جماعتوں کا رول

افراد کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔ جوڑا جہیز

آج اکثر جماعتیں یہ رونا روتی ہیں کہ قحط الرجال ہے۔ نوجوان نسل دور ہوتی جارہی ہے۔ جو لوگ کام کررہے ہیں ان کی عمریں ساٹھ اور ستّر سے تجاوز کررہی ہیں۔ افراد کے فقدان کی اہم وجہ جوڑا جہیز کی وہ لعنت ہے جسکی وجہ سے آج ہر شخص اپنا وقت اور توانائیاں کمانے پر لگانے پر مجبور ہے۔ اگر یہ لعنت ختم ہوجائے تو ہزاروں ذہین لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو کسی بھی بامقصد جماعت سے جوڑنے کیلئے تیار ہیں۔
اُمت مسلمہ کی فلاح و بہبود ہر جماعت کا اگرچہ مقصدِ اولین Prime Goal ہے لیکن کسی جماعت کے لائحہ عمل Line of Action یا منصوبہ بندی Planning میں یہ شامل نہیں کہ معاشرے کی بدترین برائی یعنی شادی کی کل رسومات جو مسلمان کے کردار ہی نہیں بلکہ وجود کو بھی مٹا رہی ہیں ان کے خلاف جنگ کی جائے ۔ بدقسمتی سے جماعتوں میں منصوبہ بندی کا شعبہ ہی نہیں پایا جاتا ۔ جلسوں یا خصوصی اجتماعات میں اگر جوڑے جہیز پر کوئی تقریر ہوتی بھی ہے تو محض ورائٹی Variety پیدا کرنے کی خاطر۔ مقرِّر حضرات شعلہ بیانی تو فرماتے ہیں اور پھر تقریر کے بعد ایک فاتح کی طرح اپنے قریبی رفقاء سے پوچھتے بھی ہیں کہ’ ’ تقریر کیسی تھی ‘ ؟لیکن ان کے ذہنوں میں اس برائی کو مٹانے کا کوئی سنجیدہ ایجنڈا نہیں ہوتا ۔
جماعتیں اپنے نصب العین کو بار بار پڑھیں. اصل برائیوں کی تشخیص diagnose کریں ۔ مالیات ، سیاسیات ، بیت المال ، وفود ، دعوت نشر و اشاعت وغیرہ شعبوں کی طرح انسداد جوڑا جہیز کا ایک مکمل علحدہ شعبہ ہو ۔ برائیوں کو مٹانے کی یقیناً آپ جستجو کرتے ہیں لیکن ظلم یہ کرجاتے ہیں کہ جوڑا جہیز کو فلم بینی ، ٹی وی ، ڈرامہ ، فحش گانے ، سگریٹ نوشی وغیرہ کے مساوی جان کر اصلاحِ معاشرے کی تحریک میں تھو ک کے حساب سے ساری برائیوں کو ایک ترازو میں تول دیتے ہیں۔ جوڑا جہیز ایک AIDS جیسا خطرناک مرض ہے جب کہ دوسری برائیاں اسکے سامنے زکام بخار سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں ۔ اسکے لئے ایک مکمل تحریک کی ضرورت ہے جسے جنگی پیمانے پر جب تک نہ چلایا جائے اسکا رکنا ناممکن ہے۔

جماعتیں شہروں سے باہر بھی نکلیں

Sunday Weekly کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ممبئی شہر میں دو لاکھ سے زیادہ لڑکیاں ایسی ہیں جو بارگرل، کیبرے یا جسم فروشی کا کام کرتی ہیں۔ جن میں کم سے کم ایک لاکھ مسلمان ہیں ، ان میں اکثریت ان لڑکیوں کی ہے جو صرف جوڑا جہیز سے مجبور ہو کرملک کے مختلف علاقوں سے ممبئی بھاگ آئی ہیں ۔
آسام وغیرہ میں تو مسلمان لڑکیاں فروخت کردی جاتی ہیں ۔
دہلی گجرات وغیرہ میں فرقہ پرست تنظیموں کے تاجر مسلمان لڑکیوں کو گھروں اور دوکانوں پر زیادہ تنخواہ دے کر ملازم رکھتے ہیں اور نہیں اپنے کلچر میں ضم Assimilate کرنے کی منظم Organised چالیں چلتے ہیں ۔
جماعتوں کو چاہئے کہ ایسی تمام جگہوں پر اپنے وفود بھیجیں اور گاوں گاوں ، دیہات دیہات ذہن سازی کا کام کریں ۔
اگر جماعتیں جوڑے جہیز کے مٹانے کو اپنا نصب العین Main Objective بنالیں تو بغیر کسی تقریر یا تحریر کے ، بغیر کسی جلسے جلوس کے ، بغیر لاکھوں روپئے خرچ کر کے اجتماعات کرنے کے صرف نکاح کے طریقے کو دیکھ کر نہ صرف غیر مسلم اسلام کی طرف راغب ہوں گے بلکہ مسلمانوں کی اخلاقی اور اقتصادی Economic حالت چند سالوں میں بہتر ہوجائے گی ۔
Google search engine پرکبھی دیکھیئے کہ صرف ہندوستان میں کم سے کم ایک لاکھ تنظیمیں اور ویب سائٹس کام کررہی ہیں ان میں مسلمانوں کی جانب سے بمشکل پچاس سائٹس ہیں۔
آریہ سماج نے 5 روپے میں شادی کے ذریعے نہ صرف ہندوؤں کو بلکہ بے شمار مسلمانوں کو مندر کا راستہ دکھایا ایسے وقت میں مسلمان جن کی شادی میں شرعاً 5 روپے کی بھی ضرورت نہیں غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ یہ جنگ جماعتیں ہی سب سے زیادہ بہتر لڑ سکتی ہیں ۔
جتنی مسلمانوں کی جماعتیں ہیں وہ شہروں میں ہی اپنا دائرہ کار رکھتی ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شہروں سے دور گاوں ، دیہات اور قصبات میں رہتی ہے۔ جماعتوں کا ان مقامات پر یا تو مسلم کش فسادات کے موقع پر یا پھرکسی سیلاب، قحط یا کسی اور آفتِ آسمانی کے موقع پر ہی جانے کا اتفاق ہوتا ہے ۔ جسکا نتیجہ یہ ہیکہ شہر سے دور رہنے والے مسلمان رفتہ رفتہ اپنے مذہب اور تہذیب سے دور ہوچکے ہیں اور اکثریت میں جذب ہوتے جارہے ہیں۔ ان کی زبان، رسم و رواج، عقائد اور تعلیم اسلام سے بہت دور ہوچکی ہے۔ ان کو اگر دوبارہ اسلام کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے تو صرف سماجی، تعلیمی اور اخلاقی تحریکوں کے نتیجے میں لایا جاسکتاہے۔

کونسلنگ کی اہمیت

» اچھے لڑکے اور لڑکیوں کی نسبت طئے کروانا ایک اہم سماجی خدمت ہے۔ اصولاً ایسی خدمت خلق کی تنظیمیں ہونی چاہئیں اور دینی جماعتوں میں بھی اس کا شعبہ ہونا چاہئے ، جس کا تعلق میریج کونسلنگ Marriage Counselling سے ہو ، جو نہ صرف لوگوں کو اچھے لڑکوں یا لڑکیوں کے انتخاب میں مدد کرے بلکہ شادی کے بعد ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے مسائل کو بھی حل کرنے میں مدد کرے ۔
میریج کونسلنگ بے شک ان کاموں میں سے ایک ہے جن پر یہ حدیث کا اطلاق ہوسکتا ہے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے :
جب بندہ دوسروں کی خدمت میں لگ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کاموں پر لگ جاتے ہیں
ونیز ۔۔۔
جب بندہ دوسروں کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ دعاء اس کے حق میں پہلے قبول فرماتے ہیں ۔

» Anti dowry مقدمات، طلاق اور ہراسانی کی روک تھام کیلئے اور جوڑا جہیز اور دوسری لعنتوں کے بارے میں ذہن سازی کیلئے جمعہ کی خطبے، کالج،یونیورسٹی، دینی مدارس اور مختلف فلاحی تنظیموں کے اسٹیج سے لکچر، سیمینار اور دوسری طرح کے پروگرام کروانا جماعتوں کیلئے آسان ہے۔ اکثر جماعتیں اور انجمنیں جگہ جگہ فری میڈیکل کیمپ اور مختلف اشیا ء کی تقسیم کے پروگرام کرواتی ہیں۔ اگر وہ ذہن سازی کی اس مہم کو بھی فروغ دیں تو اسمیں معاشرے کے اصلاح ممکن ہے۔

سیرت کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے وقت کے ایک بہترین میریج کونسلر تھے جو شادی سے قبل اور شادی کے بعد کے ازدواجی مسائل حل کرتے تھے۔ اس سنّت کو مدرسوں نے اپنے نصاب سے اور جماعتوں نے اپنے دعوتی ایجنڈے سے خارج کردیا ہے

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *