ہم پوچھتے ہیں عاشقِ مسلم مزاج سے
الفت بتوں سے ہے تو برہمن سے بیر کیا
ہندو معاشرے کے تاریخی مطالعے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ بھارت میں جہیز کی رسم قدیم زمانے سے موجود ہے اور اس کو مذہبی تحفظ بھی حاصل ہے ۔ہندو قوم میں اس رسم کا آغاز ویدک دور سے ہی ہوگیا تھالیکن پرانوں کے دور میں اس کو بہت فروغ حاصل ہوا ۔چنانچہ رامائن،مہابھارت اور بھاگوت پران میں بھگوان اور دیوتا بھی جہیز لیتے اور دیکھے جاتے ہیں۔ان مذہبی کتب میں بھگوان اور دیوی دیوتاؤں کی شادی کے تذکروں کے ساتھ ان میں دئیے گئے اور لئے گئے جہیزکی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ہندوستان میں جہیز ایک رسم ہی نہیں بلکہ مذہبی سنسکار کا درجہ رکھتاہے۔ ہندوؤں کی تسلیم شدہ رائج مذہبی کتب میں بھگوان اوردیوی دیوتا ؤں کی شادی کے موقع پر دئیے گئے جہیز کی تفصیلات اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔
تلسی داس جیرام چرت مانس میں '' پاروتی'' کے والدنے شیوجی کو غلام لونڈیوں ، گھوڑیوں، رتھ ، ہاتھی ،گایوں،کپڑوں اور ہیروں کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں بیل گاڑیوں میں بھر کر دی تھیں ۔ جن میں مختلف قسم کے اناج اور سونے کے برتن بھی شامل تھے۔شیوجی پاروتی کے ساتھ بے پناہ جہیز کا سامان لے کر رخصت ہوئے تھے۔
مہابھارت میں دروپدی جس کی شادی پانچ پانڈوؤں کے ساتھ ہوئی تھی،اس شادی میں دروپد راجا نے اپنی بیٹی دروپدی کے ساتھ اپنے داماد کو بہت سے ہیرے جواہرات اور بے پناہ دولت دی، ساتھ ہی ہیرے جواہرات جڑی بوٹی راسیں لگا کرعمدہ قسم کے گھوڑوں والے رتھ، سوہاتھی، بہترین پوشاکیں اور زیورات سے لدی لونڈیاں بھی دیں،اس کے علاوہ بھی بے شمار دولت اور جواہرات دئیے گئے راجا دروپد نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہر پانڈو کو اتنا ہی جہیز الگ سے دیا۔
مہابھارت میں ہی ارجن کے بیٹے ابھیمینو کی شادی میں راجادراٹ نے جہیزمیں ہوا کی رفتار سے چلنے والے ساٹھ ہزار گھوڑے ، دو سو مست ہاتھی اور بہت سی دولت ہی نہیں دی،بلکہ اس نے اپنی حکومت،فوج اور دولت کے انبار کے ساتھ اپنے آپ کو بھی داماد کے حوالے کردیا، یعنی خود کو بھی بمعہ راج پاٹ کے جہیز میں دے دیا۔
اسی مہا بھارت میں کرشن جی کی بہن سبھدرا کی شادی اوراس کو دئیے گئے جہیز کا تذکرہ بھی تفصیل کے ساتھ آیاہے۔کرشن جی نے بھی اپنی بہن کو شادی کے موقع پرسونے سے منڈھے ہوئے ایک ہزار رتھ، دس ہزارگائیں، سونے سے سجی ہوئی ایک ہزار سفید گھوڑیاں، پانچ سو خچر، پانچ سو سدھے ہوئے بیل، سونے کے زیورات سے سجی ایک ہزار لونڈیاں، ایک ہزار گھوڑے اور دس ہزار آدمیوں کے وزن کے برابر سونا جہیز میں دیا۔ اسکے علاوہ انہوں نے اپنی بہن کو مہاوتوں کے ساتھ ایک ہزار ہاتھی بھی دئیے۔جن کی گردنوں میں سونے کی گھنٹیاں لٹکی ہوئی تھیں۔
رام چندر جی اور سیتا جی کی شادی میں دئیے گئے جہیز کی تفصیلات رامائن میں موجود ہیں۔ جو راجاجنک نے اُن کو دیاتھا۔بالمیکی رامائن کے مطابق راجا جنک نے اپنی بیٹی سیتا کی شادی کے شبھ اوسر پر کئی لاکھ گائیں، لاتعداد قالین، کروڑوں ریشمی اور سوتی پوشاکیں، زیورات سے سجے ہوئے بہت سے ہاتھی اور گھوڑے، رتھ اور پیدل فوجی، کئی سو لڑکیاں اور بہترین لونڈی اور غلام نذر کئے۔ان سب کے علاوہ ایک کروڑ سونے اور چاندی کے سکّے موتی اور مونگے بھی جہیز میں دئیے۔ راجاجنک نے جہیز کا یہ سامان چاروں بھائیوں کو الگ الگ نذر کیا، کیونکہ رام چندر جی کے ساتھ ان کے باقی تین بھائیوں کی شادی بھی ایک ہی ساتھ ہوئی تھی۔
شری مد بھاگوت پران
اس مشہور پران میں کرشن جی کی جیونی یعنی ان کی زندگی کی روداد بیان کی گئی ہے۔ ان میں کرشن جی کی شادی کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ اس شادی کے موقع پران کی بیوی کے باپ نے اپنی بیٹی کو زیورات اور شاندار لباس زیب تن کئے ہوئے تین ہزار حسین لونڈیاں، دوہزار سجی ہوئی گائیں، نوہزارگائیں، نوہزار ہاتھی،نو لاکھ رتھ، نو کروڑ گھوڑے اور گھوڑوں سے سو گنے غلام جہیز میں دئیے۔ ۔
ہندوقوم کے یہ وہ مقدس دھارمک گرنتھ ہیں جن پر ہر ہندو یقین رکھتا ہے اور بہت عقیدت واحترام سے پڑھتا ہے اور سنتا ہے ۔اپنے گھروں میں ان کتابوں کی کتھا اور اکھنڈ پاٹھ کرانا ہندو بہت ثواب کا کام اور مذہبی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ہر سال دسہرہ اور دیوالی کے موقعوں پر ان کتابوں کے واقعات کو اسٹیج کرکے دکھایا جاتاہے،جس میں بھگوانوں اور دیوتاؤں کی زندگی کے مختلف واقعات کے ساتھ شادی اورجہیز کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہندو معاشرے میں جہیز ایک ناگزیر حقیقت ہے،کیونکہ یہ ان بھگوانوں اور دیوی دیوتاؤں کا عمل ہے جن کی ہندو عوام انتہائی عقیدت سے پوجاکرتے ہیں اور ان کی تقلیدکو اپنا دھرم اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
(ماخوذ : سہ روزہ دعوت دہلی، 16 اپریل ، 2009 ، مصنف ایم شیزی ، بجنور)
امت مسلمہ کی بدقسمتی یہی ہے کہ مشرکانہ دور کی ان رسموں کو سب سے زیادہ ان لوگوں نے پروان چڑھایا ہے جو خاندانِ سادات ہاشمی النسل گھرانوں سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اہلِ بیت سے اپنا خاندانی شجرہ نسب جوڑتے ہیں۔ جن کے حلقہ ارادت میں لاکھوں کا مجمع ہوتاہے۔
ایک مرتبہ حیدرآباد دکن میں واقع مہدی پٹنم کے چوراہے پر ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ سننے کا اتفاق ہوا۔ خطیب صاحب اہلِ بیت کے فضائل بیان فرمارہے تھے۔ انہوں نے اس بیان کو حدیث کہہ کر سنایا کہ
”دو آنکھیں جو دوزخ کی آگ سے محفوظ کردی جائینگی ان میں ایک وہ ہے جو اللہ کے خوف سے روئے دوسری وہ جو فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لال کے غم میں روئے۔“
اہلِ بیت سے جُڑی ایسی بہت ساری روایات اکثر بیان کی جاتی ہیں جو اہلِ تشیع کی روایات سے ملتی جلتی ہیں۔ ان روایات پر عقیدہ رکھنے والوں کیلئے یہ امتحان کی گھڑی ہیکہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی بیٹی کی شادی کو پہلے اپنی بیٹیوں کے لیے نمونہ بنائیں اور فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی بیٹی کی سنّت کے خلاف کرنے والوں کو سید السادات کہلانے والوں کو شرم دلائیں۔
یہ کیسا اسلام ہیکہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لال کے غم میں رونے والے کو تو دوزخ کی آگ سے پناہ دیتا ہے لیکن اپنی بیٹیوں کی شادی میں بجائے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی لختِ جگر کی سنت کے، پاروتی، سیتا اور دروپدی کے طریقوں کو محبوب رکھتا ہے۔
ہندوشاستروں میں اسے ”ورو دکھشنا“ Varu Dakshina کہا گیا ہے یعنی دلہا کو پیش کیا جانے والا نذرانہ ۔ لفظ دکھشنا کے اصطلاحی معنوں میں ایک اہم کام کی لازمی اجرت یا ناگزیر رشوت Unavoidable Bribe کے بھی ہوتے ہیں ۔
ہندو شاستروں میں ہے کہ اونچی ذات کا مرد نیچی ذات کی عورت سے شادی کرسکتا ہے ۔ چار جو اہم ذاتیں ہیں یعنی برہمن ، چھتری ، ویشیا اور شودر ، ان میں ہر ایک کی ہزاروں ذیلی ذاتیں Secondary Castes ہیں جو ایک دوسرے سے اونچی ذات ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
جیسے برہمنوں میں چترویدی ، ترویدی ، دویدی ، ویدیکا ، لوکیکا وغیرہ ۔
چھتریوں میں یاویش میں کماّ ، ریڈّی ، ِلنگا ، اولیکا وغیرہ ۔
شودروں میں بھی لاکھوں کی تعداد میں ذاتیں ہیں
جو ذات کہیں طاقت سیاست یا پیسے میں بڑھ جاتی ہے وہ چھتریوں اور ویشوں کے رسم و رواج اختیار کر کے نیچی ذات ہونے کا دھبہ مٹا لیتی ہے ۔ بے شمار بڑے مندر ایسے ہوتے ہیں جہاں ہر ذات کا آدمی داخل نہیں ہوسکتا حتی کہ مذہبی جلوسوں اور باراتوں کے راستے بھی ذات پات کی بنیاد پر الگ ہوتے ہیں ۔ ہر شخص کی پہچان ذات تھی اور آج بھی ذہنوں میں پائی جاتی ہے ۔ اس لیے ہر کمزور ذات یہ چاہتی ہے کہ اس کی لڑکی اس سے اونچی ذات میں جائے بڑے مندر میں اس کا پرویش Access ہو۔ اس لیے وہ بڑی ذات کے لڑکے کو جلد سے جلد اپنی لڑکی کے لیے Reserve کرنا چاہتے ہیں ۔
ذات اندر ذات
جن چار ذاتوں کا ذکر کیاگیاہے، انہیں اندرون ذات ہی شادی کی اجازت ہے، بیرون ذات شادی پر مذہب نکالا Outcast کی سزا دی جاتی ہے۔ ہر ذات کے اندر پھر بے شمار ذیلی ذاتوں میں سے کسی بھی ذات کی لڑکی یالڑکے سے شادی کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ایک برہمن اپنی ہی برہمن ذاتی میں کسی بھی چتر ویدی، ترویدی وغیرہ سے کرسکتاہے۔ اگر کسی برہمن نے کسی ویش یا چھتری سے شادی کرلی یا کسی ویش یاچھتری نے کسی شودر ذات کے کسی لڑکے یا لڑکے سے شادی کرلی تو اسکو مندر میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔ اسے کئی مندروں میں جاکر بھگوانوں کی شادیاں کروانے کی رسم ادا کرنے، چڑھاوے چڑھانے اور پنڈتوں کو دان دینے کی سزا متعین کی جاتی ہے۔
شادیاں لڑکا لڑکی جوان ہونے سے پہلے ہی کردینے کا رواج اسی لیے پڑا کہ لڑکا یا لڑکی کے لیے جوان ہونے کے بعد اگر اپنی ذات یا بہتر ذات کا لڑکا نہ ملے اور لڑکی کی عمر بیس بائیس ہوجائے تو اس کا رشتہ ہونا مشکل ہوجاتا تھا ۔ اس لیے اچھے خاندانوں کے لڑکے اپنی قیمت رکھتے تھے جنہیں کم ذات والے زیادہ سے زیادہ ورو دکھشینا دے کر خرید لیتے ۔ یہ اونچ نیچ ویش اور چھتری میں سب سے زیادہ تھی کیوں کہ شہروں میں ان کی آبادی زیادہ تھی اور نیچی ذات کی نظریں ان پر زیادہ رہتی تھیں ۔ شودر پر یہ دباؤ کم تھا کیوں کہ شاستروں کے مطابق شودروں کے لیے کسی بھی اونچی ذات کی عورت سے شادی کرنا تو درکنار اس کی طرف دیکھنا بھی باعث تعزیر Punishable جرم تھا ۔ جیسے :
» اگر شودر اونچی ذات کی عورت کو ہاتھ لگائے تو اسے موت کی سزا دو ۔( منو سمرتی )
» نیچی ذات والے مرد کے پاس جانے والی عورت کی بھی یہی سزا ہے ۔( منوسمرتی )
» شودر صرف اپنی ذات میں شادی کرے دوسرے ورن ( ذات ) کی عورت سے شادی کرنے کا اسے حق نہیں ( منو سمرتی )
» عورت آزادی کے قابل نہیں یعنے اسے آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا۔ منوسمرتی کے الفاظ میں یہ یوں ہے:
(Ne Stree Svatantyam ara hathi)
» جوان بیوہ کسی بھی وقت پھسل سکتی ہے، اسکا ستی کرنا ضروری ہے۔ (جبکہ حقیقت تو یہ ہیکہ رنڈوا یعنی جسکی بیوی مرجائے وہ آسانی سے پھسل سکتا ہے)۔ اسی لئے راجستھان وغیرہ کے علاقوں میں آج تک بھی عورت کو بیوہ ہوجانے پر ستی کردینے یعنی زندہ جلادینے کے واقعات ملتے ہیں۔
ویش اور شودر ذات میں جس علاقے میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہوتی تھی وہاں Polygamy ہوتی تھی ۔ یعنی ایک مرد ایک سے زیادہ عورتوں سے شادیاں کرتا تھا۔ اور جہاں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہوتی تھی وہاں Polyandry ہوتی تھی یعنی ایک عورت ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ بیک وقت رہتی ہے۔ یہ تذکرہ پانڈوؤں کے قصے میں موجود ہے جسمیں ایک عورت ایک ساتھ پانچ شوہروں کے ساتھ رہتی تھی۔
لیکن تہذیب Monogomous فطرت کی ہے اسلئے اسکو قائم رکھنے کیلئے جہیز کی رسم ایجاد ہوئی، اور مرد کو ایک عورت کا پابند Committed رکھنے کیلئے زیادہ سے زیادہ جہیز دے کر اُسے Reserve محفوظ کرلیا جانے لگا۔
(Sudheer Brodkai, Hindu History)
اس لیے شودروں میں جوڑے جہیز کا رواج کم تھا لیکن آزادی کے بعد ایک طرف ذاتوں کی تقسیم کا زور کم ہوا تودوسری طرف جوڑا جہیز کی لعنت میں ہر ذات تیزی سے گرفتار ہوئی ۔ اب شودروں میں بھی لڑکے کی قابلیت کے مطابق قیمت لگائی جاتی ہے ۔ کم سے کم پلنگ ، بستر ، اسکوٹر وغیرہ تو لازمی ہوتا ہے ۔ چونکہ ویش کا روبار اور سماجی خدمت پر مامور تھے اس لیے پیسو ں کی ریل پیل ان کے ہاں زیادہ تھی وہ لڑکے کو بک Book کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرتے تھے ، دوسری ذاتوں کو یہ دیکھ کر منہ میں پانی کیوں نہ آتا ۔
مسلمانوں کے منہ میں بھی پانی آیا ۔ پہلے پلنگ ، بستر لازمی ہوا پھر رفتہ رفتہ ایک ا یک چیز بڑھتی گئی ۔ لوگ ریڈیو، سائیکل وغیرہ بھی مانگنے لگے ۔ بڑھتے بڑھے آج عالم یہ ہے کہ لاکھوں کا نقد اور سامان ہونے کے باوجود باراتیوں کو کسی نہ کسی چیز کی کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہ دلہے کی ماں بہنوں کے کانوں میں ضرور کچھ نہ کچھ کہہ جاتے ہیں۔۔
جہیز کا رواج بھگوان اِندر نے ڈالا
ہندو دیومالائی قصّوں میں بھگوان اِندر ، جو دوسرے تمام بھگوانوں کا بادشاہ کہلاتاہے۔ اس نے اس رسم کی ابتدا ِکی۔ اس نے اپنی بیٹی دیویانی کی شادی پر ہونے والے داماد سکند کو اپنا سب سے قیمتی سفید ہاتھی اور صندل پیسنے کا ایک بیش بہا پتھر جہیز میں دیا۔ ہاتھی سے جدا ہونے کا اِندر کو بہت ملال تھا۔ سکند نے اس ہاتھی کو واپس بھی کرنا چاہا لیکن اِندر نے لینے سے انکار کردیا۔ بعد میں وہ ہاتھی مرگیا۔ البتہ صندل پیسنے کا پتھر کہا جاتا ہیکہ مدراس شہر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع سری بالا سبرامنیم سوامی مندر میں موجود ہے۔اسکے بارے میں مشہور ہیکہ اس سے پیسا ہوا صندل لگانے سے ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے اسلئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں آج بھی صندل لگانے جاتے ہیں۔
جس گھر میں ڈولی جائے اس گھر سے ڈولا اٹھے
یہ بھی ہندو شاستروں کی تعلیم ہیکہ عورت کو پہلے دن سے ہی مرد کی مکمل لونڈی بنا دیاجائے۔ تاکہ عورت مرد کے ہر ظلم کو سہنے کی عادی ہوجائے۔ مرد چاہے جو بھی سلوک کرے، عورت مرنے کے بعد ہی وہاں سے نکلے۔ اور اگر مرد مرجائے توعورت مرد کی عزت کی خاطر ستی ہوجائے۔ اسلام اسکے برخلاف عورت کو یہ بھر پور آزادی دیتا ہیکہ اگر مرد اس پر ظلم کرے تو وہ کسی بھی وقت خلع حاصل کرسکتی ہے۔ اور اپنی زندگی پھر سے کسی اور کو شریکِ حیات بنا کر سنوار سکتی ہے۔ بلکہ اسلامی شریعت میں تو یہاں تک ہیکہ اگر مرد طلاق دینا چاہے تو اُسے وجہ بتانی لازمی ہے لیکن اگر عورت خلع لینا چاہے اور وجہ بتانے سے انکار کرے تو قاضی اُسے وجہ بتانے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ لیکن عورت کو یہ آزادی اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک جوڑا جہیز کی لعنت ختم نہیں ہوگی۔ مردوں نے جوڑے جہیز کی شکل میں عورت کو وہ سماجی زنجیریں پہنا دی ہیں کہ وہ آزادی کا مشکل سے ہی سوچ سکتی ہے۔ جہاں کنواری کو ہی بیاہنے کیلئے لاکھوں روپئے درکار ہوں وہاں کسی بیوہ یا مطلقہ کی شادی کا تصوّر بھی ناممکن ہے۔ اسلئے خلع کے حق سے وہ اسلئے دستبردار ہوجاتی ہیکہ پھر سے شادی پر کون اسکے لئے جوڑے جہیز کے اخراجات ادا کرے گا؟
ہَنڈا یا ہُنڈا کیا ہے؟
شمالی ہندوستان میں جوڑا جہیز کو ہَنڈا یا ہُنڈا بھی کہاجاتاہے۔ ہنڈا ایک گول گھڑے جیسے برتن کو کہتے ہیں۔ ہندوؤں میں زیور اور نقدی ہنڈے میں رکھ کر دی جاتی تھی۔ اسلئے جوڑا جہیز کو ہانڈا، ہنڈا یا ہُنڈا بھی کہا جاتاہے۔ اب طریقہ بدل چکا ہے۔ ہندوؤں میں شائد ہو تو ہو لیکن مسلمانوں میں اب نقدی جسے جوڑے کی رقم کہتے ہیں ہنڈے کی بجائے مخمل کی خوبصورت تھیلی میں رکھ کر پیش کیجاتی ہے۔
شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے ؟
چونکہ ہندو دھرم کا یہ عقیدہ ہیکہ
” جس گھر ڈولی جائے وہیں سے ڈولا اُٹھے “
اسلئے وہ شادی کے موقع پر جتنی دھوم دھام کرسکتے ہیں کر لیتے ہیں اس لیے کہ ان کے ہاں یہ مجبوری ہیکہ شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے۔ ان کے مذہب میں طلاق کی اجازت نہ مرد کو ہے نہ عورت کو۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے بھی یہی چلن اختیار کر لیا ہے۔ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسے موقعوں پر اسراف ہونے کے بہت امکانات ہوتے ہیں اور اسراف حرام ہے۔
جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
”شریف غصّے کے وقت اور رذیل خوشی کے وقت آزمایا جاتاہے۔“
ہندوستانی فلموں اور سیریل کے نتیجے میں ہندوستانی مسلمان تو برباد تھے ہی تھے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہندوستان سے کہیں زیادہ پاکستان میں ان فلموں اور سیریل کا اثر دیکھنے میں آتاہے۔ ایسی ایسی رسمیں ایجاد کرلی گئی ہیں کہ انہیں دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ کسی مسلمان کی شادی ہے۔ ان میں اسراف، لہو ولعب، عورتوں اور مردوں کی مخلوط شرکت و بے تکلفی، عورتوں میں مرکزمحفل نظر آنے کا جنون، یہ تمام چیزیں نہ صرف حرام ہیں بلکہ حدوداللہ کو پار کرنے والی ہیں۔ جب ان چیزوں سے انہیں منع کیا جائے تو یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ
”شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے س لیے جتنی خوشیاں پوری کرسکتے ہیں ، ضرور کریں گے“ ۔
استغفراللہ ۔ ۔
یہ عقیدہ یا مغالطہ بھی دراصل ہندو دھرم سے ہی مسلمانوں میں آیا ہے ۔ چونکہ ہندو دھرم کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے شاستروں کے مندرجہ ذیل احکامات پڑھئے ، آپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ شادی واقعی ایک بار ہی ہوسکتی ہے ، اگر ناکام ہوجائے توعورت اور مرد ساری زندگی دھرم اور معاشرے کو کوستے ہوئے گزار دیتے ہیں۔
» عورت کو ایک بار کوئی چھولے پھر وہ کسی کے لیے اتیت ( جائز ) نہیں سوائے برہمن کے۔ (یعنے وہ صرف برہمن کی دیو داسی یعنے رکھیل یا داشتہ بن کر رہے۔ اس کیلئے شادی حرام ہے )۔ اِسے چاہئے کہ وہ مرد کے ساتھ جل جاوے یا بھگوان کے چرنوں میں دیوداسی بن کر جیون گزاردے ۔(شیووید )
» اگر مرد مرجاوے تو اُس کی بیوہ سرمنڈھوائے ، رنگین کپڑا اور زیور نہ چھوئے۔ پریوار کے کمروں سے الگ ہٹ کر ایسی جگہ سوئے جو باہر کے دروازے کے قریب ہو ۔ (شیووید )
» خوشی کی تقریبات میں اس کا دلہا دلہن کے قریب منڈ لانا برا شگون ہے ۔ ایسی عورت کو دور رکھا جائے ۔ ( شیووید )
» یتیم لڑکی کے سر پر بھی برا شگون ہوتاہے ۔ ( شیووید )
» کنیا ( لڑکی ) کا ایک بار دان ہوجانے کے بعد جس گھر اس کی ڈولی جائے وہیں سے اس کا ڈولا اُٹھے ۔ ( شیووید )
یعنی مرد چاہے اس کی عمر کا دو گنا یا تین گنا ہو۔ چاہے شرابی ، چور ، بدمعاش ہو ، شراب پی کر اس کو روزانہ مارتا ہو۔ اُس عورت کو اُسی مرد کے ساتھ مرتے دم تک رہنا ہے اور اِسی میں اسکی مکتی یعنے نجات ہے۔ چاہے سسرال والے عورت کو نوکرانی کی مانند رکھیں اور ساس ، سسر ،نندیں مل کر چاہیں جتنا اُس پر ظلم کریں ، تہمتیں لگائیں ، عورت کا یہی فرض ہے کہ اس کو دھرم کا پالن کرتے ہوئے شوہر کو بھگوان سمجھ کر اُسی کے چرنوں میں رہنا اور مر جانا ہے ۔
آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ سوامی وی ویکانند جیسا شخص جسے ہندو دھرم کا بہت بڑا مفکر اور مصلح Reformer مانا جاتا ہے ، ساری زندگی بیواؤں کی شادی کا مخالف رہا ۔
ویدوں میں لفظ شادی کی جگہ ’ کنیا دان ‘ یعنی لڑکی کو خیرات کردینا ہے ۔ چونکہ دھرم میں بیٹی کی وراثت نہیں ہوتی اور نہ اُسے اپنے بیٹے یا شوہر سے وراثت ملتی ہے اس لیے اُسے باپ یا سرپرست جتنا ہوسکتا ہے شادی ہی کے موقع پر دے کر رخصت کردیتے ہیں تاکہ نہ وہ دوبارہ باپ کی کمائی کی حصے دار بنے ، نہ آکر بھائیوں کی زندگی میں بوجھ بنے ۔ اس لیے شیووید کا حکم ہے کہ جہاں اس کی ڈولی جائے وہیں سے اس کا ڈولا یعنی ارتھی اُٹھے ۔اور سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ شادی کیلئے عورت کی مرضی پوچھنے کی روایت نہیں تھی۔ مانباپ اُسے جہاں چاہیں بیاہ دیں اسکو اپنی مرضی بیان کرنے کا حق نہیں تھا۔
مرد کے لیے بھی ایسے ہی احکامات ملتے ہیں حتی کہ خود برہمن بھی اگر ایک عورت کے ہوتے ہوئے دوسری عورت سے شادی کرلے تو دوسری بیوی کو ’ رنڈی ‘ کہا جاتا ہے ۔ اگر اس سے کوئی اولاد جنم لے تو اس کو ناجائز اولاد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور قانوناً اس اولاد کا باپ کی وارثت میں کوئی حق نہیں۔ ایسی اولاد اگر برہمن سے ہوجاوے تو اُسے باپ کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں ، وہ ہری جن ( ہری یعنی بھگوان ، جن یعنی اولاد ) یعنی بھگوان کی اولاد ہے ، بھگوان اس کا باپ ہے اور اس کی جائے پناہ مندر ہے ۔ وہ مندر کی خدمت کرے اور پجاریوں کی سیوا کرے ۔یہی نہیں بلکہ دھرم شکشا (تعلیم)سے دور رہے۔ مورتیوں اور مقدس کتابوں کو ہاتھ نہ لگائے ، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اُس کی دوستی بھی معیوب ہے۔ وہ شودر کے برابر ہے اور سوائے شودر کے کسی اور ورن کی عورت یا مرد سے اس کو شادی کا حق نہیں ۔
1956ء میں ہندو پرسنل لا ایکٹ تبدیل کردیا گیا اور دھرم کی جو اصلی تعلیمات تھیں وہ ختم کردی گئیں ۔ قانون تو خیر بدلا جاسکتا ہے لیکن صدیوں سے چلی آرہی تعلیمات ذہنوں سے ختم ہونے میں بھی صدیاں لگتی ہیں ۔
آج ہندو ذہن میں جو دھرم کا پالن کرنے والے لوگ ہیں انہیں باتو ں کو حق سمجھتے ہیں جو اوپر بیان ہوئی ہے ۔ آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان تعلیمات کے مطابق کیا کسی مرد یا عورت کی دوبارہ شادی ممکن ہے ؟
کیا طلاق یا خلع کا تصور ممکن ہے ؟
مرد تو ہزار بہانے کر کے فرار حاصل کرلیتا ہے اور ادھر اُدھر چونچ مار ہی لیتا ہے لیکن عورت کو اگر اس کا شریک حیات اس کو سکون کی زندگی نہ دے سکے تو وہ ساری عمر ایک عذاب میں گزار تی ہے ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ وہ عورت طلاق یا خلع لے کر یا بیوہ ہو کر آئے تو دوبارہ اس کے بھائی یا باپ اسکی دوسری شادی پر اتنا ہی خرچ دوبارہ کرسکیں ؟
اس لیے وہ ایک ہی بار دل کھول کر خرچ کردیتے ہیں اور سارے رشتے داروں کو جمع کرڈالتے ہیں۔ بارات یقیناً اُن کے لیے زندگی کے ارمان پورے کرنے کا پہلا اور آخری ذریعہ ہے ۔
ہندو دھرم کی یہ تفصیلات یہ واضح کرتی ہیں کہ کس طرح مسلمانوں نے بھی انہی عقائد اور طور طریق کو اپنا لیا ہے۔


(ورژن-3 یا آگے)
(ورژن-7 یا آگے)
(ورژن-2 یا آگے)
(ورژن-8 یا آگے)
