جوڑا جہیز سُحت ہے

سحت کی تعریف :
حدیث میں سحت کی تعریف یوں آئی ہیکہ :
كل لحمِِ انبت بالسحت فالنار اوليٰ به ، قيل يا رسول الله ومااسحت؟ قال الرشوة في الحكم
جو حصّہ ِگوشت سحت سے پروان چڑھے دوزخ کی آگ اسکے لئے زیادہ موزوں ہے۔
عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سحت کیا ہے؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ”فیصلہ دینے میں رشوت لینا “۔
(ابن جریر ، بروایت حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ)

حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا :
السحت ان تطلب لاخيك حاجة فتقضي فيهدي اليك هديه فتقبلها منه
سحت یہ ہیکہ تمہارے بھائی کو کوئی حاجت درپیش ہو اور تم اسے پورا کردو اور پھر وہ تمہیں کوئی ھدیہ دے اور تم اسے قبول کرلو۔
(حاشیہ الرہونی، جلد 7 صفحہ 313، تعریب السیاسہ الشرعیہ فی حقوق الراعی و سعادہ الرعیہ صفحہ 52) ۔

اس سے اندازہ لگائیے کہ ایک بیٹی کے باپ کی حاجت پوری کرنے کیلئے جو تحفہ لیا جارہاہے کیا وہ سحت کی تعریف میں نہیں آتا؟ اگر نہیں آتا توکوئی ایک مجاہد اٹھے اور جوڑا جہیز پر کم از کم اپنی شادی میں روک لگا کر دکھائے۔

کیا تحفہ یا ھدیہ عین شادی کے موقع پر ہی دینا لازمی ہے؟

ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ جسطرح امیر، قاضی یا حاکم یا اہم ذمّہ دار عین کام سے قبل ہی تحفہ یا رشوت لیتا ہے جس کی بنا پر اسے حرام قرار دیا گیا ہے اسی طرح یہ لڑکے والے عین شادی کے موقع پر ہی کیوں تحفہ لیتے ہیں۔ لڑکی کا باپ اپنی بیٹی کو چاہے جس عمر میں تحفہ دے اس کی مرضی ہے۔ وہ تو یوں بھی بچپن سے اسے کئی موقعوں پر تحفے دیتا ہی رہتا ہے۔ شادی کے بعد بھی وہ یقینا تحفے دے سکتا ہے ۔ لیکن شادی کے موقع پر رواج بنا کر اسے تحفہ یا ھدیہ دینے کا پابند کرنا کیا سرکاری افسروں اور قاضی یا جج کی طرح رشوت لینا نہیں ہے؟ لیکن لوگ جانتے ہیں کہ اگر شادی کے موقع پر یہ سب کچھ وصول نہ کیا گیا تو شادی کے بعد پھر ملنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ جس طرح دواخانوں میں مریض کے آپریشن تھیٹر میں داخل ہونے سے پہلے ہی رقم ڈپازٹ کروالی جاتی ہے اسی طرح دلہا والے نکاح کے دن تک وہ سب کچھ وصول کرلیتے ہیں جس کے بارے میں انہیں یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ بعد میں نہیں ملے گا۔ جو والدین بعد میں دینے کی آس میں رکھتے ہیں ان کی بیٹیاں جس طرح سسرال میں دن گزارتی ہیں ان لڑکیوں سے پوچھیئے جو اس عذاب سے گزر رہی ہیں۔ انہیں اٹھتے بیٹھتے شوہر، ساس وغیرہ کے طعنے اور دھمکیاں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔

جوع الکلب ۔۔ کُتے کی بھوک

اس طرح جوڑا جہیز فی زمانہ ایک رشوت ہے اور رشوت ، سحت ہی کا دوسرا نام ہے جسکے معنے وہ حرام اور خبیث مال ہے جس کو شریعت نے سخت ناپسند کیا لیکن بندے نے نہ صرف پسند کیا بلکہ اسے حاصل کرکے رہا۔ چاہے دینے والے نے دل کی رضامندی کے ساتھ دیا ہو یا نہیں ۔ سحت اُس حرام کو بھی کہتے ہیں جس کا ذکر کرنا بھی برا معلوم ہو یا ایسی کمائی جس کا ذکر کرنے سے شرم آئے۔ سحت بہت زیادہ بلکہ بے تحاشہ کھانے پینے کو بھی کہتے ہیں۔
مسحود عربی میں اُس شخص کو کہتے ہیں جسکا معدہ انواع اقسام کے کھانوں کا حریص ہو اور جو آسودہ ہی نہ ہوتاہو۔
(تاج العروس ، تہذیب اللغہ )۔
قرطبی نے سحت کے ضمن میں لکھا کہ سحت کی اصل کلب الجوع ہے۔ یعنی کُتّے کی سی شدید بھوک۔ جیسے کہا جاتا ہے :
فلان مسحوت المعده اذا كان اكولا لا يلفي ابدا الّا جائعاً
یعنی فلاں بھوکا پیٹ ہے۔ جتنا زیادہ کھاتاہے اسکا پیٹ نہیں بھرتا۔
رشوت کو سحت کے ساتھ تشبیہاً کہاجاتاہے گویا رشوت خور رشوت لے کر اتنا حریص ہوتا ہیکہ اسکی بھوک نہیں مٹتی جیسے کھانے کے حریص کی بھی کھانے کے باوجود بھوک نہیں مٹتی۔
( جامع البیان للطبری جلد 6، صفحہ 156 ، الجامع الاحکام القرآن للقرطبی جلد 6 ، صفحہ 182 )

تفسیر القاسمی میں ایک انتہائی جامع تعریف کی گئی ہے جو انسانی نفسیا ت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لکھتے ہیں :
سحت اس حرام مال کو کہتے ہیں جسمیں برکت نہیں ہوتی۔ اسکے لینے والے کے اندر مروّت اور شرافت کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا۔ اسکے حصول میں ننگ اور عار پنہاں ہوتا ہے۔ جسکی وجہ سے لینے والا اسکو چھپائے رکھنا چاہتا ہے۔ رشوت کا بھی یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہیکہ رشوت حرام ہے۔
(جلد 2، صفحہ 1992 )

عہدِ حاضر میں جماعتوں، سلسلوں اور مدرسوں کی ترجیحات میں عقائد کی جنگ، عبادات و رسومات میں غلو، فروعی فقہی مسائل اور عوامی رابطے تو ضرور ہیں لیکن صحیح اسلام نظام کا قیام ان کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں۔ اگر ہے بھی تو ثانوی ہے۔ کہیں طریقت بے پناہ ہے تو شریعت محدود ہے اور کہیں سارا زور شریعت پر ہے تو طریقت کا مکمل انکار ہے۔ کہیں عمل سے محبت اور علم سے بیر ہے تو کہیں علم ہی علم ہے عمل ندارد۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *