فرار کے فلسفے

Philosophy Of Escapism

کوئی تو وجہ ہے کہ ایک طرف شریعت سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم ہیکہ فروعی اختلافات پر ایک دوسرے سے نہ صرف بحث ، حجّت و تکرار بلکہ تکفیر اور بائیکاٹ تک کرسکتے ہیں بلکہ اپنی جماعت اور اپنا امام حتیٰ کہ مسجد تک الگ کرڈالتے ہیں تو دوسری طرف کئی احکام بشمول جوڑا جہیز جنکا تعلق راست حلال و حرام سے ہے۔ جن کے تعلق سے قرآن و حدیث میں واضح احکامات موجود ہیں ان کو فروعی مسائل سے بھی کمتر کا درجہ دے کر فرار اختیار کرتے ہیں۔
ہالینڈ میں کوئی پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصویر بناتا ہے یا کوئی ناول لکھ کر توہینِ رسالت کرتا ہے توجلسوں اور جلوسوں کے ذریعے جہاد کا اعلان کرڈالتے ہیں تو دوسری طرف خود اپنے گھر میں اپنے عمل سے دانستہ طور پر پیغمبرِاسلام کی اصل تعلیمات کو روند ڈالتے ہیں۔
ایک طرف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے فقہی مسائل پر مبنی سوالات و جوابات پڑھیئے تو پتہ چلے گا کہ لوگ کس قدر دین سے محبت کرتے ہیں کہ معمولی سے معمولی بات بھی مفتی یا عالم صاحب سے پوچھے بغیر نہیں کرتے لیکن دوسری طرف وہ احکامات جنکا تعلق مفتی سے کم اور ضمیر سے زیادہ ہے جیسے رشوت، اسراف، جھوٹ، بد دیانتی، خیانت، عہدشکنی وغیرہ۔ ان معاملات میں ایسے ایسے جواز از خود پیدا کرلیتے ہیں کہ مفتی اور عالم بھی ان کا منہ دیکھتے رہ جائیں۔

ایک صاحب جو متشرّع ہیں داڑھی کو قینچی لگانے کے سخت خلاف ہیں صاحبِ جائداد ہیں کسی سے لی ہوئی رقم حسبِ وعدہ ادا کرنا نہیں چاہتے جب انہیں کہا جائے کہ جائداد گروی رکھ کر بنک سے یا کسی سے قرض لے کر اپنا عہد پورا کریں تو کہتے ہیں
” سود کا کاروبار کرنے والے اللہ سے جنگ کرنے والے ہیں ہم اِس گناہ میں نہیں پڑنا چاہتے“
انہیں نہ یہ فکر ہوتی ہے کہ عہد کی خلاف ورزی کرنے والا ایمان سے خارج ہوجاتا ہے (لا ایمان لہ لمن لا عہد لہ ) اور نہ انہیں اسکی پروا ہوتی ہیکہ قرض دینے والا کن مشکلات سے گزر رہا ہے۔
سعودی عرب میں ہم نے دیکھا کہ کئی لوگ جب آفس میں ہوتے ہیں تو اذان کے ساتھ ہی کام چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ صرف نماز ہی نہیں بلکہ طہارت اور وضو بھی مکمل خشوع و خضوع سے کرتے ہیں۔ لیکن جب گھر پر یا دوستوں کے بیچ ہوتے ہیں تو اُنہیں نہ نماز یاد رہتی ہے نہ وضو۔ کئی حضرات تو رات رات بھر عمرہ ، طواف یا زیارتِ مدینہ میں وقت گزارتے ہیں لیکن فجر سے پہلے آ کر سوجاتے ہیں جبکہ ایک فرض نماز ہزار نفل عبادات پر بھی مقدم ہے۔

ان مثالوں کا حاصل یہ ہیکہ لوگوں کے نزدیک اسلام یا شریعت وہ ہے جو ان کے مزاج اور موڈ کے مطابق ہو۔ جو چیز ان کے مزاج یا سہولت کے خلاف ہوتی ہے اُسکے ثبوت میں یہ کوئی دلیل ماننے تیار نہیں ہوتے۔جہیز کا لین دین اسکی سب سے بڑی مثال ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ معاشرے کی بدترین برائی ہے لیکن کوئی تو وجہ ہیکہ لوگوں نے اِسے گوارا کررکھا ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں حکمِ شرعی سے فرار کا وہ کیا جواز یا فلسفہ ہے جسکی بنیاد پر لوگوں نے اِس حرام کو حلال کرلیا ہے۔

فرار کے چھ فلسفے بہت معروف ہیں۔

1۔ قرآن و حدیث میں جوڑا یا جہیز کا نام لے کر کہاں منع کیا گیا ہے؟
2۔ جہیزِ فاطمی یعنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی تو حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو جہیز دیا تھا
3۔ ”خوشی “ سے دینے یا ”خوشی“ سے دیا ہوا لینے میں برائی کیا ہے؟
4۔ اگر نہ لیں تو لڑکی والے شک میں پڑ جاتے ہیں۔
5۔ کہنے والے کا کس جماعت ، کس عقیدے اور کس سلسلے سے تعلق ہے؟
6۔ یہ تو اکثریت کر رہی ہے۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں