یہ لعنت ہند و پاک کے ہر علاقے میں موجود ہے

بعض لوگ طنزیہ یہ کہتے ہیں کہ یہ لعنت صرف حیدرآباد دکن میں ہے اور بعض کہتے ہیں یہ تو بہار اور یوپی میں ہے۔ کوئی کہتا ہے ہمارے پنجاب میں تو یہ ہوتی ہی نہیں ہے اور کوئی کہتا ہے یہ توکراچی کے مہاجروں میں ہے ۔
تو پھر صحیح کیا ہے ؟
یہ دراصل لوگوں کی غلط فہمی اور اصل مسئلے سے ناواقفیت ہے ۔ کم ازکم ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش میں یہ لعنت 95 فیصد لوگوں میں موجود ہے ۔ شکلیں بدلی ہوئی ہیں ، کہیں جوڑا ، جہیز، تلک کے نام پر، کہیں معیاری شادی کے نام پر، کہیں خوشی سے جو چاہے دینے کے نام پر ، اور کہیں جہیز نہیں مانگا جاتا لیکن فائیو اسٹار ہوٹل میں فنکشن کی خواہش کی جاتی ہے۔
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جہیز صرف وہ ہوتاہے جو لڑکے والوں کی طرف سے مانگنے پر دیا جاتا ہے۔ جو چیز رواج کے مطابق ہر مانباپ کرنے پر مجبور ہیں لوگ اسکو جہیز ہی نہیں سمجھتے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کے علاقے یا ان کی جماعت یا برادری میں جہیز کے لعنت نہیں ہے وہ حضرات یہ بتائیں کہ کیا پلنگ ، بستر، فرنیچر، کچھ سازوسامان، منگنی یا شادی کے دن مہمانوں کو کھانا وغیرہ، انہیں دینا پڑتا ہے یا نہیں؟ یہی تو وہ چیزیں ہیں جنکو اسلام ختم کرنے کا حکم دیتاہے۔ یہ ہر گاوں اور ہر دیہات میں پائی جانے والی رسمیں ہیں۔

باہر سے آنے والے Expatriates زیادہ حریص

سعودی عرب، دوبئی وغیرہ سے آنے والے تو یہ حرکتیں کرتے ہی تھے لیکن ہم یہ سمجھتے تھے کہ لوگ امریکہ یا لندن جاکرتعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہوجاتے ہیں اور جوڑا جہیز جیسی لعنتوں سے بھی دور ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوجاتی ہے جب ہم گرین کارڈ ہولڈر لڑکے لڑکیوں کے ضرورت ِ رشتہ کے اشتہار دیکھتے ہیں اور جب ان کی شادیوں کے تعلق سے معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہیکہ ہر جاہلانہ بات پر اپنے وطن کو حقارت سے دیکھنے والے یہ خود ساختہ انگریز جو اپنے رویّے میں انتہائی Sophisticated, logical, educated ہوتے ہیں، شادی بیاہ کے معاملے ان کی سوچ وہی کراچی کے لالو کھیت یا حیدرآباد کے پرانے شہر والوں سے مختلف نہیں ہوتی۔ جہیز، جوڑا، وغیرہ کے جائز یا ناجائز ہونے کے معاملے میں ان کا رویّہ وہی ہوتا ہے جو بنی اسرائیل کا تھایعنے :
”ہم تو اسی چیز کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا“۔ (سورہ بقرہ)۔

حقیقت تو یہ ہیکہ خلیج ہو کہ امریکہ، انہی باہر والوں نے شادی کے نظام کو تباہ کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ایک طرف یہ اتنے بے نیاز اور خود دار بننے کی ایکٹنگ کرنے لگے گویا انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اور صرف معیاری شادی، صرف اچھی دعوتِ طعام کی شرط کے ساتھ شادیاں کرنے لگے جبکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے منع کرنے کی ایکٹنگ کرنے کے باوجود انہیں بہت کچھ دیا جائیگا۔ اسکے مجرم تنہا لڑکے نہیں ہیں۔ وہ باہر والے بھی جو لڑکیوں کے باپ ہیں وہ بھی کوئی کم مجرم نہیں۔ انہوں نے ضرورت سے زیادہ خرچ کرکے ملک کے اندر رہنے والے لڑکوں اور ان کے گھر والوں کی نیتیں خراب کی ہیں۔ اسلئے اب لڑکے اقامہ ہولڈر اور گرین کارڈ ہولڈر لڑکیوں پر زیادہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔

کچّی، میمن، کوکن، مہدوی، ہندستانی، حضرمی، آغاخانی وغیرہ

ایسی کئی برادریاں اور قبائل ہیں جنکے سماجی طور طریقے عام مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا ہیکہ ان کے ہاں جوڑے جہیز کی لعنت بالکل نہیں پائی جاتی۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں ان کے ہاں لڑکی والوں کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے وہ جو چاہے خوشی سے دیں۔ یہ جھوٹ اور خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے۔ ”خوشی سے لینا دینا “ کیا ہے اس کی تفصیلات جو پیش کی جاچکی ہیں ان کی روشنی میں اگر کوئی برادری یہ کہتی ہیکہ جوڑا جہیز دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے لیکن ان کے ہاں نہیں تو یہ فرار کا فلسفہ ہے۔ اس ہٹ دھرمی کا سبب شائد یہ ہیکہ جب تک ان کی اپنی کمیونٹی یا برادری کا اپنا عالم یا لیڈر کھڑا ہوکر یہ نہ کہے کہ یہ جو کچھ ”خوشی سے “ لینے دینے کا رواج ہے چاہے وہ ایک ہزار روپیئے کا مال یا نقد کیوں نہ ہو، حرام ہے، یہ لوگ ہرگز ماننے والے نہیں۔
فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

جہیز پاکستان میں

پاکستان میں اسکی بڑھتی ہوئی لعنت کیلئے سینیٹر آسیہ اعظم کا نیشنل اسمبلی سے خطاب غور کرنے کے قابل ہے۔ محترمہ جوعورتوں کی کئی فلاحی تنظیموں سے وابستہ ہیں، کہتی ہیں کہ یہ لعنت کراچی ، لاہور اور میں سب سے زیادہ ہے۔ کراچی میں فلیٹ، سونا اور دوسری چیزیں، لاہور میں نوٹوں کے ہار اور دوسرے علاقوں میں سامانِ ضرورت و بلا ضرورت کی رسمیں ہیں۔ وڈیروں میں عورت پر یہ ظلم ہیکہ اسکو وراثت دینے کی صورت میں جائداد کا بٹوارہ ہوجانے کے خوف سے اسکی شادی قرآن سے کردی جاتی ہے۔ وہ عمر بھر تنہا گزار دیتی ہے۔ کئی لڑکیوں کی شادی خاندان کے کم سِن لڑکوں سے کردی جاتی ہے تاکہ وراثت خاندان کے باہر نہ جائے۔
4th April, 2003, The Nation, Karachi

پاکستان میں جہیز، نقدی یا فلیٹ وغیرہ اور اسکے ساتھ ساتھ شادی کے دن کے کھانے کی لعنت اس قدر عروج پر ہیکہ ہندوؤں کی شادی اس کے سامنے ماند پڑجاتی ہے۔ کوئی پاکستان شائد ہی ایسا ملے جو شادیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا نہ ہو اسکے باوجود وہ یہ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ لعنت انڈیا میں ہی ہے۔
بنگلہ دیش، کیرالا وغیرہ میں صورتِ حال یہ ہیکہ ایک معمولی چپراسی کیوں نہ ہو کم سے کم دو لاکھ روپئے نقد اور پور سامانِ جہیز وصول کرتا ہے۔ جتنی محنت سے یہ لوگ کماتے ہیں اپنی پوری کمائی صرف ا ستری دھن اور شادی کے اخراجات پر لٹا دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں غربت جتنی زیادہ ہے، عورتوں کی کمائی کھانے کا رجحان بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *