرت عائشہ صدّیقہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
ان اعظم النساء برکه ايسرهن صداقا (احمد، بيهقي)
سب سے زیادہ برکت والی وہ خاتون ہے جس کا مہر سہل اور آسان ہو۔

اگر عربوں کی سوسائٹی اور ہماری سوسائٹی کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا مہر کے معاملے میں دو انتہائیں Extremes ہیں جن کے بدترین نتائج نمودار ہورہے ہیں ۔
عربوں میں بالخصوص خلیجی ممالک کے امیر ملکوں میں مہر کی رقمیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ مردوں کے لیے زنا آسان ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امیر عرب زادے جب دوسرے ممالک کو کسی کام سے بھی جاتے ہیں تو لوگ ان پر عیاشی کی نیت سے ہی آنے کا گمان کرتے ہیں۔ روزنامہ اردو نیوز جدہ میں کئی بار یہ خبریں شائع ہوئیں کہ لڑکیوں نے باپ پر مقدمے دائر کردئیے کیوں کہ زیادہ مہر مانگنے کی وجہ سے وہ عمر سے تجاوز کررہی ہیں اور کوئی رشتہ نہیں آرہا ہے
بے شمار شادیاں ناکام ہوتی ہیں بالخصوص سعودی عرب اور کویت میں روزانہ اردو نیوز ہی کے مطابق چار میں ایک شادی طلاق پر ختم ہوتی ہے کیوں کہ جس طرح جوڑے جہیز کی وجہ سے صحیح جوڑ Match نہیں ملتا اسی طرح مہر کی زیادتی کی وجہ سے بھی صحیح جوڑ نہیں ملتا ۔ امیر لوگ زیادہ مہر دے کر لڑکی کے باپ کو راضی کرلیتے ہیں لیکن بعد میں عمر کا یا مزاج کافرق دیوار بن جاتا ہے ۔ چونکہ عرب معاشرے میں مطلقہ سے شادی کرنا عام رواج ہے۔ لڑکی کو دوبارہ مہر مل جاتا ہے اس لیے طلاق ایک معمولی بات ہے ۔ بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایک شوق یا hobby ہے ۔
جس طرح انگریزوں میں غیرشادی شدہ ماؤں کی اولادیں عام طور پر پائی جاتی ہیں اسی طرح ان امیر خلیجی ممالک میں بھی ایسے بچے بہت عام ہیں جو مانباپ میں طلاق کی وجہ سے یا تو دوسری ماں کے ساتھ رہتے ہیں یا دوسرے باپ کے ساتھ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے بچوں کی تربیت نہیں ہو پاتی اور یہ بڑے ہوکر عام طور پر ان تمام منفی اوصاف کے مالک ہوتے ہیں جنکا مشاہدہ عام امیر عرب شہریوں کو دیکھ کر ہوتاہے۔ عام طور پر یہ لوگ قرضے لے کر شادی کرتے ہیں اور پریشان رہتے ہیں ۔
وزارتِ انصاف، سعودی عرب کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں روزانہ شادیوں کا اوسط 357 ہے اور روزانہ طلاقوں کا اوسط 78 ہے۔ سال 2008 ء میں کُل شادیاں 1,30,451اور کُل طلاقیں 28,561 رجسٹر ہوئیں ۔ جبکہ جن جوڑوں کے درمیان مصالحت کروائی جاسکی ان کی تعداد صرف 1,892 ہے۔
(UNI, Arab News 16.3.09)

دوسری انتہا Extreme ہماری سوسائٹی ہے جہاں لڑکی والوں کی کوشش یہ کی ہوتی ہے کہ مہر کم از کم اتنا ہو جتنا جوڑے جہیز پر خرچ ہورہا ہے ۔ لیکن لڑکے والے بھی چالاک ہوتے ہیں جب دینے کی نیت ہی نہ ہو تو چاہے جتنا مہر باندھ لو انہیں کیا فرق پڑتا ہے ؟ لوگوں کو مہر کے معاملے میں سنتِ رسول اور اسلاف کا طریقہ پسند ہے۔ لیکن جوڑا جہیز کے معاملے میں اپنے بزرگوں کا۔ زیادہ مہر باندھنے کے پیچھے لڑکی والوں کی ایک نیت یہ بھی ہوتی ہے کہ جب ادا کرنا لڑکے کی استطاعت میں نہیں ہوگا تو نہ وہ کبھی دوسری شادی کا سوچ سکے گا نہ طلاق دینے کی ہمت کرے گا ۔ مہر کی رقم اتنی ہی ہو جو فوری یا قسطوں میں جلد از جلد ادا کی جاسکے ۔

مقدارِ مہر

حديث : تزوج ولو بخاتمِِ من حديد
ترجمہ : نکاح کرو خواہ مہر لوہے کا ایک چھلہ ہی کیوں نہ ہو ۔
( بخاری و مسلم ،ابو داود، ترمذی، احمد)

حضر ت عمر (رضی اللہ عنہ) زیادہ مہر کے خلاف تھے فرماتے ہیں کہ اے لوگو ! بھاری مہر نہ باندھا کرو اگر یہ عزت و شرف کی چیز ہوتی اور اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کا عمل ہوتا تو سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس پر عمل کرتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بارہ اوقیہ سے زیادہ کسی بیوی یا بیٹی کا مہر مقرر نہیں کیا ۔ سوائے اُم حبیبہ کے جسے نجاشی نے طئے کیا تھا ۔اور انہوں نے اسے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر ادا بھی کیا۔ اسکے برخلاف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت صفیہ (رضی اللہ عنہا) سے ان کی آزادی کو مہر کے طور پر پیش کیاتھا۔
(بخاری بروایت انس رضی اللہ عنہ)

ان تمام احادیث اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عمل سے یہ حکم ثابت ہوتاہیکہ مہر کی اتنی زیاد مقدار نہ مقرر کی جائے کہ مرد کی استطاعت سے باہر ہو، یا پھر وہ ادا کرنے کی نیت نہ رکھے۔ حق تو یہ ہیکہ مہر کو حسبِ حیثیت ہونا چاہئے اور اسے نکاح کے بعد فوراً ادا کیاجانا چاہئے۔ لیکن اگر یہ باقی رہا تو وہ ایک قرض رہیگا جسکا ادا کرنا فرض ہو گا جو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ ایک حدیث کے مطابق قرض باقی رکھنے والے شہید کی بھی معافی نہیں ہے۔

امہات المومنین اور حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے مہر

حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) : چار سو دینار ( 1.7kg ) چاندی کے برابر (بتحقیق مولانا شبلی رحمة اللہ)
حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) : چھ اونٹ یا بیس اونٹ ( الرحیق المختوم، مصنف مولانا صفی الرحمان مبارک پوری )
حضرت ام صفیہ (رضی اللہ عنہا) : آزادی (بخاری بروایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ و انس رضی اللہ عنہ)
حضرت ام حبیبہ (رضی اللہ عنہا): چار سو دینار (مولانا عبدالشکور لکھنوی ، ’علم الفقہ‘ ، زندگی نو – جولائی 1994ء )
حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) : دس درہم (عثمان غنی عادل، زندگی نو – جولائی 1994ء)
دیگر ازواج مطہرات بشمول حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) ، حضرت سودہ (رضی اللہ عنہا) ، حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) ، حضرت زینب (رضی اللہ عنہا) ،
حضرت بنت خزیمہ (رضی اللہ عنہا) ، حضرت زینب بنت جحش (رضی اللہ عنہا) ، حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہا) ، حضرت جویریہ (رضی اللہ عنہا)
: چار سودرہم ( 1.4kg چاندی کے برابر ) (بتحقیق قاضی اطہرمبارک پوری، زندگی نو – جولائی 1994ء)
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی چاروں صاحبزادیاں : چار سو درہم (عثمان غنی عادل، زندگی نو – جولائی 1994ء)

مولانا شبلی رحمة اللہ کی تحقیق کے مطابق حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا مہر چارسو دینار تھا۔زِرہ کی جو قیمت آئی تھی اس سے مہر بھی ادا ہواتھا اور گھریلو ضرورت کا سامان بھی فراہم ہواتھا۔ چار سو دینار کے 580 درہم بنتے ہیں جبکہ زِرہ کی قیمت 480 درہم حاصل ہوئی تھی۔ باقی رقم حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے پیش کی تھی۔
(بحوالہ ”المرتضٰی “ از مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمة اللہ)۔

اسی لئے اکثر علماء طرفین کا خرچِ نکاح لڑکے کی ذمّہ داری قرار دیتے ہیں۔
(ملاحظہ ہو فتاویٰ ثنائیہ مرتبہ مولانا محمد داود راز دہلوی)
اس سلسلے میں ایک اہم مقالہ غور کرنے والوں کیلئے بڑا اہم ہے۔ اسے جناب عثمان غنی عادل ، ابو ظہبی نے تصنیف کیا اور زندگی نو – جولائی 1994ء میں شائع ہوا۔جس کے چند اہم اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔

کیا مہر کو طلاق تک یا انتقال تک اُدھار رکھنا صحیح ہے؟

قرآن حکیم اور معتبر احادیث سے یہ بات ثابت ہیکہ مہر بیوی کا شرعی حق ہے۔ اسکی ادائیگی نکاح کے بعد مرد پر فوری طور پر لازم آتی ہے۔ بلکہ مہر ہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر ایک مرد کو عورت پر حقوقِ شوہری حاصل ہوتے ہیں۔ شریعتِ اسلامی نے نکاح کی طرح مہر کی ادائیگی کو بھی جائز تعلق اور پاکیزہ رشتے کی بنیاد بنایاہے۔ مہر ادا نہ کرنے کی نیت رکھنے والوں کو مسند احمد کی ایک حدیث میں زانی کہا گیاہے۔

مہرِ مؤجّل اور مہرِ معجّل کا مطلب

جہاں تک مہرکی ادائیگی کا سوال ہے اِسے نقد رقم یا مال ہی کی کسی قسم میں سے ہونا چاہئے۔ جیسے سونا چاندی یا کوئی اور زیور وغیرہ۔ البتہ نقد کی سہولت نہ ہونے کی صورت میں علماء کہتے ہیں کہ کوئی جائداد ، مکان ، دکان، زمین یا ان میں سے کسی کی آمدنی کا کوئی حصّہ بھی مہر میں لکھوایا جاسکتاہے۔ لیکن ظاہر ہے ضرورت سے زائد جائداد ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ چنانچہ حالات بسا اوقات ایسے ہوسکتے ہیں کہ مطلوبہ رقم ایک مردنقد ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ اس قسم کی صورتِ حال ہی کے پیشِ نظر علماء نے مہر کو مہرِمعجل اور مہرِ موجّل کی دو الگ الگ اصطلاحوں میں بیان کیاہے۔ مہر معجل وہ ہے جو بعجلت فوری ادا کیاجائے۔ اور مہرِ موجّل وہ مہر ہے جو تاخیر سے ادا کیا جائے۔ یہ دوسری صورت محض ایک رعایت ہے جو لڑکی یا اسکے والدین کی طرف سے دی جاتی ہے۔ گویا یہ ایک ایسا فرض ہے جس کی ادائیگی کا وعدہ کیاجاتاہے۔ اس رعایت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مہر کی ادائیگی کو اس وقت تک معلّق رکھا جائے جب تک عورت کو طلاق نہ مل جائے یا وہ انتقال نہ کرجائے۔ وفات پاجانے کے بعد مہر کی رقم عورت کے کس کام کی؟ رہا طلاق کے بعد مہر کی ادائیگی کا معاملہ تو اسطرح کی نیت اور ارادہ ہی نکاح کے مقصد کو زائل کردیتاہے۔

مہر جب ہتھیار بن جائے

بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اس معاملے میں دو طرفہ ستم ظریفی کا شکار ہے۔ ایک طرف لڑکی والے لڑکے والوں سے اصرار کر کے زیادہ سے زیادہ مہر باندھنے کی کوشش اسلئے کرتے ہیں تاکہ مرد کبھی کسی حالت میں بھی عورت کو طلاق نہ دے سکے۔ اور اگر دے تو اسکا بھاری بھرکم ”جرمانہ“ مہر کی صورت میں ادا کرے ۔ دوسری طرف لڑکے والے بھی یہ سوچ کر زیادہ مہر باندھنا قبول کر لیتے ہیں کہ لینا دینا کس کو ہے۔ اس بہانے مفت میں مالداری کی نمائش ہوجائے تو کیا برا ہے۔ مہر کے معاملے میں یہ تمام باتیں نیتوں کی خرابی پر دلالت کرتی ہیں۔ جب نکاح کے ابتداء ہی میں نیتوں کی خرابی موجود ہو اور بے اعتمادی اور خوف و خدشات کی پرچھائیاں اپنا سایہ ڈال دیں تو ازدواجی تعلقات میں خیرو برکت کے اجالے کب اور کیسے نمودار ہوں۔ چنانچہ قوتِ برداشت یا اعتماد کی کمی یا ذہن و مزاج کی ناموافقت کی بنا پر ازدواجی تعلقات جب بار بارکشیدگی کی انتہائی حدود پر پہنچ جاتے ہیں تو باعزت طور پر علحٰدگی صرف اس وجہ سے ممکن نہیں ہوتی کہ طلاق ہونے کی صورت میں مرد کو بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس بنا پر عورت نہ سکون سے جی سکتی ہے نہ عزت کے ساتھ چھٹکارا حاصل کرکے اپنے لئے دوسرا راستہ اختیار کرسکتی ہے۔ اگرچیکہ قرونِ اولیٰ کیطرح کا وہ مسلم معاشرہ بھی آج موجود نہیں ہے جس میں مطلقہ یا بیوہ عورت سے نکاح کرنا معیوب نہیں بلکہ عین کارِثواب سمجھا جاتا تھا۔ تاہم تکلیف دہ ساتھی کی اذیّت سے تنہائی کا دکھ بہتر سمجھ کر ایک عورت یہ فاصلہ بھی طئے نہیں کرسکتی کیونکہ نکاح کے وقت باندھی جانے والی مہر کی یہی بڑی بڑی رقمیں آگے چل کر عورت کے پاوں کی بیڑی بن جاتی ہیں۔ اِلّا یہ کہ عورت چھٹکارا پانے کیلئے مہر کی رقم چھوڑ کر خلع حاصل کرلے یا دونوں خاندانوں کی طرف سے مقرر کردہ ثالث حضرات ، فریقین کے حالات اور مرد کی مالی استطاعت کو دیکھتے ہوئے مہر کی رقم میں مناسب کمی بیشی کرلیں اور اسے فریقین کیلئے قابلِ قبول بنادیں۔ بدقسمتی سے اپنے حقوق سے واقف رہنے والے اپنے فرائض و حدود سے واقف نہیں ہوتے۔ اِس بنا پر یہ مسئلہ اکثر و بیشتر ضد اور انا کا مسئلہ بن جاتاہے۔

مہر کی مقدار کیا ہو؟

بعض لوگوں میں مہرکی رقم کو کم سے کم مقرر کرنے کا جو رواج پایا جاتاہے وہ یقینا بے بنیاد نہیں ہے۔ اس رواج کی پشت پر بعض علماء کی آراء موجود ہیں۔ جسمیں امّ المومنین امّ سلمہ (رضی اللہ عنہا) کے مہر کو بنیاد بنایاگیاہے جو معتبر روایات کے مطابق دس درہم مقرر ہواتھا۔ اسیطرح ام المومنین حضرت صفیہ (رضی اللہ عنہا) کا مہر ان کی آزادی کو مقرر کیاگیاتھا جو جنگِ خیبر کے موقع پر قید ہوکر آئی تھیں۔ چونکہ ان کا تعلق یہودی قبیلے کے ایک اعلیٰ خاندان سے تھااس لئے کسی اور کی غلامی میں دینے کے بجائے انہیں آزاد کرکے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود اپنے عقدِنکاح میں لے لیاتھا۔ چنانچہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حسنِ سلوک اور رشتے داری کی اِس نسبت نے یہودیوں کے دل میں ایک نرم گوشہ پیداکردیاتھا۔ اور یہی مصلحت اس نکاح میں پوشیدہ بھی تھی۔ مذکورہ بالا دونوں مثالیں مخصوص حالات کے تحت استثنئای نوعیت رکھتی ہیں۔تاہم مہر کی رقم کم سے کم مقرر کرنے کیلئے اگر ان استثنائی واقعات کو بنیاد بنایاجاتاہے تو دیگر ازواجِ مطہرات (رضی اللہ عنہما) کی مثالوں کو مہر کی بنیاد کیوں نہیں بنایاجاسکتا جن کے مہر چار سو تا پانچ سو درہم مقرر کئے گئے تھے؟

جن لوگوں نے اب تک مہر ادا نہیں کیا وہ کیا کریں ؟

مہر کاتعین مرد کی خاندانی حیثیت ، معاشرتی مرتبہ اور مالی استطاعت کے مطابق ہوناچاہیئے۔ وہیں یہ بات بھی توجہ طلب ہونی چاہئے کہ شادی کے دیگر ضروری اور غیر ضروری اخراجات کے مقابلے میں مہر کی رقم فوری طور پر ادا کرنے کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ کوئی نہیں جانتاکہ کل حالات کیاہونگے۔ علاوہ ازیں جن لوگوں کے مہر موجّل باندھے گئے تھے اور رقم کی زیادتی کے سبب وہ اسکی ادائیگی سے قاصر ہیں ایسے تمام لوگوں کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ نے اپنی کتاب ”حقوق الزوجین “ میں نہایت صحیح اور صائب مشورہ دیا ہیکہ” وہ اپنی بیویوں کو مہرکی رقم اس حد تک کم کرنے پر راضی کرلیں جسے وہ یکمشت یا قسطوں پر جلد از جلد اداکرسکتے ہوں “۔
اور نیک بخت بیویوں کو یہ مشورہ دیا ہیکہ ” وہ اِس کمی پر راضی ہوجائیں “

خوددار مرد یوں بھی مہر ادا کرتے ہیں ۔۔۔ اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ

عہدِ اموی میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ عورت نے دعوٰی پیش کیاکہ اسکے شوہر نے اُسے طلاق دی لیکن مہر ادا نہیں کیا۔ جبکہ شوہر کا یہ کہنا تھا کہ اس نے مہرادا کردیا ہے۔ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر بضد تھے۔ قاضی نے انتہائی حکمت سے کام لیتے ہوئے عورت کو حکم دیا کہ وہ عدالت میں نقاب اٹھائے اور مرد اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہے کہ اُس نے اِسی عورت کو مہر ادا کیا تھا۔ مرد نے عورت کو نقاب اٹھانے سے روک دیا اور کہا کہ ”مجھے مہر کی رقم دوبارہ دینا منظور ہے لیکن یہ منظور نہیں کہ میری ( سابقہ ) بیوی غیروں کے سامنے بے پردہ ہو۔“۔ سبحان اللہ۔ یہ ہے ایک سچے مسلمان کی خوداری اور مردانگی کہ طلاق ہوجانے کے باوجود وہ عورت کی عزت اور حیا کی حفاظت اپنی خودداری کا تقاضہ سمجھ رہاہے جبکہ آج یہ حال ہیکہ معمولی اختلافات میں ہر دو فریق ایک دوسرے کے خاندان کی عورتوں کی عزت کو پولیس اسٹیشن اور عدالت میں نیلام کرڈالتے ہیں۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *