علماء و مدارس کا رول

عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

علماء کی تاریخی خدمات

ہندوستان میں مسلمانوں کا عہدِ حکومت ختم ہونے کے بعد جب زوال آیا تو یہ مدرسوں ہی کی تحریک تھی جس نے اسلامی تعلیم کو زندہ رکھا ، انیسویں صدی کے درمیان میں لارڈ میکالے Thomas Macaulay (1934) ہندوستان آیا اور پوری ہندوستانی سوسائٹی کا جائزہ لینے کے بعد اس نے جس تعلیمی نظام کی اسکیم پیش کی ، اس کا لب لباب بلکہ خود اسی کا نعرہ یہ تھا کہ
’ ایک ایسی نسل تعمیر ہو جو پیدائشی طور پر مسلمان ، فکری طور پر انگریز ہو Muslim by birth and english by thought ‘
علماء نے اس خطرے کو بھانپ لیا اور اپنی پالیسی Strategy یہ بنائی کہ :
’ ایسی نسل تعمیر ہو جو پیدائشی طور پر ہندوستانی ہو اور فکری طور پر مسلمان Indian by birth muslim by thought ہو ‘
اس کے بعد مدارس کے قیام اور مفت دینی تعلیم کا سلسلہ چل پڑا تاکہ بغیر سرکاری مدد کے بچے بچے تک دینی تعلیم پہنچے ۔

دارالعلوم دیوبند ، ندوہ ، جامعہ نظامیہ ، حیدرآباد جیسے عظیم مدارس کی شہر شہر بنیادیں پڑیں ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی ، حمید الدین فراہی ، شبلی نعمانی ، اشرف علی تھانوی ، حسین احمد مدنی ، منت اللہ رحمانی ، مجاہد الاسلام قاسمی ، خواجہ حسن نظامی ، مناظر احسن گیلانی ، سید عبداللہ شاہ ، صدر الدین اصلاحی ، مولانا محمد الیاس ، مولانا ابواللیث ، مولانا محمد زکریا وغیرہ وغیرہ یہ تمام انہیں مدرسوں کی پیداوار ہیں جنہوں نے اسلام کو نازک وقتوں میں سہارا دیا اور آخری سانس تک فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

چرچ اور اسٹیٹ کی تقسیم

لیکن بہر حال اس حقیقت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ مدرسوں کی تحریک 1857ء کے بعدایک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وقتی تحریک تھی ۔ یہ امت کے روشن مستقبل کی تعمیر کا دائمی منصوبہ نہیں تھا ۔ علمِ دین جس حدتک پڑھایا جاتا تھا وہ زبان ، اسلوب تفسیر ، فقہی اصول و قوانین وغیرہ کی حد تک تو ایک طالب علم کو عالم بناسکتا تھا ۔ لیکن اس میں سیاسی ، سماجی، نفسیاتی ، معاشی، تحریکی اور ادبی خلاؤں کو پر کرنے کی تربیت شامل نہیں تھی۔ یہ خلا بڑھتا گیا اور چند ایک سالوں میں مسلمان قوم ’ ہر حکمران اور ہر رائج سرکاری نظام ‘ کی مخالف ، یکا و تنہا قوم بن کر ابھرنے لگی ۔ دوسری طرف جب دوسری قومیں ہیومن رائٹس، وومنس رائٹس، جمہوریت، سائینس وغیرہ پیش کرتی ہیں تو ہمارے علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ چودہ سو سال پہلے سے ہمارے پاس موجود ہے۔ سوال یہ ہیکہ چودہ سو سال سے ہم نے کیاکیا۔ اگر چودہ سو سال میں ان چیزوں کو ہم دنیا کو متعارف کرواتے تو آج مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی صورتِ حال مختلف ہوتی۔ عالمی انصاف کی عدالت بلجیم میں نہیں سعودی عرب میں ہوتی۔ بنک اور انشورنس کے سب سے بڑے مراکز مسلمان ملکوں میں ہوتے۔ اسلام پر ڈاکٹریٹ کرنے خود عرب مسلمان آکسفورڈ یا کیمبریج نہیں جاتے بلکہ وہاں سے انگریز خود مسلمان ملکوں کا سفر کرتے۔

چونکہ ’ دعوتِ دین ‘ کا مضمون اور اس کی تربیت شامل نصاب نہیں تھی اور نہ آج ہے۔ اس لیے دین کا قیام اور ایک اسلامی سیاست ، معاشرت اور معیشت کے قیام کا تصور Vision اور اس کی منصوبہ بندی Planning مدرسہ کے نصاب یا اس کے اغراض و مقاصد سے خارج رہی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’ چرچ اور اسٹیٹ Church & State ‘ کی مسلمانوں میں بھی تقسیم وجود میں آگئی ۔
دوسری طرف یہ ہوا کہ انگریزی تعلیم جس کے بارے میں ماضی میں ’ غیر اسلامی اور کافرانہ ‘ تعلیم کا سارویہ تھا مسلمان تیزی سے اسی طرف بڑھنے لگے وہاں دینی تعلیم کا دور دور تک وجود نہ تھا لیکن روزگار اسی سے جڑا تھا ۔یہاں آکر چرچ اور اسٹیٹ کی تقسیم مکمل ہوگئی ۔

مولانا قاسم نانوتوی اور سرسید ایک ہی استاد مولانا مملوک علی کے شاگرد تھے ایک نے قوم کے بچے بچے کو اسلامی تعلیم کے ذریعے مسلمان بنائے رکھنے کا عزم کیا ۔ دوسرے نے عصری سیکولر تعلیم کے ذریعے مسلمان بنائے رکھنے کا عزم کیا ۔ دیڑھ سو سال کے اس تجربے کے بعد مدرسہ اور سیکولر تعلیم جس مقام پر پہنچے وہ نتائج کے اعتبار سے بالکل ایک ہیں ۔ مدرسہ دین کو دنیا میں چلانے سے قاصر ہے اور عصری تعلیم دنیا میں دین برتنے سے نا آشنا ہے ۔ امت کی پستی اور زبوں حالی پر دونوں ایک سا تبصرہ کرتے ہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ عصری تعلیم والا چندہ دیتا ہے اور مدرسہ والا چندہ لیتا ہے ، اسی لین دین کے ذریعے مدارس ، مختلف ریلیف کے کام ، مسلم پرسنل لا بورڈ اور جماعتیں زندہ ہیں ۔

مدرسوں کی مجبوری

ہمارے مدارس اور علماء کی مجبوری بھی پیش نظر رہے۔ آج مدارس کو سب سے زیادہ اعانت Donation دینے والے اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے صدر و سکریٹری جو اماموں خطیبوں اور حافظوں کو تنخواہیں ادا کرتے ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں جن کی زندگی میں جوڑا جہیز لینا اور دینا محبوب ہے۔ اگر مدراس اور علماء اسی کے خلاف تحریک اٹھائیں تو اعانتیں اور تنحواہیں بند ہوسکتی ہیں ۔ اس لیے علماء عمومی In General تو ان مسائل پر گفتگو کرتے ہیں لیکن ذاتی طور پر ایسے افراد کو جاکر نہیں سمجھا سکتے جو کہ دعوت کا اصل کام ہے بلکہ ان کی شادیوں اور منگنیوں، اور ولیموں میں شوق یا مصلحت کی وجہ سے ضرور شرکت کرتے ہیں اور تعریفی کلمات ادا کرتے ہیں ۔

علماء کی ذمہ داری

اگر مدارس سے نکلنے والے علماء و حفاظ و قراء اپنے اور اپنی اولادوں کے لیے ہر قسم کا جوڑا جہیز جو ’ خوشی سے دینے ‘ کے رواج کے تحت دیا جارہا ہوا سے حرام تصور کریں اور واپس کردیں اور ایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کردیں تو ایک انقلاب آسکتا ہے ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے بجائے ڈاکٹر یا انجینئر کی خواہش کرنے کے حافظ یا عالم کی خواہش کرنے لگیں گے ۔
ایک عام آدمی کی برائیوں پر کسی کی نظر نہیں پڑتی لیکن اہلِ علم کے دامن میں لوگ دور بین و خوردبین Microscope & Binoculars لے کر دھبے ڈھونڈھتے ہیں تاکہ ان کے لیے بھی کوئی جواز نکل آئے۔ جیسے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے :
’ بنی اسرائیل کے علماء لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے ۔ جب لوگ ان کی بات نہ مانتے اور اپنی چال پر قائم رہتے تو پھر اہل علم بھی ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے لگتے ‘ ۔
اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور سخت تاکیدی انداز میں فرمایا :
’ خبردار تم لوگ ایسا نہ کرنا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دعائیں کرو اور دعائیں رد کردی جائیں ‘ ۔

اگر مدارس سے نکلنے والے علماء و حفاظ و قراء اپنے اور اپنی اولادوں کے لیے ہر قسم کا جوڑا جہیز جو ’ خوشی سے دینے ‘ کے رواج کے تحت دیا جارہا ہوا سے حرام تصور کریں اور واپس کردیں اورایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کردیں تو ایک انقلاب آسکتا ہے ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے بجائے ڈاکٹر یا انجینئر کی خواہش کرنے کے حافظ یا عالم کی خواہش کرنے لگیں گے ۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *