غریب لڑکیوں کی شادیاں کروانے والی انجمنوں کا رول

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتاہے
گلیمِ بوذر(رض) و دلقِ اویس(رض) و چادرِ زہرا(رض)

اکثر اخبارات میں یہ خبریں معہ تصاویر نظر سے گذرتی ہیں کہ مختلف تنظیموں کی مدد سے پچیس پچاس جوڑوں کی شادیاں منعقد ہوئیں۔ ہر دلہے کے جہیز میں فلاں فلاں چیز دی گئی ۔ تصویر میں دلہوں کے ہجوم کے درمیان منتظمین Organisers اور شہر کی ایک دو اہم شخصیتیں بھی ہوتی ہیں ۔
یہ بات قابل تعریف ہے کہ کسی نے تو غریب لڑکیوں کے بارے میں سوچا۔لیکن جہاں تک ان غریب لڑکیوں کی خدمت کے طریقہ کار کا تعلق ہے یہ غلط ہے ۔ اسلام جس جوڑے جہیز ہی کے نظام کو حرام قرار دیتا ہے بجائے اُسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اس کو قائم رکھنے کے لیے چندہ جمع کرنا ، نہ شرعی طور پر مستحسن ہے نہ اخلاقی طور پر ۔ چندہ ضرور جمع کیجئے لیکن اس سے علماء اور اچھے مقررین کو بلا کر ان نوجوانوں کی ذہن سازی کیجئے کہ جو جہیز انہیں سسرال کی طرف سے ملے یا انجمنِ خدمت خلق کی طرف سے ملے وہ ان کے لیے جائز نہیں وہ ایک بھیک ہے۔ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کل ان کی اولاد یہ کہے کہ ہمارا باپ اتنا خود دار نہیں تھا کہ خود اپنی محنت کے بل بوتے پر شادی کر کے ہمیں پیدا کرتا ، اس لیے اس نے ہماری ماں سے شادی کر کے انجمنوں کے چندوں سے جمع کیا ہواجہیز لیا ۔
یہی تو وہ موقع ہے کہ دنیا کو دکھایا جائے اور بالخصوص آریہ سماج جیسی تنظیموں کو جو پانچ روپئے میں مندر میں شادی کروا کر دھرم کا پرچار کر رہی ہیں ، ان کو یہ دکھائیں کہ اسلام میں شادی کا معاملہ غریب کیلئے بھی اتنا ہی آسان ہے جتنا ایک امیر کیلئے۔ صرف ایک ولی اور دو گواہ کافی ہیں ۔ مرد اپنی استطاعت کے مطابق مہر دے اور پہلے ہی اپنی ہونے والی بیوی کو اپنی گھریلو حالت بتا دے پھر وہ اگر راضی ہو تو شادی کرے ورنہ نہیں ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ اس کے لیے آپ پلنگ ، الماری ، آٹو یا ٹھیلے کا انتظام کریں تو وہ شادی کریں گے ؟ اگر آپ یہ انتظام نہیں کریں گے تو کیا وہ شادی ہی نہیں کریں گے ؟
امیر خلیجی حکومتیں مردوں کو چندے دے کر ایک غلط رسم کو مٹانے کے بجائے مضبوط کرتی ہیں اور یہاں یہ انجمنیں بھی چندے لے کرعورتوں کو دے کر ایک غلط رسم کو مضبوط کرتی ہیں ۔

کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کوئی ایسی انجمن قائم کی تھی؟

اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کسی موقع پر بدر یا احد کے یتیموں کی شادی کے لیے کوئی انجمن قائم کی ہوتی ، کسی غریب نوجوان کے مہر اور جہیز کے لیے کوئی اپیل کی ہوتی تو آج کوئی جواز ہوتا ۔ خدمت خلق اور انفاق فی سبیل اللہ کے یہ نت نئے بدعتی طریقے امت کو بجائے فائدہ دینے کے الٹا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
جو نوجوان ایسے کام کے لیے اٹھے ہیں ان کی محنت اور حوصلے اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک بہترین انعام ہیں ۔ اسی محنت اور حوصلے کو ایک دوسرے مشن کی طرف موڑ دیں یعنی غریب لڑکوں کی ذہن سازی کا کام شروع کردیں تو امت کے حق میں ایک عظیم خدمت ہوگی ۔ سعودیوں میں پہلے ایک بہت اچھا رواج تھا کہ وہ نوجوانوں کو جو استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کی پوشیدہ طریقے سے مدد کرکے انہیں مہر اور جہیز اور ولیمے کیلئے رقم دیا کرتے تھے۔ یہی رواج ہندوستان پاکستان میں پھیلانے کی ضرورت ہیکہ بجائے عورت کی مدد کرکے مرد کو بھکاری بنایا جائے، مرد کی مدد کیجائے اور اُسے عورت کے سامنے خودداری سے رہنے کی ترغیب دی جائے۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

ایک تبصرہ

  1. yahan google se arya lafz se phooncha hoon,,aur bhi phoonchenge unke swagat ke liye Link chhodna chahta hoon:

    हक प्रकाश बजवाब सत्‍यार्थ प्रकाश

    تبر اسلام
    arya samaji kitab 116 sawalon “nakhle islam” ka jawab, Arya samaj ka fitna khatam
    karne wali kitab,

    online reading
    http://www.scribd.com/doc/41845917/Tabrra-e-Islam-Sanaullah-Amratsari

    ترک اسلام کا جواب ترک اسلام
    arya samaji book “tark e islam” ka jawab “turk e islam”

    online reading
    http://www.scribd.com/doc/41806300/Turk-e-Islam-Sanaullah-Amratsari

    urdu book: ویداور سوامی دیانند
    غازی محمود دھرم پال
    online reading

    http://www.scribd.com/Ved-Aur-Swami-Dayananda-Mehmood-Dharmpal-ghazi/d/41514707

تبصرہ ارسال کریں