جہیز جو لوگ لے چکے وہ کیا کریں

کسے نہیں ہے تمنّائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جسمیں وہ سروری کیا ہے

اب جو لوگ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں وہ کیا کریں ؟
دو ہی راستے ہیں یا تو قرآن و حدیث اور ائمہ سے جتنے احکامات ملتے ہیں ان سب کا انکار کردیں یا پھر لیا ہوا مال واپس کریں کیوں کہ اگر آپ نے جان بوجھ کر نہیں لیا ہے تو یہ مال آپ کے پاس امانت ہے اور جان بوجھ کر لیا ہے تو یہ رشوت ہے ۔ امانت کو واپس نہ کرنا منافقت Hypocracy کی نشانی ہے اور رشوت کا انجام جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہے ۔
آئیے دیکھتے ہیں علماء دین کیا فرماتے ہیں :

دارالعلوم دیوبند ۔۔۔ مجموعہ فتاویٰ حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمان

’ مہر لے کر اس میں تصرف مالکانہ Arbitration کرنا دعوت کرنا یا کسی اور چیز پر خرچ کرنا مرد کے لیے درست نہیں اور مہر کے علاوہ بھی کچھ لینا رشوت ہے ‘ ۔
اگر لڑکی کے اولیاء راضی ہیں تو نکاح درست ہے لیکن مرد ہو یا عورت مہر کے علاوہ جو بھی لین دین ہے وہ حرام ہے کیوں کہ یہ رشوت ہے اسے واپس کرنا لازمی ہے ۔
( بحوالہ مولانا برہان الدین سنبھلی ) ۔

مولانا مفتی محمد شفیع (رحمة اللہ علیہ) ۔۔۔ ” جواھر الفقہ “ بحوالہ الشامی فی باب المہر
’ عورت کے رشتے داروں کا مہر کے علاوہ کچھ اور شئے طلب کرنا جائز نہیں ۔ اگر لے لیا ہے تو شوہر کا حق ہے کہ بعد نکاح واپس طلب کرے ‘ ۔
اسی فقہی اصول کے مطابق یہ دلیل از خود ثابت ہیکہ نکاح میں عورت سے کوئی شئے جبراً یا رسماً وصول کرنا مرد کیلئے جائز نہیں اگر لے لیا ہو تو لڑکی یا لڑکی کے ولی کو جائز ہیکہ وہ واپس طلب کرے۔

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی (رحمة اللہ علیہ) :

اخذ اهل المراء ة شياء عند التسلم للزوج
ان يسترده لا نه رشوه

رخصتی کے وقت عورت کے گھر والوں نے ( مہر کے علاوہ ) کچھ لیا تھا تو شوہر کو وہ واپس لینے کا حق ہے کیوں کہ یہ رشوت ہے
( بحوالہ مشہور حنفی فقیہ علامہ زین الدین مصری )

لعن رسول الله (صلي الله عليه وسلم) الراشي و المرتشي و من الرشوه ما اخذه ولي المراه قبل النكاح اذا كان بالسؤال اوكان اعطاء الزوج بناء علي عدم رضا ء علي تقدير عدم
( فتاوی مولانا عبدالحئی )
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور یہ بھی رشوت ہے کہ عورت کا سرپرست نکاح سے قبل مہر کے علاوہ کچھ لے اور (داماد) اس بنا پر دے کہ اگر وہ نہ دے گا تو رشتے سے انکار کردیا جائے گا ۔

وفي القنيه الرشوه . يجب ردها ولا تملك
فقہ کی معتبر کتاب القنیہ میں درج ہے کہ ’ رشوت کا واپس کرنا ضروری ہے کیوں کہ لینے والا اس کا مالک نہیں ہوتا ‘ ۔
رشوت کے معنی حیلہ بازی سے کام نکالنے کے لیے مال یا کسی اور شئے یا فعل کو ذریعہ بناناہیں۔ جہاں تک جوڑے جہیز کا تعلق ہے ، اس کی شرعی حیثیت جاننے کے لیے تنہا وہی فقہی نصوص و فتاویٰ کافی ہیں جو بیان ہوئے ہیں ۔ صورت مسئلہ یہاں بھی وہی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں مال بجائے مرد سے طلب کرنے کے عورت کے سرپرست سے طلب کیا جاتا ہے ۔ مرد سے مہر کے علاوہ طلب کرنے میں شاید کوئی دلیل یا گنجائش نکل آئے لیکن مرد کا الٹا عورت کے ولی سے طلب کرنا قطعی غیر واجبی ہے ۔ جب بیوی کو دیا ہوا مہر بھی شوہر کے لیے جائز نہیں تو عورت پر خرچوں کا بار ڈالنا کہاں جائز ہوسکتا ہے ۔ اگر اس نے لیا ہے تو الرجال قواموں علی ا لنساء کی خلاف ورزی ہے اور اسے وہ مال واپس کرنا چاہئے ۔

کیا کیا واپس کریں ؟

» منگنی ایک قطعی غیر اسلامی رسم ہے جس پر لڑکی کے سرپرست کا جو بھی خرچ ہوا ہو ۔
» جوڑے یا تلک کی رقم یا اس کے بدلے جو بھی دیا گیا ہو ۔
» جہیز سوائے اس زیور اور کپڑے کے جو لڑکی کے لیے دیا گیا ہو اور اسی کے تنہا استعمال میں بھی ہو ۔ جو چیز شوہر اور اسکے تمام گھر والوں کے فائدے کیلئے استعمال ہورہی ہو وہ مال عورت کا ہے اور مرد کیلئے لازم ہیکہ وہ چیز یا اسکی قیمت واپس کرے۔
» نکاح کے دن باراتیوں کی ضیافت پر بھی جو بھی خرچ کیا گیا ہو جس میں دولہا کی کار ، شادی خانے کا بل ، کھانا ، اسٹیج کی سجاوٹ وغیرہ شامل ہیں ۔

کہاں خرچ کریں

اہل ِ ایمان کے لیے اب یہ ایک قرض ہے اور جو قرض لوٹانے کی سچے دل سے نیت کرے اللہ تعالی اس کی ادائیگی کے اسباب خود بخود بناتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایسے راستوں سے انتظام فرماتے ہیں کہ وہ خود سمجھ نہیں پاتا۔ اس کے برخلاف جو قرض لوٹائے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوجائے ، اس کی نماز ِجنازہ پڑھانے سے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کراہیت برتی ہے۔
اس سوال پر دو طرح کے لوگ ہوں گے ، ایک وہ جو مہر کی طرح ’ انشاء اللہ دے دیں گے ‘ کا ارادہ کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت ادا کرنے کی نیت نہیں رکھتے ۔
دوسرے وہ جو واقعی واپس کریں گے ان کے لیے ایک مجبوری یہ ہوگی کہ لڑکی کے سرپرست اُسے واپس لینا گوارا نہیں کریں گے ۔
ایک ایسی سوسائٹی میں جہاں مہر نقد ادا کرنے والے پر یوں بھی شک کیا جاتا ہے کہ پتہ نہیں کیا کرے گا ؟ بھاگ جائے گا کہ چھوڑ دے گا یا دوسری شادی کرلے گا ، اس لیے عورتیں مہر نہ مانگنے میں اپنی سیکوریٹی سمجھتی ہیں۔ اب اگر کوئی شخص جوڑا جہیز واپس کرنے کا ارادہ کرے گا تو ساس سسر ہرگز ہاتھ نہ لگائیں گے ۔ اس طرح ایک نیا بہانہ چل پڑے گا ۔ جیسا کہ لیتے وقت کہا تھا کہ :
’ہم نے مانگا ہی نہیں تھا انہوں نے خوشی سے دیا ہے ‘
اب یہ کہیں گے کہ
’ ہم تو واپس کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے خوشی سے انکار کردیا ‘ ۔
یہ یقینی بات ہے کہ واپس لینا کوئی گوارہ نہیں کرے گا لیکن پہلے اس حدیث پر غور کیجئے پھر فیصلہ کیجئے ۔
حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جب بھی کچھ عطا فرماتے ہیں ، میں کہتا کہ کسی ایسے کو دے دیجئے جو مجھ سے زیادہ حاجت مند ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ارشاد فرماتے اسے لے لو اور اپنا کر کے خیرات کردو ۔ جو مال تمہارے پاس بے طمع without any greed اور بے مانگے Without Asking آجائے لے لو اور جو نہ آئے اس کے پیچھے اپنی نفس کو نہ ڈالو
( بخاری و مسلم ۔ ماخوذ ” تحفظ اسلام نمبر“ دارالعلوم غوثیہ، کرلا ممبئی ، صفحہ 344 ، مصنف علامہ محمد مبین نعمانی قادری) ۔

اگر یہ پیسہ آپ واقعی واپس لینا نہیں چاہتے تو بیٹی داماد ہی کے پاس رہے گا اور اس سے صرف ایک خاندان ہی کا فائدہ ہوگا ۔ کتنا اچھا ہو اگر یہ پوری قوم کے کام آئے۔

ان مدّات پر بھی غور فرمائیں

جو لوگ لیا ہوا مال واپس کرنے کا عزم رکھتے ہیں لیکن سسرال والے واپس لینے میں تکلف برتتے ہیں وہ اپنے سسرال والوں کو یہ کہیں کہ وہ یہ مال واپس لے لیں اور ان مدات پر خرچ کردیں اس میں ہر دو کے لیے آخرت کی فلاح ہے ۔

» دینی مدارس کے معیار کو بلند کیاجائے۔
» کالج اور یونیورسٹی کے مستحق طلباء کی مالی مدد ۔
» غیر مسلمین جس قدر بڑی تعداد میں اسلام قبول کررہے ہیں ، ان کی دینی تعلیم و تربیت کا انتظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
» ایک طرف ڈاکٹر ڈاکو بن چکے ہیں ، دوسری طرف کبھی کسی سرکاری ہاسپٹل جاکر دیکھئے لوگ آپریشن تو درکنار معمولی گلوکوز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اسپرین یا پنیڈال Panadol پر زندہ ہیں ان کی مدد بھی انسانیت کی عظیم خدمت ہے ۔
» اردو کو زندہ رکھنے کے لیے آپ جو بھی قدم اٹھائیں مستحسن ہے ۔
» ہندوستان میں اسلام کاعلمی ذخیرہ جتنا اردو زبان میں ہے اتنا کسی دوسرے زبان میں نہیں لیکن بد قسمتی سے اردو ز بان بہت تیزی سے ختم ہورہی ہے۔ اس لٹریچر کو ہندی اور دوسری زبانوں میں منتقل کردینا ، وقت کی اہم ضرورت ہے ہر شخص ایک ایک کتاب اٹھائے اور مترجمین کو معاوضہ دے کر ترجمہ شائع کروائے تاکہ نئی نسل اسلامی خزانۂ علوم سے محروم نہ رہے ۔
» بیروزگاری اور افلاس دور کرنے میں جوڑے جہیز کی واپس کی جانے والی رقمیں بہت بڑا رول ادا کرسکتی ہیں ۔ ہر شخص ایک ایک بیروزگار کو منتخب کرے ، اسے بیرون ملک یا اندرون ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد کرے
» ہر جماعت اور ہر انجمن کے مقاصد Aims & Objectives ہیں ، ان کو آگے بڑھانے کے لیے جتنے سرمایے Capital کی ضرورت ہے اگر اس کا آدھا بھی میسر آجائے تو اُمت مسلمہ آج بھی غالب ہوسکتی ہے ۔ آپ کو جو بھی جماعت پسند ہو اپنا مال اسمیں دیجیئے۔
» بجائے غریب لڑکیوں کا جہیز خریدنے میں مدد کرنے کے ، ان نوجوانوں کی مدد کریں جو خود جہیز خریدنے اور مہر ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
» بے شمار نئی نئی کالونیاں ایسی تعمیر ہوتی جارہی ہیں جن میں دور دور تک نہ کوئی مسجد ہے نہ مدرسہ ، اس لیے نئی نئی بستیوں میں رہنے والے لوگ اکثر نمازوں سے بے بہرہ اور ان کے بچے دین سے دور ہیں ۔ جو جو پلاٹ یا گھر آپ کے جوڑے جہیزمیں ملے ہیں ان کو مسجد یا مدرسے میں تبدیل کردیجئے اس سے بڑی خدمت اور کوئی نہیں ہوسکتی ۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *