جوڑا جہیز کفو کے احکامات کی خلاف ورزی ہے

کفو کے معنی جوڑ، ہمسر یا ہم پلّہ کے ہیں۔ جیسے
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَد …… لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَد // الإخلاص:1-4
ترجمہ: اسکا کوئی جوڑ یا ہمسر نہیں۔
اسی سے کفو کے معنی اخذ کیے گئے ہیں۔ شادی کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان جوڑ دیکھا جاتا ہے۔ اسی کو فقہ کی زبان میں کفو یا کفاء ت سے تعبیر کیاجاتاہے۔
شریعت میں مرد اور عورت کے درمیان کفاء ت یا کفو Equality کی بڑی اہمیت ہے ۔ کئی امور میں مرد کے لیے لازمی ہے کہ معیار Status میں وہ عورت سے کچھ بہتر ہو یا کم از کم برابر کا ہو ۔
اگر مرد ساز و سامان و نقدی کا انتظام نہیں کرسکتا یا کرنا نہیں چاہتا اور عورت سے ان چیزوں کے لانے کی توقع کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مال یا پیسے میں عورت کا کفو نہیں ہے ۔ حدیث کی رو سے یہ نکاح بھی صحیح نہیں ہے ، ابوحنیفہ رحمة اللہ ، شافعی رحمة اللہ و حنبل رحمة اللہ نے بھی اس کی تائید کی ہے ۔
آج میاں بیوی کے درمیان جتنے اختلافات اور جھگڑے ہیں ، کورٹ کیس ہیں ، جس کثرت سے طلاق اور خود کشی اور قتل کے واقعات ہورہے ہیں ، ان کی اصل وجہ یہی ہے کہ شادی سے پہلے انتخاب Selection کا جو مرحلہ ہوتا ہے جس کا ذکر تفصیلاً آگے آئے گا ۔ لوگ اس کو نظر انداز Neglect کردیتے ہیں ۔ یہ نہیں دیکھتے کہ مرد عورت کا کفو Equal ہے یا نہیں ۔ کفو کے احکامات کی روشنی میں اگر عہدِ حاضر میں اس کی تشریح کی جائے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ لڑکے کا حسب نسب یعنی خاندان ، خوشحالی ، تعلیم ، پیشہ ، ماحول اور بے عیبی دیکھنا لازمی ہے ورنہ لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ لڑکی کوبیاہنے کی جلدی میں جوڑا جہیز وغیرہ دے کر غیر کفو Unequal کے حوالے کردیتے ہیں ۔ لیکن بعد میں جو ذہنی طور پر غیر ہم آہنگی dishormony پیدا ہوتی ہے ، اس کے نتیجے میں ساری عمرایک دوسرے کو کمتر Inferior سمجھنے، مذاق اڑانے اور لڑنے جھگڑنے میں گزر جاتی ہے ۔ بچے ہوجانے کیوجہ سے میاں بیوی ساتھ تو رہتے ہیں لیکن دونوں کے ذہن ایک دوسرے سے ہزاروں میل کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے بیزارگی اور اختلاف کی جھلکیاں کسی نہ کسی موقع پر نظر آہی جاتی ہیں۔ اس سے بچوں کا ذہن بھی تباہ ہوتا ہے اور وہ نفسیاتی مریض ہوجاتے ہیں ۔

اکثر مائیں اور بہنیں گھر میں چاند سی بہو لانے کے خیال میں بے شمار لڑکیوں کو دیکھ ڈالتی ہیں ان کی عزت نفس Self Respect کو ٹھیس پہنچاتی ہیں ، گھر آکر لڑکی اور اس کے گھر والوں کا خوب مذاق بھی اڑاتی ہیں اور آخر میں انہیں جب کوئی چاند کا ٹکڑا نہیں ملتا توجوڑے اور جہیز کی فہرست کے ذریعہ ہر چاند چہرے کے داغوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔ جب چاند کا ٹکڑا گھر میں آجاتا ہے تو تھوڑے ہی دنوں میں یہی مائیں بہنیں اس کے خلاف ہوجاتی ہیں ، اس پر الزام دھر دیا جاتا ہے کہ وہ مرد پر اپنا جادو چلا رہی ہے اور اُسے خاندان سے الگ کروارہی ہے۔ اور ادھر بے چارہ مرد سینڈوچ بن جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ ، ساس اور نند بھاری پڑتی ہیں اور بہو کو پیس ڈالتی ہیں اور کہیں بہو چالاک نکلتی ہے اور شوہر کو جھکا لیتی ہے اور آخر میں اپنے جہیز میں لائی ہوئی ہر چیز لے کرالگ ہوجاتی ہے ۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لیے کہ کفو کے حکم کو نظر انداز کیا گیا تھا ۔ لڑکے والوں کا جو بھی معیارِ زندگی Standard of Living تھا اگر لڑکی والوں کو صحیح صحیح بتا دیا جاتا پھر جو بھی لڑکی اس معیارِ زندگی کو قبول کرتی ، وہ بہو بن کر آتی تو ایک احسان مندی کے ساتھ زندگی گزارتی۔ فریج ، ٹی وی ، پلنگ ، بستر ، صوفے نہ بھی ہوتے تو اسی میں وہ بخوشی رہتی ۔ لیکن لڑکے والوں نے ایسی چیزوں کی خواہش کی جو خود ان کے لیے خریدنا آسان نہیں تھا اس لیے جو لڑکی یہ چیزیں لے کر آسکے اُس لڑکی کا انتخاب کیا گیا۔ لہذا لڑکی مال میں لڑکے سے بڑھ گئی اور لڑکا کفو نہیں رہا ، پھر لڑکی کا اپنے لائے ہوئے سامان اور نقدی پر زعم کرنا بالکل فطری Natural عمل ہے جب گھر گرہستی کا سامان وہ خود لے کر آتی ہے تو اسے ساس سسر اور نندوں کے آگے جھکنے پر کیسے مجبور کیا جاسکتا ہے ؟

کچھ لوگ کم علمی کی وجہ سے کفو کے قائل نہیں ۔ وہ اسے ہندو دھرم کی طرح کی ذات پات کی تقسیم کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ یہ نا سمجھی ہے ۔ اللہ تعالی نے ہرگز انسانوں کو اونچا یا نیچا پیدا نہیں کیا ہے ۔ سارے انسان برابر ہیں ۔ ہر کلمہ گو مسلمان چاہے عربی ہو کہ عجمی ، کالا ہو کہ گورا ، کوئی کسی پر برتری Superiority نہیں رکھتا ۔ سب ایک دوسرے کے کفو ہیں لیکن کلمہ گو ہونا کفو ہونے کی پہلی شرط ہے ۔ شریعت یہ بھی چاہتی ہے کہ انسانوں کے درمیان جو فطری اختلاف Natural Difference ہے جیسے خاندانوں کا ماحول ، علاقوں کا فرق ، زبان کا اختلاف ، مال اور پیسے کی وجہ سے اپنے اپنے معیارِ زندگی کا فرق ، تعلیم کا فرق ، وغیرہ ان کو لازماً پیش نظر رکھا جائے ورنہ ذہنوں میں دوریاں ضرور پیدا ہوتی ہیں ۔ کفو میں مال سب سے اہم ہے اگر لڑکی مال میں زیادہ ہو اور جوڑا جہیز لانے کے قابل ہو اور نوکری بھی کرتی ہو تو اس کے دو ہی نتائج نکلتے ہیں یا تو شوہر مکمل فرمانبردار ہوجاتے ہیں ، عورت قواّم بن جاتی ہے ۔ اسکے نتیجے میں آیت الٹ جاتی ہے اور النساء قوامون علی الرجال ہوجاتی ہے یا پھر اگر شوہر حساس ہو تو زندگی دوبھر ہوجاتی ہے ، لڑائی جھگڑوں میں اکثر شوہر غصے سے کہتے ہیں ’ میں تمہارے مال کا بھوکا نہیں تمہارا پیسہ تمہارے منہ پر مار دوں گا ‘ ۔ ایسی صورتِ حال پیش آنے سے پہلے ہی اگر مرد حضرات اپنی اوقات کے مطابق لڑکی کا انتخاب کریں تو ان کی خود داری کو کبھی ٹھیس پہنچے گی اور نہ کفو کو نظر انداز کرنے کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے ۔

آج کی شادیوں کی اکثریت بے جوڑ Matchless ہے ہر لڑکااور لڑکی اپنے اپنے آئیڈیل Ideal پہلے سے ذہن میں رکھتے ہیں۔ لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ انہیں ان کا آئیڈیل مل جائے۔ بالخصوص لڑکیوں کے ساتھ بہت زیادہ نا انصافی ہوتی ہے ۔ وہ ماں باپ اور سوسائٹی کا بھرم رکھنے اور بچوں کی خاطر زندگی تو گزار دیتی ہیں لیکن ایک ادھورا پن ہمیشہ دل میں کانٹے کی طرح چبھتا ضرور ہے کیوں کہ جو لڑکا اس لڑکی کے قابل ہوتا ہے اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ لڑکی کے والدین Afford نہیں کرپاتے یا یہ بھی ہوتاہے کہ لڑکے کے والدین کو اس سے کہیں زیادہ بہتر آفر Offer مل جاتاہے ۔ لڑکے کے والدین کو کم حیثیت کی لڑکی میں کفو کا ضرور خیال آتا ہے لیکن ان کی حیثیت سے زیادہ جوڑا جہیز لانے والی لڑکی میں کہیں کفو کا خیال نہیں آتا ۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی کے والدین کی استطاعت کے مطابق جو لڑکا انہیں ملتا ہے وہ لڑکی کے آئیڈیل کے مطابق نہیں ہوتا ۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ لڑکا قابل ہوتا ہے ، اس کی قابلیت سے میچ کرنے والی لڑکی کی طرف سے مال نہیں ملتا اور کوئی دوسری خوب جوڑا جہیز لا کر اس کی شریک حیات بن جاتی ہے ۔ ایک قابل لڑکی محروم ہوجاتی ہے ۔ ایسے میاں بیوی اس ٹرین یا جہاز کے مسافروں کی طرح ہیں جو پاس پاس تو بیٹھے ہیں لیکن ذہن الگ الگ سمتوں میں سفر کررہے ہوں ۔

کفو یا کفاءت کے احکام علماء دین کی نظر میں
مولانا صدر الدین اصلاحی ۔۔۔ ماخوذ ’ نکاح کے قوانین ‘

” شریعت یہ چاہتی ہے کہ چند خاص امور میں مرد اور عورت کے درمیان جوڑ کا معاملہ Equal Status ہو۔ کسی ایسے معاملے میں بے جوڑ نہ ہوں جو بعد میں ایک دوسرے میں برتری ، مذاق ، تحقیر Insult نفرت یا پھر اونچ نیچ Inferiority of Superiority کا احساس پیدا کرے ۔ سماجی و اخلاقی حیثیت میں یہ جوڑ بعد کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور بعض اوقات سوہانِ روح Soul Torturing بن جاتا ہے ۔
یہ عورت کے ولی کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیزوں کو پیش نظر رکھے ورنہ اختلافات کی صورت میں نقصان اٹھانے والی عورت ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ عورت کے ساتھ ساتھ اس کے متعلقین بھی نقصان اٹھاتے ہیں “۔
شریعت میں کفو کے جو احکامات ہیں وہ یہ ہیں :
… إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ … // الحُجُرات:13
’ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہو ‘
یعنی یہ دیکھا جائے کہ دونوں شریعت پر چلنے والے ہوں ۔

حدیث :
جب کوئی شخص تمہارے یہاں رشتہ بھیجے جس کی دینداری اور اخلاق پسندیدہ ہوں تو اس کا رشتہ قبول کرلو۔ اگر ایسا نہ کروگے تو معاشرہ میں فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا ۔

حدیث :
تنكح المرائة لاربع، لمالها ، ولحسبها ، ولجمالها ، ولدينها، فاظفر بذات الدين . (بخاري و مسلم)
عورت میں چار چیزیں دیکھی جاتی ہیں ، نسب ، مال ، حسن اور دیندار ، تم دینداری کو ترجیح (Preference) دینا ۔

یعنی خاندانی طور پر تو لڑکا لڑکی بہت دیندار گھرانے سے بھی ہوسکتے ہیں یا پھر خاندان بے دین بھی ہوسکتا ہے ، دیکھا یہ جائے کہ اخلاق اور دینداری میں ذاتی طور پر خود کیسے ہیں ؟ اگر Matching ہیں تو کفو ہیں ورنہ نہیں ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکا آزاد خیال ہے ، دوستوں ، محفلوں میں آزادانہ اختلاط Free Mixing کا قائل ہے لیکن لڑکی دیندار ہے یا کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ لڑکی آزادانہ ماحول کی پروردہ ہے لیکن لڑکا شریعت کا احترام کرنے والا ہے تو ایسی شادیاں عموما ًیا تو ٹوٹ جاتی ہیں یا ساری زندگی جھگڑوں کا شکار رہتی ہیں ۔
ماں باپ یہ توقع کرتے ہیں کہ شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے اپنے بیٹے کو طلاق اسی لیے دلوائی تھی کہ لڑکی اخلاق میں کفو نہیں تھی ۔ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ کے نزدیک تقویٰ اور اخلاق کے بعد یہ چار چیزیں کفو میں داخل ہیں

1) حسب نسب :
( خاندان اور نسل )
جس طرح قریشی عورت غیر قریشی مرد پر درجہ رکھتی ہے سوائے اس کے کہ مرد عالم دین ہو ۔ ایک عربی عورت کا عجمی مرد سے رشتہ نبھ نہیں پاتا ۔ عربی عورتیں بہت زیادہ Dominating ہوتی ہیں ، جن کو عرب مرد ہی آسانی سے قابو کرسکتے ہیں ، اس کے باوجود سعودی عرب ، کویت وغیرہ میں طلاق کا تناسب Ratio بڑھتا جارہا ہے ۔
حضرت زینب (رضی اللہ عنہا) جو بعد میں اُم المومنین بنیں ان کا پہلا نکاح حضرت زید بن حارث (رضی اللہ عنہ) سے ہوا تھا وہ ایک یمنی سردارِ قبیلہ کے بیٹے تھے ۔ ذہنی طور پر ایک آزاد قریشی النسل کی عورت کا ایک غیرقریشی کو کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے یہ انسانی نفسیات Human Psychology ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بعد میں خود حضرت زینب (رضی اللہ عنہا) سے نکاح کیا ۔

2) پیشہ Profession
یعنی پیشے بہتر یا کم تر، اچھے یا برے ہوتے ہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بچے کو اپنی ایک پھوپھی زاد بہن کی کفالت میں دیا اور یہ ہدایت کی کہ اسے تعلیم دینا اور کمتر Inferior پیشے مت سکھانا ۔ پیشے سے آدمی کی ذہنیت پر ضرور اثر پڑتا ہے ۔اگر نہ بھی پڑے تو یہ نفسیات Psychology ہے کہ ایک دوسرے کی برائیاں خاندان سے منسوب کردی جاتی ہیں ایک دوسرے پر خاندان کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔

3) حریت
یعنی یہ دیکھا جائے کہ لڑکا آزاد ہو غلام نہ ہو ۔

4) مال
یہ دیکھا جائے کہ لڑکا کمائی اور خوشحالی میں لڑکی سے بہتر ہو ۔
امام شافعی (رحمة اللہ علیہ) نے مال کے علاوہ ساری شرطیں باقی رکھیں ۔ امام مالک (رحمة اللہ علیہ) کے نزدیک صرف یہ ہے کہ لڑکا تقویٰ اور اخلاق کے بعد صرف بے عیب ہو یعنی اس میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جس کی وجہ سے لڑکی کو اپنے ملنے جلنے والوں میں کسی قسم کی کوئی شرمندگی یا احساس کمتری پیدا نہ ہو ۔
اگر کوئی ایسا عیب جو لڑکے یا لڑکی کے علم میں قبل نکاح نہ لایا گیا اور نکاح کے بعد ان پر یہ راز منکشف ہوتو طلاق یا خلع کی دونوں کو اجازت ہے۔

تقویٰ ، دینداری اور اخلاق ہر دور میں لازمی شرائط ہوں گے ، باقی کا انحصار وقت اور حالات پر ہے ۔ کسی دور میں پیشہ باعث انا Matter of Ego ہوتا ہے تو کسی دور میں مال ، کسی مقام پر خاندان اہم ہوتا ہے تو کہیں حریت ، عربوں میں پہلے نسب اور خاندان کی بہت اہمیت تھی ، اب پیسے کی ریل پیل اور پٹر و ڈالر کی بہتات Excess نے یہ اہمیت گھٹا دی ۔ مہر کی رقم کے مقابلے شروع ہوگئے First come First Go کی بنیاد پر جو یہ رقم ا دا کرسکے ، لڑکی اس کے نام کردی جاتی ہے ۔ لیکن یہاں بھی شرط وہی ہے کہ مرد مال میں عوت سے بہتر ہو ۔ دیہاتوں میں خاندان اہمیت رکھتے ہیں ۔ قصاب خاندان ، قریشی یا انصاری خاندان وغیرہ وغیرہ۔ شہروں میں لوگ تعلیم زیادہ ڈھونڈھتے ہیں تاکہ عورت وقت ضرورت نوکری کرسکے ۔ نوکری پیشہ لڑکیوں کی طلب Demand زیادہ ہے ۔

کسی دور میں سید زادہ ، شیخ زادہ یا پٹھان ہو نا بہت اہمیت کا حامل تھا لیکن اب تعلیم اور رکھ رکھاؤ نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ ایک علاقہ کی عورت دوسری زبان یا علاقے میں بیاہی جائے تو اکثر ٹکراؤ ہوتا ہے ۔ اکثر مرد حضرات عورت کے ’ پنجابن ، حیدرآبادن ، بہارن یا بنگالن وغیرہ وغیرہ ‘ ہونے کو ایک تضحیک یا طعنے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور عورت اسے گالی کے معنوں میں لیتی ہے ۔
مختصر یہ کہ تقویٰ اور اخلاق کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں وقت اور رواج کے ساتھ ان کا خیال رکھنا ضروری ہے اگر شریعت ان اجزاء کے متعلق صریح احکامات دے دیتی تو چند چیزیں ہمیشہ کے لیے باعث شرف و عزت بن جاتیں اور چند چیزیں کسی دور میں قابل قدر ہونے کے باوجود بری نظر سے دیکھی جاتیں اور نتیجتاً لوگ شریعت سے بغاوت کرتے ۔ اس لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ تقویٰ اور اخلاق کے ساتھ ساتھ مال ، پیشہ ، خاندان ، تعلیم ماحول وغیرہ دیکھنا لازمی ہے ۔ یا د رکھئے ہر فرد یا معاشرہ اتنا صالح نہیں ہوتا کہ ہر لڑکا لڑکی تقویٰ اور دینداری سے بھر پور ہوں اس لیے شریعت نے ان دنیاوی معیارات کو بھی اہمیت دی ہے جن کا ازدواجی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔

جوڑا جہیز فی زمانہ کفو کا ہی ایک مسئلہ ہے ۔ جو لوگ مطالبے سے یا خوشی سے لینے کے قائل ہیں وہ لڑکی کے کفو نہیں ہیں ۔ جو مرد خود پچاس ہزار روپئے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ لاکھ دو لاکھ کا مطالبہ کرتا ہے وہ کفو کیسے ہوسکتا ہے ؟

مفتی پنجاب مولانا فضیل الرحمان ہلال عثمانی

مفتی پنجاب مولانا فضیل الرحمان ہلال عثمان ، رکن پرسنل لا بورڈ اپنی تصنیف ” اسلامی قانون “ ، دفعہ 79 میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں :
و اذا زوجت المراء ة نفسها من غير كفو فللا ولياء ان يفرقوا بينهما (الهدايه الكفايه)
اور اگر کوئی عورت اپنا نکاح غیر کفو میں کرلے تو ولی کو علحدہ کروانے کا حق ہے ۔ ( شرعی عدالت میں )

دفعہ : 31 کے تحت مولانا لکھتے ہیں کہ :
” نکاح کا تعلق صرف دو افراد سے نہیں ، دو گھرانوں اور خاندانوں سے بھی ہے ، اس لیے بوقت نکاح یہ دیکھا جانا چاہئے کہ : دینداری و اخلاق میں برابری ، معاشرتی طور طریق میں برابری ، سماجی عزت و حیثیت میں برابری اور مال میں برابری۔یہ امور کفاء ت ہیں اگر ان میں زیادہ فرق ہوا تو بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے اور نکاح کے مقاصدِ شریعت فوت ہوجاتے ہیں ۔ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں عورت کے سرپرست کو مداخلت کا حق دیا گیا ہے“ ۔

عام مشاہدہ یہ ہے کہ کورٹ میں داخل طلاق کی درخواستوں یا محکمہ قضات میں جتنے طلاق یا خلع کی درخواستیں ہیں ، ان میں اکثریت لو میریج کی ہے ۔ لڑکی ولی کی مرضی کے بغیر فیصلے کرلیتی ہے اور کفو کے احکامات کو وقتی جذبات کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیام کی شادیوں Arranged Marriages کے مقابلے میں لومیریجس Love Marriages کہیں زیادہ ناکام یا پھر کانٹوں پر ہوتی ہیں ۔

دفعہ 17 کے تحت مولانا لکھتے ہیں کہ:
عن جابر بن عبدالله (رضي الله عنه) لا ينكح النساء الاكفاء ولا يزوجوهن الا اولياء ولا مهردون عشره دراهم
( سنن دار قطني و هدايه باب المهر )

جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ عورتو ں کا نکاح ان کے کفو میں کیا جائے اور ان کا نکاح ان کے ولی کریں اور مہر دس درہم سے کم نہ ہو ۔ ( دس درہم 28.6grams چاندی ) ۔
مولانا مفتی محمد شفیع (رحمة اللہ علیہ) ، مفسر معارف القرآن

مولانا نے اپنی کتاب “جواہر الفقہ” صفحہ 97 پر اجمالاً روشنی ڈالی ہے فرماتے ہیں ۔
ثلاثه لا تؤخرها الصلوه اذا اٰنت و الجنازه اذا حضرت والايمه اذا وجدت لها كفوا ( ترمذي )
تین کاموں میں دیر نہ کرو ۔ ایک نماز ۔۔۔ جب وقت ہوجائے ، دوسرے جنازہ ۔۔۔ جب تیار ہوجائے ، تیسرے عورت(نکاح کے معاملے میں) ۔۔۔ جب اس کا کفو مل جائے ۔
ہاں ! عورت اور ولی اگر دونوں رضا مند ہوں تو نکاح جائز ہے گو آئندہ مصالح کے اعتبار سے نا مناسب ہے ۔ ( الھدایہ )
عورت اور اس کے ولی کی رضا مندی میں دونوں کی نیت بھی دیکھی جائے گی کیوں کہ نیت اصل بنیاد رشتہ ہے ۔

صفحہ 74 پر مولانا فرماتے ہیں :
یا تو وہ لوگ ہیں جو اپنا سلسلۂ نسب کسی بزرگ یا صحابی یا بادشاہ وغیرہ سے جوڑ کر تفاخرو تکبر اختیار کرلیتے ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سرے سے دنیاوی معاملات میں بھی امتیاز کا انکار کر کے اس کا نام مساواتِ اسلام کا نام دیتے ہیں ۔ دونوں باتیں نصوص شرعیہ اور احادیث صریحہ کے خلاف ہیں بالخصوص نکاح کے معاملات میں کفاء ت کو نظر انداز کرنا مساوات اسلام کے معنوں کی غلط تعبیر ہے ۔کیا یہ اندھیر نگری ہے کہ تہذیبی طور پر ایک مہذب اور غیر مہذب ایک ہوجائیں ۔ شریف و رذیل ، حاکم و محکوم ، مجرم و معصوم ، عالم و جاہل سب ایک پلڑے میں تلنے لگیں اور گدھے گھوڑے سب برابر ہوجائیں ۔ ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جائیں ؟ اس سے نہ صرف دین و مذہب کی بنیادیں اُکھڑتی ہیں بلکہ خود دنیا داری کے بھی لالے پڑ جاتے ہیں اور زندگی وبال ہوجاتی ہے ۔
قانونِ کفاء ت دراصل اونچ نیچ کے فرق کو ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہونے سے روک دیتا ہے ، فرقِ فطرتِ انسانی مٹ نہیں سکتے امتیازاتِ ذہنی تو ہمیشہ رہیں گے قانونِ کفاء ت ان امتیازات کو ازدواجی زندگی میں کوئی طوفان کھڑا کردینے سے پہلے ہی ختم کردیتا ہے ۔

نصاب اہل خدمات شرعیہ حیدرآباد دکن :

(یہ نصاب 1948ء تک سلطنتِ آصفیہ، حیدرآباد دکن میں رائج تھا اور تعلیمی نصاب میں داخل تھا ) ۔
کفو یعنی نسب ، حریت ، اسلام ، دیانت ، مال اور پیشہ میں عورت کے برابر یا اس سے بہتر ہونا ہے ۔
نسب عربی ، عجمی ۔ معترضین کے لیے قابل غور نکتہ یہ ہے کہ آدمی کا نسب باپ سے ہوتا ہے، ماں سے نہیں جبکہ بچے کی پیدائش میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔
عالم دین سب کا کفو ہے حتیٰ کہ قریشی عورت کا بھی ۔
حریت : یعنی غلام یا آزاد ہونا ۔
اسلام : کم سے کم دو پشتوں سے اسلام میں ہو ( البتہ نو مسلم ہونا جہاں عار Objectionable نہ ہو وہاں یہ ضروری نہیں ) ۔
دیانت : فاسق نیک عورت کا کفو نہیں ہوسکتا ۔
مال : جو مہر معجل اور کم از کم ایک ماہ کا نفقہ ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ کفو ہوسکتا ہے ۔
پیشہ : ایک دوسرے کا پیشہ عار Inferior، Insulting نہ سمجھا جاتا ہو ۔ کفائت کا اعتبارصرف مرد سے ہے نہ کہ عورت سے ، یعنی مرد کا عورت کے برابر یا زیادہ ہونا ضروری ہے ۔

مولانا ابوالا علی مودودی رحمة اللہ :

کفاء ت کے موضوع پر مولانا مودودی رحمة اللہ نے اپنی کتاب حقوق الزوجین صفحہ 23 پر اس موضوع کا حق ادا کردیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
’ مسلمانوں کے درمیان شریعت یہ چاہتی ہے کہ ازدواجی تعلق ایسے مرد و عورت کے درمیان قائم ہو جن کے درمیان غالب حال Prevailing Circumstances یا Traditions کے لحاظ سے مودت و رحمت Kindness & Love قائم ہو ، جہاں یہ توقع نہ ہو وہاں رشتہ قائم کرنا مکروہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نکاح سے پہلے عورت کو دیکھ لینے کا حکم دیا ہے ۔
اذا خطب احدكم المراء ة فان استطاع ان ينظر الي مايدعوه الي نكاحها فليفعل
جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہئے کہ آیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو اس کو عورت سے نکاح کی رغبت دلانے والی ہو اور یہی وجہ ہے کہ شریعت نکاح کے معاملے میں کفاء ت یا ہمسر Equality کو ملحوظ رکھنا پسند کرتی ہے۔ بخلاف اس کے جن کے درمیان یہ ماثلت موجود نہ ہو ، ان کے معاملہ میں زیادہ اندیشہ یہی ہے کہ وہ گھر کی زندگی میں اور اپنے قلبی و روحی تعلق میں ایک دوسرے سے متصل نہ ہوسکیں گے اور اگر شخصاً Personally میاں اور بیوی باہم متصل ہو بھی جائیں تو کم ہی یہ امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں کے خاندان آپس میں مل سکیں ۔ شرعِ اسلامی میں مسئلہ کفائت کی یہی اصل ہے ۔

مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ صیانتِ اخلاق و عفت کے بعد دوسری چیز جو اسلام کے قانون ازدواج میں مقصدی اہمیت رکھتی ہے وہ زوجین کے درمیان مودت و رحمت ہے ۔ جب تک ان کے تعلقات میں اس چیز کے باقی رہنے کی امید ہو ، اسلامی قانون ان کے رشتہ مناکحت کی حفاظت پر اپنی پوری قوت صرف کرتا ہے مگر جب یہ مودت و رحمت باقی نہ رہے اور اس کی جگہ بے دلی ، سرد مہری ، نفرت اور بیزاری پیدا ہوجائے تو قانون کا میلان رشتہٴ نکاح کی گرہ کھول دینے کی طرف منعطف ہوجاتا ہے۔ یہ نکتہ بھی اس قابل ہے کہ اس کو ذہن نشین کرلیا جائے کیوں کہ جو لوگ اس کو نظر انداز کر کے قانون اسلام کے اصولوں کو جزئیات پر منطبق کرتے ہیں وہ قدم قدم پر ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے قانون کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔
نفسِ مسئلہ کفاءت تو عقل اور نقل دونوں سے ثابت ہے ، تفصیلات سے قطع نظر بجائے خود نکاح میں اُس کے معتبر ہونے پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے ۔
اس مسئلہ کا ماخذ متعدد احادیث ہیں ۔ مثلا :

لاتنكحوا النساء الا الاكفاء ( دارقطني ، بيهقي )
عورتوں کی شادیاں نہ کرو مگر اُن لوگوں کے ساتھ جو کفو ہوں ۔

يا علي ثلاث لا توخرها ۔ الصلوة اذا ات ، والجنازة اذا حضرت ، والا يم اذا وجدت كفأ ( ترمذي ، حاكم)
اے علی (رضی اللہ عنہ) ! تین کام ہیں جن کو ٹالنا نہ چاہئے ایک نماز ، جب کہ اس کا وقت آجائے ، دوسرے جنازہ جب کہ تیار ہوجائے ، تیسرے بن بیاہی عورت کا نکاح جب کہ اس کے لیے کفو مل جائے ۔

تخيروا لنطفكم و انكحوا الاكفاء
اپنی نسل پیدا کرنے کے لیے اچھی عورتیں تلاش کرو اور اپنی عورتوں کے نکاح ایسے لوگوں سے کرو جو ان کے کفو ہوں ۔
( یہ حدیث حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) ، انس (رضی اللہ عنہ) ، عمر بن الخاطب (رضی اللہ عنہ) سے متعدد طریقوں سے مروی ہے )

امام محمد رحمة اللہ نے کتاب الآثار میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا یہ قول بھی نقل کیا ہے :
لأ منعن فروج ذوات الاحساب الامن الاكفاء
میں شریف گھرانوں کی عورتوں کے نکاح کفو کے سوا کہیں اور نہ کرنے دوں گا ۔

یہ تو ہے اس مسئلے کی نقلی دلیل ۔ رہی عقلی دلیل تو عقل کا صریح تقاضا یہ ہے کہ کسی لڑکی کو کسی شخص کے نکاح میں دیتے وقت یہ دیکھا جائے کہ وہ شخص اس کے جوڑ کا ہے یا نہیں ؟ اگر جوڑ کا نہ ہو تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ان دونوں کا نباہ ہوسکے گا۔
نکاح سے مقصود تو عقلاً بھی اور نقلاً بھی یہی ہے کہ زوجین کے درمیان مودت و رحمت ہو اور وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کرسکیں ۔ آپ خود سوچ لیں کہ بے جوڑ نکاحوں سے اس مقصود کے حاصل ہونے کی کہاں تک توقع کی جاسکتی ہے ؟ اور کونسا معقول انسان ایسا ہے جو اپنے لڑکے یا لڑکی کا بیاہ کرنے میں جوڑ کا لحاظ نہ کرتا ہو ؟ کیا آپ اسلامی مساوات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ہر مرد کا ہر عورت سے اور ہر عورت کا ہر مرد سے صرف اس بنا پر نکاح کردیا جائے کہ دونوں مسلمان ہیں ؟ بلا اس لحاظ کے کہ ان میں کوئی مناسبت پائی جاتی ہے یا نہیں ؟
فقہاء نے اس جوڑ کا مفہوم مشخص Differentiate کرنے کی کوشش کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے طریقے پر یہ بتایا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان کن کن امور میں مماثلت ہونی چاہئے ۔ ہم ان تفصیلات میں بعض فقہاء سے اختلاف اور بعض سے اتفاق کرسکتے ہیں ۔ مگر فی الجملہ عقل عام یہ تقاضا کرتی ہے کہ زندگی بھر کی شرکت و رفاقت کے لیے جن دو ہستیوں کا ایک دسرے سے جوڑ ملایا جائے ان کے درمیان اخلاق ، دین ، خاندان ، معاشرتی طور طریق ، معاشرتی عزت وحیثیت ، مالی حالات ، ساری ہی چیزوں کی مماثلت دیکھی جانی چاہئے ۔ ان امور میں اگر پوری یکسانیت نہ ہو تو کم از کم اتنا تفاوت بھی نہ ہو کہ زوجین اُس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رفاقت نہ کرسکیں ۔ یہ انسانی معاشرت کا ایک عملی مسئلہ ہے جس میں حکمت عملی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ آدم کی ساری اولاد کے یکساں ہونے کا نظریہ آپ یہاں چلانا چاہیں گے تو لاکھوں گھر برباد کردیں گے ۔ ہاں ! اگر آپ یہ کہیں کہ محض نسل و نسب کی بنا پر ذات پات اور اونچ نیچ کا تصور ایک جاہلی تصور ہے ، تو اس بات میں یقیناً میں آپ سے اتفاق کروں گا ۔ جن لوگوں نے کفاء ت کے فقہی مسئلے کو مسخ کر کے ہندوؤں کی طرح کچھ اونچی اور کچھ نیچی ذاتیں قرار دے رکھی ہیں ، اُن پر مجھے بھی ویسا ہی اعتراض ہے جیسا آپ کو ہے ۔
( ترجمان القرآن ۔ ستمبر 1952ء و رسائل و مسائل )

کیا غیر کفو سے نکاح جائز ہے

مندرجہ بالا تمام دلائل کی روشنی میں یہ ثابت ہوتاہیکہ اگر لڑکا پلنگ ، بستر، گاڑی، گھر اور نقد رقم کا طالب ہو تو وہ اُس لڑکی کے لیے ہرگز کفو نہیں ہے۔ ایسے لڑکے سے نکاح کو شریعت سخت ناپسندیدہ قرار دیتی ہے۔ اس سلسلے میں لڑکی کے ولی کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن لڑکوں یا ان کے والدین کی جانب سے جوڑا جہیز مانگ کر یا خوشی سے بغیر مانگے سب کچھ حاصل کرنا دین اور شریعت کے احکام کی کُھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ لوگ کفو نہ ہونے کے باوجود لڑکیوں کے والدین کو بلیک میل کرتے ہیں۔ ۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

One Comment

  1. اسلام علیکم

    اللہ آپکو اسکا بہترین اجر اتا فرمائے

    بہت صحیح کام کر رہے ہیں آپ ہمارے مسلم معاشرے میں یہ جھیز اور جوڑے کی لعنت اس طرح سے بھر گئی ہہے کے اسکو دور کارنا سب کا فرض بنتا ہے

    آپکا بھائی داود محمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *