جوڑا جہیز اور حلال کمائی کے درمیان تعلق

ایک طرف دشمنوں کے ہاتھوں مسجدیں ڈھادی جاتی ہیں، عصمتیں لوٹ لی جاتی ہیں اور معصوم نوجوانوں پر گولیاں چلادی جاتی ہیں ، دین و پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توہین کی جاتی ہے تو دوسری طرف خود مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ لوگ مایوس ہوکر پوچھتے ہیں کہ آخر جوشِ خداوندی غضب میں کیوں نہیں آتا جبکہ نہ نمازوں کی کمی ہے نہ حج و عمرہ کی۔ نہ روزے دار کم ہوئے ہیں نہ اصحابِ انفاق۔ پھر بھی رحمتِ خداوندی خاموش کیوں ہے؟ دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
آئیے ان سوالات کا جواب ان احادیث کی روشنی میں تلاش کریں۔

لا تظلموا فتدعوا فلا يستجاب لكم ، وتستسقوافلا تسقوا و تستنصروا فلا تنصروا
طبرانی بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ)
فرمایا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ”ظلم مت کرو ، ورنہ (تمہارا یہ حال ہوگا کہ ) دعائیں کروگے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہونگی، بارش کی دعائیں مانگوگے لیکن تم پر بارش نہیں برسے گی۔ مدد مانگو گے لیکن تمہاری مدد نہیں کی جائیگی۔

گزشتہ ابواب ”رشوت“ ، ”ھدیہ“ ، اور ”سحت“ میں یہ واضح ہوچکا ہیکہ مہر ادا نہ کرنا، جہیز اور نقدی کا لین دین بھی ایک ظلم ہے اور ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے کھانے کی تعریف میں داخل ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جسکی وجہ سے دعاوں کا قبول ہونا اور اللہ کی مدد کا آنا ناممکن ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کا انحصار حلال کمائی پرہے۔ سامانِ جہیز کی خریداری کی ذمّہ داری شریعت نے مرد پر لگائی تھی لیکن وہ اِسے لڑکی والوں سے حاصل کرکے بمعہ نقد رقم کے جو کچھ کمائی کرتا ہے وہ کمائی اسکی اپنی کمائی میں جمع ہوکر پوری زندگی کی کمائی اور بچت کو حرام میں تبدیل کردیتی ہے۔

اسکے بعد جیسے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
”جس شخص کی کمائی حلال نہ ہو اسکی دعائیں زمین سے ایک بالشت اوپر نہیں اُٹھائی جاتیں“۔
پھر کیسے ممکن ہے کہ لوگ نمازوں، روزوں ، زکوٰة و خیرات کے ساتھ کئی کئی عمرہ و حج کرنے کے باوجود ان کی دعائیں قبول ہوں؟
یہ حدیث ملاحظہ فرمایئے:
الرجل يطيل السفراء شعت اغبر يمديده الي السماء يا رب يا رب و مطعمه حرام و مشربه حرام و غذي بالحرام فاني يستجاب لها؟
صحیح مسلم
فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہ
” ایک شخص طویل سفر کرکے آتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود ہوکر آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر کہتاہے اے پروردگار، اے پروردگار؛ حالانکہ اس کا کھانا حرام ، اسکا پینا حرام، اسکی ساری غذا حرام، پھر بھلا اسکی دعائیں کیسے قبول ہوں گی؟ “ ۔

ایک ایسی ہی مشابہ حدیث کا مفہوم ہیکہ ایک بند ہ ایسا ہوتا ہے جو احرام باندھ کر حج کا قصد کرتا ہے اور لبیک لبیک کہتا ہوا ابھی سواری پر پاوں ہی رکھتا ہیکہ فرشتے جواب دیتے ہیں ”لییک و سعدیک “، یعنے تیرا آنا مبارک ہو تیرا حج قبول کرلیا گیا “ اور ایک ایسا شخص ہوتا ہے کہ ابھی سواری پر پاوں رکھ کر لبیک کہتا ہی ہیکہ فرشتے کہتے ہیں ” تیرا حج لوٹا دیا گیا تیری کمائی ، تیرا کھانا اور تیرا کپڑا حرام کمائی کا ہے“۔

جوڑا جہیز لینے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں

جنکے گھر بیٹے ہوتے ہیں وہ تو اپنے بیٹوں کی کمائی پر چار چار عمرے اور حج کرتے ہیں۔ اور جن کے گھر لڑکیاں ہوتی ہیں وہ یہ سب کچھ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ عمرہ اور حج کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ جوڑے اور جہیز کی آمدنیاں جب ان کی بچتوں میں شامل ہیں اور کئی تو ایسے ہیں جنہوں نے مہر کی رقم بھی آج تک ادا نہیں کی ہے تو تاوقتکہ وہ اس حرام کو نکال کر اپنی کمائی کو پاک نہ کریں نہ ان کا عمرہ قبول ہونے والا ہے اور نہ حج۔ یہ حدیث ملاحظہ فرمایئے۔
قال انس بن مالك ”ادع الله ان يجعلني مستجاب الدعوة“
فقال ”يا انس اطب كسبك، تجب دعوتك فانّ الرجل ليرفع اللقمه من الحرام الي فيه فلا يستجاب له دعوة اربعين يوماً
ترمذي

حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ :
انہوں نے ایک بار حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عرض کیا ”اللہ سے دعا کیجیئے کہ میں مستجاب الدعوات بن جاوں“ (یعنے میں وہ بن جاوں جسکی دعائیں قبول ہوجاتی ہیں) ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
” انس ! اپنی کمائی حلال رکھو۔ تمہاری دعائیں قبول ہونگی۔ کیونکہ جب کوئی آدمی حرام کا لقمہ اپنے ہاتھ میں اٹھاتا ہے تواس کی چالیس دن کی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں “۔

صاحبو ، غور کیجیئے۔یہاں تو صرف ایک لقمے کی بات ہورہی ہے جس کو وجہ سے چالیس دن کی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں۔ اگر سارے لقمے ہی ناجائز ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں تو؟۔اور یہ بھی غور کرنے کی بات ہیکہ اگر ان چالیس دنوں میں و ہ مرجائے اور ہوسکتا ہے وہ نمازوں ، روزوں اور زکوٰة و خیرات کے پہاڑ لے کر قیامت میں حاضر ہو۔ کیا یہ نیکیاں کسی کام آسکیں گی؟ وہاں وسیلوں اور سفارشوں کی امید پر آنے والے یہ غور کریں کہ شاہِ وسیلہ احمد مجتبیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا فرمادیا ہے۔

اسلاف کا حلال کمائی کے بارے میں احتیاط کا عالم

اگر ہم اسلاف کی سیرتوں پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہیکہ وہ حلال کمائی کے بارے میں کس قدر احتیاط برتتے تھے۔
حضرت ابو حنیفہ (رحمة اللہ علیہ) کے بارے میں ایک واقعہ تاریخ میں ملتا ہیکہ وہ کپڑوں کی تجارت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہیں کہیں کسی کام سے جانا تھا۔ جاتے ہوئے ہوئے انہوں نے اپنے ساجھی سے کہا کہ فلاں تھان میں ایک چیر پڑی ہوئی ہے اگر کوئی اسے خریدے تو پہلے یہ عیب اُسے ضرور بتادینا۔ جب واپس آئے تو معلوم ہوا کہ وہ تھان فروخت ہوچکی ہے لیکن ساجھی نے بتایا کہ وہ خریدار کو تھان کا عیب بتانا بھول گیا۔ ابو حنیفہ (رحمة اللہ علیہ) نے اس دن کا پورا غلّہ خیرات کردیا۔ سبحان اللہ ۔ یہ تھا ان کی احتیاط کا عالم۔ وہ چاہتے تو صرف اس تھان کی قیمت نکال کر باقی رقم رکھ سکتے تھے۔ لیکن صرف اس خیال سے کہ اس تھان کے روپیئے باقی روپیوں میں مل چکے ہیں اسلئے اس دن کے پورے روپیوں کو آپ نے ہاتھ لگانے سے کراہیت برتی۔ اگر وہ صرف تھان کے پیسے خیرات کر دیتے تو یہ فتوٰی ہوتا۔ اور جو کچھ آپ نے کیا وہ تقوٰی تھا۔۔
( اہلِ مناقب، شیخ احمد بن حجر قاضی محکمہ شرعیہ قطر، صفحہ 393 )

تقویٰ کا لقویٰ

ہمیں حیرت ان اہلِ تقوٰی پر ہوتی ہے جو بنک اور انشورنس پر ناک بھنوں چڑھاتے ہیں۔ کوئی صاحب فوٹو اسٹوڈیو والوں کے گھر کھانا نہیں کھاتے کہ ان کی آمدنی جائز نہیں۔ اور کوئی صاحب پولیس والوں اوران سرکاری افسروں کے گھر رشتہ جائز نہیں سمجھتے جہاں اوپر کی آمدنی آتی ہو۔ ایک صاحب نے ایک فتویٰ لاکر دکھایا کہ داڑھی مونڈھنے والے حجّام کی آمدنی بھی ناجائز ہے۔ ایک صاحب تو ایسے ملے جنکے نزدیک اُس گھر کا کھانا بھی جائز نہیں جس گھر میں کمانے والا مرد موجود ہوتے ہوئے عورت نوکری کرتی ہو۔
سچّے مسلمان کی ایک نشانی یہ بھی ہیکہ جس گھر جائے وہاں کھانے پینے سے پیشتر اُس گھر کی آمدنی کے بارے میں ضرور معلومات حاصل کرلے۔ ایسے لوگوں کی واقعی قدر کی جانی چاہئے۔ لیکن جب ہم ایسے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والوں کے گھروں کی شادیاں دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہیکہ وہ چاہے معمولی جہیز ہی کیوں نہ ہو لیتے وقت اُن کے ذہن میں یہ سوال کیوں نہیں آتا کہ کیا یہ مال جائز ہے؟ ہو سکتا ہے کئی دوسرے فقہی مسائل کیطرح وہ جوڑا جہیز کو بھی ایک اختلافی مسئلہ ہی سمجھتے ہوں۔ تب بھی یہ تو ثابت ہیکہ یہ مال صد فیصد حلال قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیا وہ حدیث اِنہیں یاد نہیں آتی کہ ایمان کی نشانی یہ ہیکہ جس چیز سے دل میں کھٹکا پیدا ہو اُس چیز سے رُک جانا چاہئے۔ شائد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو دوسرے لیتے ہیں وہ سراسر غلط ہے لیکن جو یہ لے رہے ہیں وہ غلط کی تعریف میں نہیں آتا۔ بخدا ہویٰ و ہوس نے ان کی آنکھوں، کانوں اور سوچوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ وہ ہر قیمت اپنے کئے پر کوئی نہ کوئی جواز پیدا کرکے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنکے بارے میں اللہ ربّ العزّت نے خبردار کیا ہیکہ :
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلاً // الفرقان:27
ترجمہ: اُس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹے گا (اور افسوس سے) کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ (دین کا راستہ ) اختیار کرتا۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں