ہزار بار حکیموں نے اسکو سلجھایا
مگر یہ مسئلہِ زن رہا وہیں کا وہیں
اکثر مرد حضرات یہ کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کے خلاف ہیں لیکن ماں اور بہنوں کی وجہ سے مجبور ہیں ۔
جی ہاں ! یہ صحیح ہے ۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عورت ہی دراصل عورت کی دشمن ہے ۔ ایک عورت اچھی طرح جانتی ہے کہ خود اس کی شادی پر اس کے گھر کے مالی حالات کس قدر بگڑے ، ماں باپ نے کیا کیا قربانیاں دے کر اس کے لیے پیسہ جمع کیا ؟ وہ پیسہ بچ رہتا تو ماں باپ اور بھائیوں کے کام آتا ۔ مانباپ بڑھاپے میں بہووں کے محتاج نہ ہوتے ۔ بھائی کوئی کاروبار کرتے اور نوکریوں کی غلامی سے بچتے۔ بھائیوں نے جو پیسہ محنت سے کمایا اور ان بہنوں کی شادیوں پر خرچ کردیا وہ اُن کے بچوں کی امانت تھی ۔لیکن یہی عورت بجائے اپنے شوہر کے خاندان سے بدلہ لینے کے کسی اور بیٹی کے باپ سے بدلہ لیتی ہے ۔
ایک عورت ہونے کے ناطے اُس میں یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے تھا کہ وہ کسی دوسری آنے والی عورت کو مرد کے اس ظلم سے بچائے ۔ بجائے اس کے وہ خود آگے بڑھ کر مرد کوظلم کی ترغیب دیتی ہیں ۔ اور کوشش یہ کرتی ہیں کہ اپنی بیٹیوں کی شادی پر جتنا خسارہ ہوا ہے وہ پورا کا پورا بیٹے کی شادی پر وصول ہوجائے ۔اگر کوئی چیز جہیز میں کم آجائے تو طعنوں کا سلسلہ شروع کردیتی ہیں ۔ مٹی کا تیل چھڑک کر جلا کر مارنے والی کوئی اور نہیں یہی عورتیں ہوتی ہیں ۔
جیسے جیسے ان کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ، یہ جوڑے جہیز پر تبصرے کی ماہر Expert Commentator بنتی جاتی ہیں۔ ایمان اور آخرت کے موضوعات سے انہیں اتنی دلچسپی نہیں ہوتی جتنی اس لین دین کے موضوعات سے۔ جس شادی میں جائیں گی ہر چیز کو نوٹ کریں گی پھر ہر ملنے والے کے سامنے کبھی Ball to Ball Commentary کی طرح پیش کریں گی یا پھر Highlights تو ضرور پیش کریں گی ۔ یہ معاشرے کے چلتے پھرتے بی بی سی اور سی این این ہیں۔ اگرکسی دلہن کا جہیز ان کی نظر کو نہ بھائے تو اس دلہن کا اور اس دلہن کے گھر والوں کا امیج اتنا بگاڑ دیں گی کہ دولہا دلہن کے دلوں میں بجائے محبت کے پہلے دن سے ہی ایک کانٹا چبھ جائے گا ۔ حقیقت میں یہ بزرگ خواتین کا خوف بلکہ دہشت ہے جو لڑکی والوں کو مجبور کرتا ہے کہ اپنی استطاعت سے زیادہ سے زیادہ دیں تاکہ ان عورتوں کی زبان بند رہے ۔
Female Dominated Society عورتوں کا محکوم معاشرہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہیکہ
”تیرے لیئے زمین کا پیٹ اسکی پیٹھ سے بہتر ہے اگر تیرے معاملات عورت کے ہاتھ میں رہیں۔ “
یعنی ایسے مرد کیلئے زمین کے اوپر چلنے سے بہتر ہے کہ وہ زمین کے اندر دفن ہوجائے۔
کہا تو یہ جاتا ہے کہ ہماری سوسائٹی مردوں کی Male Dominated سوسائٹی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی پر مکمل عورتوں کا غلبہ ہے ۔ یہ Female Dominated سوسائٹی ہے۔ گھر کے معاملات عام طور پر عورتوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مرد صدر جمہوریہ کی طرح ہوتا ہے۔ عربوں ، امریکنوں یا یورپین کی سوسائٹی کو مکمل مردوں کی سوسائٹی male dominated society کہا جاسکتا ہے۔ وہاں عورت مرد سے تعاون نہ کرے تو اس سے فوری الگ ہوجاتے ہیں۔ جسکے نقصانات کا ایک الگ موضوع ہے۔
ہندوستان پاکستان میں صورتِ حال یہ ہیکہ مرد گاڑی کا ڈرائیور ہے۔ ایسا ڈرائیور جسکے ہاتھ میں صرف اسٹیرنگ ہوتا ہے۔ گیر ، بریک Gears, breaks, accelerator پر عورت اپنا حکم چلاتی ہے۔ سمت Direction بھی وہی بتاتی رہتی ہے۔ بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی شوہر کوپیسہ ، گھر ، فلیٹ وغیرہ جمع کرنے کے کام پر لگادیتی ہیں ۔ فضول رسموں کو پورا کرنے کے لیے شوہر سے بحث و تکرار کرنی پڑے تو ضرور کرتی ہیں اور جیت کر رہتی ہیں ۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ نماز روزے وغیرہ میں تو عورتیں مردوں سے زیادہ خوفِ خدا رکھتی ہیں لیکن جہاں دین کے اساسی Basic اصول جو عورت کے مزاج سے ٹکراتے ہیں ، انہیں خاطر میں نہیں لاتیں۔ شریعت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور مرد حضرات منہ لٹکائے رہ جاتے ہیں ۔ خوشی کے مواقع ہوں کہ غم کے۔ بچوں کی پیدائش کی تقریبات ہوں کہ انتقال، چہلم ، برسی کے مواقع، دیگر بدعتی تقریبات ہوں کہ تفریحات۔۔۔دیکھا یہ گیا ہیکہ مردوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی خرچ کرنا پڑتا ہے صرف اسلئے کہ نظام اور فیصلے عورت کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
محمد اقبال کیلانی مکتبہ سلفیہ نے ’ نکاح کے مسائل ‘ میں دو اہم احادیث نقل کی ہیں ۔
1) بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورت کی وجہ سے پیدا ہوا ۔
2) میرے بعد مردوں کے لیے عورت سے بڑا فتنہ کوئی اور نہ ہوگا ۔
جوڑے جہیز کی لعنت لڑکے کی ماں بہنوں سے زیادہ خود لڑکی کے ماں اور بہنوں کی پروردہ promoted ہے ۔ ہر لڑکے کے گھر والے جہیز کے طالب ہوں ایسا نہیں ہے لیکن سو فیصد بیٹی کی ماوں میں یا تو خوف ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کو نشانہ ملامت بنایا جائے گا یا پھر شان اور دکھاوے کا جذبہ ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کا بھرم رہے۔
اس لیے لڑکوں کی مائیں ’ جو آ رہا ہے آنے دو ‘ کے اصول پر چل کر وصول کرتی ہیں ۔ ہر دو طرف کے مرد بیویوں کی مرضی پر خوش رہتے ہیں ۔
لڑکیوں کا قتل Foeticide, infanticide
ہر سال لڑکیوں کا پیدائش سے قبل ہی قتل کردیا جانا ہندوستان میں عام بات ہے۔ دوسری طرف جہیز ہراسانی کے نتیجے میں بہووٴں کا جلادیا جانا، یا بہووٴں کا خودکشی کرلینا، بھاگ کھڑا ہونا یا پھر کورٹ کچہری پر مجبور ہونا یہ بھی عام طور ہونے والے واقعات ہیں۔ اس جرم کے پسِ پردہ وہ ساسیں اور نندیں ہوتی ہیں جو بہو کا جینا حرام کرڈالتی ہیں۔ یا پھر وہ مائیں خود جو نہیں چاہتیں کہ لڑکیاں پیدا ہوں اور آمدنی پر بوجھ بنیں۔
شہروں میں ایسے بے شمار میٹرنیٹی ہوم ہیں جہاں رات گئے اسقاطِ حمل Abortions کر دیئے جاتے ہیں۔ گاؤں اور دیہاتوں میں ایسے رواج ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگرچیکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لڑکیوں کی پیدائش اور ان کی پرورش اور تربیت پر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی بشارت دی ہے۔ لیکن مسلمانوں کا معاشرہ کیا آج اس قابل ہیکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اس خوشخبری کی تعبیر پیش کرسکے؟ کیا کوئی ہندو عورت ایسی ہے جو اپنے پڑوس کی مسلمان عورت کو دیکھ کر یہ کہہ سکے کہ مسلمان لڑکی مانباپ پر واقعی کوئی بوجھ نہیں ہوتی؟ ایک مسلمان کو اپنی بیٹی کے جہیز کیلئے ساری عمر اسطرح فکرمند نہیں رہنا پڑتا جسطرح ایک ہندو کو رہنا پڑتاہے۔حقیقت تو ہیکہ مسلمان عورتیں لڑکیوں کی تربیت اور شادی ہندو سماج سے سیکھ سیکھ کر پور ا کا پورا دوہراتی ہیں، فرق صرف اتنا ہوتا ہیکہ ہندو دلہن پھیرے لے کر رخصت ہوتی ہے اور مسلمان لڑکی کے سر پر قرآن رکھ کر اسکو نیچے سے گزارا جاتا ہے۔
عورت اپنا ماضی کیوں بھول جاتی ہے؟
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردانِ خردمند
لڑکی دیکھنے جانا عورتوں کا محبوب مشغلہ ہوتاہے۔ اگر لڑکی پسند نہ آئے تو واپس آکر اسکا اور اسکے گھر والوں کا یہ جسطرح مذاق اڑاتی ہیں،یہ نہیں سوچتیں کہ لڑکی اور اسکے گھر والوں کے دل پر کیا گزرے گی جب انہیں ان باتوں کا علم ہوگا۔ لڑکیاں بے چاری بار بار کی اس رو نمائی سے ذلت محسوس کرتی ہیں اور دل ہی دل میں بد دعائیں دیتی ہیں کہ ان لڑکے والوں نے عورت کو ایک بھینس یا گائے کا درجہ دے دیا ہے جسے جو گاہک جب چاہے آئے ، دیکھے اور چلاجائے۔ لیکن ۔۔۔ حیرت اُس وقت ہوتی ہے جب یہی لڑکی ایک بہن یا ماں کی حیثیت میں بہو دیکھنے جاتی ہے تو اسکو وہ وقت یاد نہیں رہتا جب دوسرے کبھی اسکا بھی اسکے رنگ ، چال، زبان یا خاندان پرمذاق اڑاتے تھے۔ جو کچھ اس پر گزری تھی وہ بالکل فراموش کردیتی ہے اور بے حِس ہوجاتی ہے۔واپس آکر وہ بھی اسیطرح مذاق اڑاتی ہے جیسے کبھی اسکا اڑایا گیا تھا۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ جس وقت اسے ذلیل کیا گیا تھا اس وقت یہ عزم کرتی کہ جب اسکی باری آئیگی تو وہ کسی دوسری لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ ۔


(ورژن-3 یا آگے)
(ورژن-7 یا آگے)
(ورژن-2 یا آگے)
(ورژن-8 یا آگے)

اسلام علیکم،
امید ہیکہ آپ اس پر بھی تحقیقی نظر دالینگے جب عورت نپھلی بار ماں بنتی ہیں تو یہ رواج عام ہیکہ عورت اپنے میکہ چلی جاتی اور پھر دلیوری کہ تمام اخراجات اسکے ماں باپ کو اٹھانہ پڑتا ہیں۔اسکے بعد پھر چھٹّی وغیرہ ان رسومات و رواجوں پر بھی نظر دالیں مہربانی ہوگی