النکاح من سنتی کیا ہے

حدیث :
النكاح من سنتي و قال فمن رغب من سنتي فليس مني
متفق الیہ
ترجمہ : ’ نکاح میری سنت ہے اور فرمایا کہ جو میری سنت کو نہ اپنائے وہ مجھ سے نہیں ‘
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے یہ دو فرمان شادی کے ہر رقعے پر لکھے جاتے ہیں اور ہر تقریبِ نکاح پر قاضی صاحب بآواز بلند پڑھتے بھی ہیں۔ جن کے معنی یہ سمجھے جاتے ہیں کہ نکاح میری سنت ہے اور جو یہ سنت پوری نہ کرے وہ مجھ سے نہیں یعنی وہ مجھ پر نہیں کسی اور پر ایمان لانے والا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے قبل لوگ نکاح نہیں کرتے تھے یا بغیر کسی عقد کے لوگ حرام رشتے قائم کرتے تھے ۔ نکاح یا عقدکا طریقہ نبوت سے پہلے بھی تھا اور زمانہ جاہلیت میں بھی ۔ لوگ عقد کرتے تھے جس کا طریقہ وہی ہے جو اسلام نے دیا ہے یعنی دو گواہوں کی موجودگی میں مرد یہ کہے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیااور عورت یہ کہے کہ میں نے قبول کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)کا حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے نکاح کا بھی یہی واقعہ ہے جب کہ نہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نبی ہوئے تھے نہ شریعت کا وجود تھا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کیوں فرمایا کہ نکاح میری سنت ہے جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے سے یہ عمل جاری تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے قبل یقیناً نکاح ہوتے تھے لیکن لفظ نکاح پر ’ اَل ‘ داخل ہونے کے ساتھ ہی نکاح ایک خصوصیت والا نکاح The Nikah ہوگیا اور معنی یہ ہوئے کہ نکاح وہ جو میری سنت ہے ۔ یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ نکاح وہی نکاح ہے جس طریقے پر میں نے کیا ہے اور دوسری حدیث حجت کی تکمیل کردیتی ہے کہ جو میرے طریقے کے مطابق نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ظاہر ہے آدمی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے کے مطابق نہ کرے گا تو کسی نہ کسی کے طریقے کے مطابق تو کرے گا ہی ۔ ہوسکتا ہے وہ ہندوانہ طریقہ ہو عیسائیوں ، یہودیوں یا مجوسیوں کا طریقہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے ان تمام کا مجموعہ Mixture ہو ۔
آج شادی جو مشکل ترین بن چکی ہے محض اس حدیث کا مفہوم صحیح نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہے ۔ اگر واقعی اس کا مطلب یہ ہوتا کہ صرف شادی کی تقریب کا انعقاد کرنا ہی میری سنت ہے تو یہ دین اور شریعت کتنی ادھوری اور مبہم Vague کہلاتی۔ دوسرے مذاہب کی طرح جن میں عبادتوں اور رسموں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے زندگی کے ہر ہر عمل کا مکمل نمونہ اپنے عمل کے ذریعے قائم کردیا ہے۔ شادی تو عورت اور مرد کی زندگی کا سب سے اہم اور یادگار عمل ہے چاہے جس مذہب ملک یا نسل کا آدمی ہو ، شادی تو لازمی ہے پھر کیسے ممکن تھا کہ آپ اسلام کو دوسروں سے ممیّز Distinguished نہ کرتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے نکاح کئے اور اپنی صاحبزادیوں کے نکاح کیے اور یکساں طریقہ مقرر کیا اور اسی طریقے کو امت کے لیے مقرر کرتے ہوئے فرمایا …
النکاح من سنتی یہ ہے وہ نکاح کا طریقہ جو میری سنت ہے۔ اس سے ہٹ کر جو بھی طریقہ ہوگا اُسے اپنانے والا میری امت سے نہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں اِس حدیث کا انطباق کن کن باتوں پر ہوتا ہے۔

لڑکا لڑکی کا انتخاب
Criteria for Selection

ایک مسلمان ہی کی نہیں بلکہ ہر انسان کی زندگی میں یہ سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے جس کے اثرات برسوں نہیں بلکہ صدیوں تک، اولاد تک ہی نہیں بلکہ نسلوں تلک جاتے ہیں۔ اس میں صرف دو انسانوں کا ملاپ نہیں ہوتابلکہ دو خاندانوں اور دو کلچرزکا ملاپ ہوتا ہے جس میں بے شمار افراد بھی شامل ہوتے ہیں ۔ دو انسانوں کا شادی کے ذریعے ملاپ تو ہوجاتا ہے لیکن اس کے بعد ان کے خوش رہنے نہ رہنے کا تعلق پورے معاشرے Society کے چلن سے ہے ۔ اتنے اہم فیصلے کے لیے اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ :
کسی عورت سے نکاح کے لیے چار چیزیں دیکھی جاتی ہیں ۔
(1) مال
(2) خاندان
(3) حسن
(4) دینداری

رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہدایت یہ ہے کہ آپ دینداری کو پہلے دیکھیں۔ اگر حدیث کے الفاظ کاآج کی اصطلاح میں ترجمہ کیا جائے تو یہ معنی نکلتے ہیں کہ تم ذلیل ہوگے اگر تم نے ترجیح Preference پہلی تین چیزوں کو یعنی مال ، خاندان اور حسن کو دی اور دینداری کو اہمیت نہ دی ۔ ( ماخوذ بخاری و مسلم )
اسی طرح لڑکے کے انتخاب میں اس حکم کو دیکھئے کہ جب تمہارے پاس ایسے شخص کی طرف سے نکاح کا پیغام آئے جس کی دینداری اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو تم اس کو قبول کرلو، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو زمین میں فساد و فتنہ برپا ہوگا ۔ ( ماخود ترمذی )
لڑکے میں بھی عام طور پر مال ، ڈگری ، خاندان ، قابلیت اور اخلاق و دینداری دیکھے جاتے ہیں تم اس کے اخلاق و دینداری سے مطمئن ہو تو فوری نکاح کا پیغام قبول کرو ورنہ زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا ۔ فساد کی تعریف یہ ہیکہ زمین پر اللہ کے قانون کے بجائے کسی اور کا قانون چلے۔ اسی سے سارے فتنے پھوٹتے ہیں۔

تو کیا امیر یا خوبصورت لڑکی یا لڑکے سے شادی ہی نہ کریں؟

ان احادیث کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی امیر یا خوبصورت یا بڑے خاندان کی لڑکی سے شادی ہی نہ کریں۔ بات ترجیحات یعنی Priorities کی ہے۔ ترجیحات کے تعیّن کا معاملہ راست نیت سے ہے۔ اور نیت کا معاملہ راست اللہ اور بندے کے دل کے درمیان ہے۔ دیندار لڑکے یا لڑکی کو تلاش کرکے لانا جو اتفاق سے امیر، خوبصورت اور صاحبِ خاندان بھی نکل آئے ایک الگ شئے ہے۔ اور اسیطرح ایک امیر، خوبصورت اور بڑے گھر کی لڑکی یا لڑکا تلاش کرکے لانا جو اتفاق سے دیندار بھی نکل آئے بالکل الگ شئے ہے۔ لڑکا یالڑکی ڈھونڈھنے والوں کی نیت پر منحصر ہے کہ دل میں ترجیحِ اول Priority no.1 کیاہے۔
ہر شخص اپنا احتساب کرے کہ اپنی بیوی کے انتخاب کے وقت اس کے دل میں کیا تھا۔ اس کو نیت کہتے ہیں۔ تمام دوسرے اعمال کی طرح نیت بھی نکاح کے شرائط میں سے اہم شرط ہے۔ سنت کی تکمیل سبھی کرتے ہیں لیکن انتخابِ شریکِ حیات کے لیے دل میں کیا امر Factor اہم تھا ؟ یہ سوچنا اصل ہے ۔ زبان سے سب یہی کہیں گے کہ ہم نے دینداری دیکھی تھی لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے کہیں کسی نے اپنے ماں باپ اور بہنوں کے انتخاب کو ہی Approval دیا تھا جس میں پہلے ’مال ‘ یعنی جوڑا جہیز، ویزا، فلیٹ اور معیاری شادی وغیرہ اہم تھیں یاپھر شہرت یعنے وزیر ، صنعت کار ، لیڈر ، مرشد ، کرکٹر وغیرہ کی بیٹی ہونا اہم تھا یا خوبصورتی میں کسی فلمی ہیروئن جیسی ہونا اہم تھا ۔
اگر لڑکا اور لڑکی میں دینداری کسوٹی بنتی تو آج شاید کسی جھوٹے ، رشوت خوروں اور غنڈوں کے گھر رشتہ والا کوئی نہ ہوتا۔ اور لوٹ کی کمائی کھانے والے دوکاندار ، تاجر ، بلڈر ، ڈاکٹر ، انجینئر، وکیل حتی کہ چپراسی کی بھی شادی نہ ہوتی ۔پولیس والے سارے کنوارے رہ جاتے اور نہ کسی راشی سرکاری افسر کو کوئی لڑکی دیتا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ’ انتخاب Selection ‘ کے معیارکو نظر انداز کرنے کے بعد آج جو فتنہ و فساد برپا ہوچکا ہے اور معاشرہ جس طرح اخلاقی تباہیوں کا شکار ہے وہ نظروں کے سامنے ہے ۔ ہر شخص خود جانتا ہے کہ وہ کتنا شریف ہے ؟ اس لیے وہ سامنے والوں کی نہ شرافت دیکھتا ہے نہ دینداری ۔ جو جھوٹے اور کمائی میں جتنے چالباز ہوں اتنی ہی آسانی سے بڑے سے بڑے گھر کی بیٹی ان کے حصے میں آجاتی ہے۔ اسی طرح کیسی ہی بدچلن و بد اخلاق لڑکی ہی کیوں نہ ہو جوڑے جہیز کے زور پر قابل سے قابل لڑکا ان کے نصیب میں آجاتا ہے ۔ شریف زادیاں منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں ۔ اس لیے نسلوں میں النکاح من سنتی سے غفلت کی وجہ سے کوئی علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) یا حسن (رضی اللہ عنہ) ،حسین (رضی اللہ عنہ) نہیں پیدا ہوتے اور نہ کسی کے دل میں یہ خواہش ہے ۔

منگنی

النکاح من سنتی کی یہ دوسری خلاف ورزی کا نام ہے ۔ علماء کا اتفاق ہے کہ یہ رسم ایک بدعت ہے ، اسمیں اسراف کا پہلو ہے اور اسراف حرام ہے ۔
بظاہر منگنی میں کوئی برائی نہیں ہوتی ۔ اگر شادی میں کسی وجہ سے تاخیر ہو تو منگنی کردینے سے لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے منسوب ہوجاتے ہیں ۔ پھر ان کی نظریں بھٹکتی ہیں نہ کوئی ان پرنگاہِ غلط ڈالتا ہے۔ تصور میں ایک دوسرے کو ایک عرصے تک شریکِ حیات محسوس کرتے ہیں جس سے شادی کے بعد مانوسیت Intimacy اور بڑھتی ہے ۔ دونوں طرف کے والدین بھی مطمئن رہتے ہیں ۔
اگر یہ رسم اس حد تک ہو کہ دلہن والوں پر مہمان نوازی کا بوجھ ڈالے بغیر دونوں طرف کے گھر والوں کے درمیان محدود ہو تو یہ مباح ہے ، اس میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ اُسے ’ منہ میٹھا کرانے ‘ کی رسم کہتے ہیں ۔ لیکن فی زمانہ اس رسم نے جو شکل اختیار کرلی ہے اس کی وجہ سے امیروں کوتو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن معاشرے کی اکثریت جو کہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے پِس جاتی ہے ۔
جوڑے جہیز کے ناقابل برداشت خرچوں میں یہ ایک اور اسراف کا اضافہ ان کی کمر توڑ دیتا ہے ۔ منگنی کے ذریعے دلہن والوں کو زبردستی مہمان نوازی، ضیافت اور طعام کی تکلیف دینا دلہے کی طرف سے زیادتی ہے
» رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے گیارہ نکاح کئے لیکن ایک بھی منگنی کی روایت نہیں ملتی ۔
» آپ کی چاروں صاحبزادیاں بیاہی گئیں لیکن کسی کی منگنی کے بارے میں ہمیں کسی محدث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔

دارالافتاء جامعہ مظاہر العلوم ، سہارنپور بہ تصدیق مولانا مفتی علی حسن و مولانا مفتی عبدالحبیب کے ایک فتوے کے مطابق ”منگنی بشمول شادی کی دیگر کئی رسومات کے ، مشرکانہ ہیں اور اہل ہندو Hindus سے لی گئی ہیں ان کا اختیار کرنا سخت گناہ ہے اور ان کا ترک کرنا واجب ہے ۔
اگر یوں ہو کہ منگنی خود لڑکے والے اپنے گھر اپنے خرچ پر کریں لڑکی کو بھی وہیں آنے کی دعوت دیں تو پھر دیکھئے لڑکے والے خود ہی یہ کہہ اٹھیں گے کہ یہ رسم فضول ہے اسے سادہ ہونا چاہئے کیوں کہ جب جیب کا مال خرچ ہوتا ہے تو اسراف کی تعریف بھی سمجھ میں آجاتی ہے ۔
عربوں میں یہ لعنت نہیں ہے۔ بالخصوص سعودیوں میں منگنی کے بجائے راست نکاح ہوجاتا ہے۔ لڑکی معہ ولی اور دو گواہوں کے محکمہ شرعی یعنی قاضی کے پاس مقررہ تاریخ پر پہنچ جاتی ہے۔ قاضی حکومت کی طرف سے مقرر ہیں اور قاضی صاحب لڑکی سے راست پوچھ لیتے ہیں کہ :
’ کیا یہ شادی تمہاری خوشی سے ہو رہی ہے ؟
’کیا اس مہر پر تم راضی ہو ؟
’ مہر نقد حاصل کیا یا نہیں ‘

اس کے بعد قاضی مختصر خطبہ پیش کرتے ہیں اس کو خطوبہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد رخصتی تک لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر رہتی ہے۔ بعض اوقات رخصتی سال اور دو سال میں بھی ہوتی ہے۔ البتہ اس دوران لڑکا لڑکی کو بات چیت کرنے اور ملنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ جب رخصتی ہو ، اس دن لڑکے کی طرف سے ولیمہ بڑے پیمانے پر دیا جاتا ہے ، کسی لڑکی والے پر ایک ریال کا بھی خرچ عائد نہیں ہوتا ۔۔

بارات اور نکاح کے دن کا کھانا

یہ گولی حلق سے نیچے اتار نا بہت مشکل ہے کہ شادی میں سارے رشتے دار دوست احباب وغیرہ جمع نہ ہوں ، ایسا تو میت میں بھی نہیں ہوتا ۔ اگر کسی کو دلہا یا دلہن کے سرپرست خود بہ نفس نفیس Personally جاکر رقعہ نہ دیں تو لوگ برامان جاتے ہیں ۔ فہرست بار بار چیک کی جاتی ہیکہ کوئی قریبی یا دور کا رشتے دار یا جاننے والا چھوٹ تو نہیں گیا ۔ جب سے ویڈیو کی ایجاد ہوئی ہے باراتیوں کے چلن میں تبدیلی آگئی ہے۔ بناؤ سنگار Beauty Parlour کے کاروبار میں لاکھوں کا منافع بڑھا ہے ۔ اگر باراتی اور بالخصوص خواتین زیادہ سے زیادہ نہ ہوں تو شادی کی ویڈیو کسی ویرانے کا عرس لگتی ہے ۔
ڈاکٹر اسرار احمد جو پاکستان و ہندوستان میں دروسِ قرآن کے حوالے سے ایک معروف عالم دین ہی نہیں ایک مصلح و مفکر کا درجہ رکھتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ قدیم ترین زبانوں میں آج سوائے عربی کے کوئی ایسی زبان نہیں جو کہ زندہ ہو.۔ ’ العربی کالبحر ‘ یعنی یہ سمندر کی مانند ہے اس میں تلوار ، اونٹ وغیرہ کے لیے دو دو سو مماثل الفاظ Synonyms ملتے ہیں لیکن پوری عربی زبان میں بارات کا لفظ نہیں ہے اور نہ اس کے مماثل Similar کوئی اور لفظ ۔ کیوں کہ عربی روایات میں بارات کا نہ وجود ہے نہ تصور ۔ یہ خالصتاً عجمی لفظ ہے اس کا پورا کا پورا تصور بھی عجمی ہے ۔۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی (رحمۃ اللہ) فرماتے ہیں کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ مدینہ کی آبادی زیادہ نہ ہوتے ہوئے بھی اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس بستی میں موجود رہتے ہوئے بھی صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے نکاح کئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بلانا ضروری نہ سمجھا ۔ یہی اسلامی مزاج ہے اس میں اعلان یا تشہیر کا عنصر ہندوؤں اور مجوسیوں سے داخل ہوا ۔ اسلامی طریقہٴ اعلان یا آپ جسے موقع خوشی یا تقریب کا درجہ دے سکتے ہیں وہ ہے ولیمہ۔ آدمی اپنی استطاعت کے مطابق ضرور کرے ۔
لیکن فی زمانہ بارات اور دوسری فضولیات نے شادی کو اتنا مہنگا معاملہ بنادیا ہے کہ اگر کسی باپ کے سر پر اسکی بیوہ یا مطلقہ بیٹی کے عقدِثانی کی ذمہ داری ہوتو وہ اس خرچ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک کنواری کی شادی پر جتنا خرچ آتا ہے اس سے کہیں زیادہ بیوہ یا مطلقہ کی شادی پر آتاہے۔ نتیجتاً عورت ایک جہنم سے نکل کر دوسرے جہنم میں داخل ہوتی ہے کیوں کہ کم قیمت پر اُسے ایسے ہی مرد ملتے ہیں جو عمر میں بہت زیادہ ہوں ، شادی شدہ اور کئی بڑے بڑے بچوں کے باپ ہوں یا پھر معذور ہوں ۔
صرف بارات اورباراتیوں کی ضیافت کے بوجھ کو ختم کردیاجائے توشادی کا پچیس فیصد خرچ کم ہوسکتا ہے ۔ اسی کی وجہ سے حلال کمائی کے ذریعے کنواریوں کا اٹھنا ناممکن ہوتا جارہاہے۔ آج مسلمان معاشرے میں مطلقہ Divorcee اور بیوہ Widows عورتوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے لیکن جہیز بارات وغیرہ کی رسموں نے ان کا عقدِ ثانی ناممکن بنادیا ہے اس کے جتنے غلط اثرات پائے جاتے ہیں ، اُن کا ہر شخص خود مشاہدہ Observation کررہا ہے ۔
حدیث ”النکاح من سنّتی “ کا اس سے بڑھ کر اور مذاق نہیں اڑایا جاسکتا کہ ہم اپنی بیٹیوں کی شادی پر نکاح کے دن کے کھانے کو لازم کرلیں۔ یہ سب سے بڑا اسراف ہے اور مکمل ہندو رواج سے لیا گیا ایک عمل ہے۔ اگر اسمیں کوئی مصلحت، نیکی یا امت کی فلاح ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی کسی شادی یا اپنی بیٹیوں کی شادی پر ضرور کھانے کا اہتمام کرتے۔

عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) کی مثالی شادی

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) کی شادی کا واقعہ کئی راویوں نے نقل کیاہے۔ فقہی اصول مرتب کرنے والے فقہاء و علماکیلئے یہ شادی کئی دلائل فرام کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہیکہ عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) گزر رہے تھے۔ کپڑوں پر زرد رنگ دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیٹھ پر ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے پوچھا ”کیا بات ہے بہت خوش نظر آرہے ہو، کیا نکاح کیا ہے؟ “۔ عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا ” ہاں یا رسول اللہ، میں نے نکاح کیا ہے“۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسمیں برکت کیلئے دعا فرمائی اور فرمایا ”ولیمہ ضرور کرو چاہے ایک بکری کا کیوں نہ ہو “۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) کی گفتگو سے ہمیں صحیح اسلامی رواجِ شادی کا ثبوت مل جاتاہے۔ اگرچہ کہ صحابی (رضی اللہ عنہ) اُسی محلّے میں رہتے ہیں جسمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے آپ (رضی اللہ عنہ) کی دوستی بھی ایک مثالی ہے۔ آپ (رضی اللہ عنہ) نے جتنا انفاق اسلام کی دعوت اور جنگوں پر کیاہے بہت کم صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے کیا ہے۔ اسکے باوجود آپ (رضی اللہ عنہ) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دعوت نہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں بارات، مہمانانِ خصوصی اور تقریب کا کوئی جواز نہیں ہے۔ایک جواز جو پھر بھی نکل سکتا تھا کہ خطبہ نکاح اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھتے تو موقع بابرکت ہوجاتا اس لئے دوسرے کسی صحابی کو نہ سہی ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تو دعوت دینی ہی چاہئے تھی لیکن عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) نے یہ بھی نہیں کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہیکہ نکاح کے موقع پر لوگوں کو جمع کرنا اور کھانے وغیرہ کا اہتمام کرنا اسلامی روایت میں شامل ہی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) سے پوچھنا کہ کیا نکاح کرلیا ہے اور پھر ولیمے کی ترغیب دینا بھی قابلِ غورہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ نہیں پوچھا کہ ”ارے ؛ شادی کرلی اور ہمیں دعوت تک نہیں دی؛ “۔نہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے برا مانا نہ شکایت کی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہیکہ اگر کوئی دعوت نہ دے تو شکایت یا تقاضے کا رواج بھی قطعی غیر اسلامی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمانا کہ ”ولیمہ کرو چاہے ایک بکری کا کیوں نہ ہو“، یہ بھی قابلِ غور ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) ایک امیر صحابی ہیں۔ پیشے سے تاجر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ ” اچھا شادی کی دعوت میں نہیں بلایا کوئی بات نہیں اب ولیمہ پر تو بلایئے ؛ ولیمہ تو دھوم سے کیجیے اور دوسرے صحابہ کو بھی بلائیے ؛ “۔ جہاں کئی محدثین نے اِس واقعہ کو نوٹ کیا وہاں کسی محدّث نے یہ نہیں لکھا کہ پھر عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) نے ولیمہ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی بلایا۔ اور نہ یہ لکھا کہ اسی گفتگو کے آخر میں عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) نے شادی پر نہ بلانے کی معذرت پیش کی ، شرمندگی کا اظہار کیا یا ولیمہ کا گرمجوشی سے وعدہ کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اڈوانس میں دعوت دی۔ ان تمام باتوں سے پتہ یہ چلتا ہے کہ نہ نکاح پر ہر ایک کو جمع کرنا اسلامی مزاج ہے اور نہ ولیمہ پر۔عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) نے ولیمہ تو ضرور کیا ہوگا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہ بلانا اس بات کی دلالت کرتاہے کہ ترجیحات کی بنا پر لِسٹ بناکر ایک ایک اہم شخص کو جمع کرنا بھی اسلامی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسکے علاوہ بھی اور کئی صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی شادیوں کے واقعات ہیں جیسے حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) اور سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) بچپن کے دوست ہیں۔ ایک غزوہ کے موقع پر دونوں قریب کے خیموں میں مقیم ہیں۔ رات خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کا نکاح ہوتا ہے اور سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) کو اگلے دن خبر ہوتی ہے۔ نہ کوئی شکایت نہ برا ماننے کا انداز۔ دونوں ویسے ہی ساتھ رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ایسے کئی واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں نکاح کے دن لوگوں کو جمع کرنا ایک ایک کو ڈھونڈھ ڈ ھونڈھ کر دعوت دینا۔ برکت اور شہرت کیلئے بڑی بڑی شخصیتوں کو مدعو کرنا۔ بڑے بڑے شادی خانے لے کر لاکھوں کا خرچہ کرنا۔ نہ ہو تو قرض، چندہ یا گھر بار رہن کرنا اور اسطرح سے سماج کے غلط رسومات کا ساتھ دینا اور دوسروں کو بھی اس پر چلنے کی ہمت دلانا۔ یہ تمام چیزیں قطعی غیر اسلامی ہیں۔

اللہ کیا صرف ایک کمزوری کو معاف نہیں کر سکتا؟

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہے تصویریں

ایسا نہیں ہیکہ لوگ پوری شریعت کی بیک وقت خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ حتی الامکان سب باتوں پر عمل کرتے ہیں بس صرف ایک کمزوری ایسی ہوتی ہے جہاں ہر شخص یہ چاہتا ہیکہ اُسے ایک دو چیزوں میں چھوٹ کا حق دے دیا جائے باقی تمام احکام پر وہ عمل کرنے کو تیار رہتاہے۔ جیسے ایک صاحب فجر کی نماز کیلئے نہیں اٹھ سکتے لیکن باقی باتوں میں بہترین مسلمان ہیں۔ ایک صاحب کیلئے رشوت لینا مجبوری ہے لیکن دوسری طرف وہ خیرات و صدقات خوب کرتے ہیں۔ کوئی صاحب صرف جوڑا یا جہیز کوعورتوں کی مجبوری کیوجہ سے روک نہیں سکتے لیکن دوسری طرف وہ جہاد کیلئے بھی نکل سکتے ہیں۔ ایک صاحب کی خواہش ہیکہ بیٹا یا بیٹی کی شادی پر نکاح کے دن کا کھانا معیاری طریقے سے ہو باقی شادی وہ بغیر جوڑا اور جہیز کے مکمل اسلامی طریقے پر کرنے تیار ہیں۔ اسطرح ہر شخص صرف ایک ایک خلاف ورزی کی اجازت کا جواز نکال لینا چاہتا ہے۔ اسی کی وجہ سے اسلام کا صحیح نظامِ زندگی کہیں بھی نافذ ہونا ناممکن ہے۔ شادی کے دن کا کھانا یعنے Reception بظاہر مہمان نوازی یا میزبانی ہے لیکن حقیقتاً لڑکی کے باپ کو مزید لوٹنے کا ایک بہانہ ہے ۔ دلہا بڑی بارات لاکر اپنی شان بڑھاتا ہے اور اِدھر لڑکی کا باپ بھی ساری دنیا کی دعوتیں کھانے کے بعد اپنی باری میں خود لٹنے کا سامان کرتا ہے ۔ ڈاکٹر اسرار احمد فرماتے ہیں کہ ’ ”شادی کے موقع پر کھانا کھلانے کے تعلق سے جتنی احادیث اور صحابہ و ائمہ سلف کے واقعات ملتے ہیں وہ سارے کے سارے ولیمے سے تعلق رکھتے ہیں اگر نکاح والے دن کھانا کھلانا کوئی شرعی کام ہوتا تو کوئی تو راوی بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے نکاح کے دن کھانا کھلایا ۔ یا حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے نکاح کے موقع پر کھانے کا انتظام فرمایا ۔ پورا واقعہ آپ پڑھ چکے ہیں اگر اُمت کی بیٹیوں کے لیے نکاح کے دن کا کھانا بہتر ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) یا آپ کی طرف سے کوئی صحابی دعوت کا انتظام ضرور کرتے ۔ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ ’ سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان اور کم خرچ پر ہو ‘ ۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس قسم کی میزبانی نہ اپنے لیے جائز سمجھی نہ اُمت کے لیے ۔ اب جو افراد اپنی حیثیت کے مطابق پھر بھی بضد ہیں کہ اس دن کھانا تو ہونا چاہئے وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ( نعوذ بالله ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مالی حیثیت نہیں تھی ہماری حیثیت ہے ، وہ مہمان نوازی کے آداب سے ناواقف تھے مگر ہم واقف ہیں “۔ اور یہ لوگ امت کے ان لاکھوں افراد کیلئے ایک مصیبت کھڑی کردیتے ہیں جو استطاعت نہیں رکھتے لیکن اپنی عزت رکھنے کی خاطر ”خوشی“ سے کھانا کھلانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ضیافتوں کا مقابلہ

حیثیتوں کا یہ مقابلہ انتہائی افسوسناک ہے کہ دلہن والوں اور دلہا والوں میں کون بہتر اور شاندار کھانا کھلاتا ہے ۔ شادی کے دن دلہن والے اگر ایک ہزارافراد کو کھانا کھلاتے ہیں تو دلہے والے ولیمہ میں دیڑھ ہزار کو بلاتے ہیں ۔ فائیو اسٹار ہوٹل والے اور شادی خانوں کے مالک حتیٰ کہ باورچی تک ایک دو شادی میں لاکھوں کے مالک ہوجاتے ہیں لیکن سوسائٹی کی 90 فیصد آبادی جو یہ Afford نہیں کرسکتی ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں اپنی چال بھی بھول جاتی ہے اور مجبوراً خون کے آنسو بہاتے ہوئے اس رسم کو پوری کرتی ہے کہ سوسائٹی کا چلن باقی رہے ورنہ سوسائٹی میں ان کی عزت باقی نہیں رہے گی ۔ اسکی مزید تفصیلات آگے باب ” آجکل کی ولیمہ دعوتیں کیا جائز ہیں“ میں ملاحظہ فرمایئے۔
اگر یہ کھانا ختم ہوجائے تو بارات کا تصور خود بخود ختم ہوجائے گا ۔ اور اس طرح سے لاکھوں روپیئے کی محنت کی کمائی جو شادی خانے، اسٹیج ، پھول، دلہا کی موٹر ، مٹھائی ، شیروانیاں، نہ صرف دلہن بلکہ ہر بارات میں عورت کے ہر بار نئے کپڑے کیوں کہ وہ ہر دعوت اور ہر ویڈیو میں ایک دو جوڑوں میں ہی نظر آنے کو معیوب سمجھتی ہے اور 50 to 60% عورتوں اور لڑکیوں کا بیوٹی پارلر کا خرچہ وغیرہ ان تمام فضول خرچیوں سے نجات مل جائے گی ۔ اندازہ لگائیے کتنے لاکھ روپیے مسلمان صرف بارات میں شرکت اور کھانے پر خرچ کردیتا ہے اگر مسلمانوں کی کسی ایک شہر میں صرف ایک مہینہ میں ہونے والی شادیوں کے خرچ کا حساب لگایا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ ایک اخبار ’ ایک مدرسہ یا کالج یا ایک جماعت و ادارہ کا پورا ایک سال کا خرچ ہے ۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ قوم کی ترقی کے لیے لوگوں سے مالی مدد کیلئے کہا جائے تو چہرے سکڑ جاتے ہیں لیکن ایسی فضول رسموں کو پوراکرنے کیلئے قرض بھی مانگنا پڑے تو ضرور مانگ کر پورا کرتے ہیں ۔ لوگ گجرات ، لال مسجد اور بابری مسجد کا بدلہ لینے کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل دشمن ِاسلام اور مخالفِ رسول جو خود ان کے اپنے مزاج میں بیٹھا ہے اس کو ختم کرنا نہیں چاہتے ۔
منگنی بارات جہیز ، جوڑا ، تلک شان والے ولیمے وغیرہ اس دور میں مسلمانوں کی منافقت کا
کھلا ثبوت ہیں ۔ اسے ختم کرنا پہلے لڑکے والوں کی ذمہ داری ہے اور پھر لڑکی والوں کی ۔

حرام قرار دیئے جانے کی ایک اور بنیاد ۔۔ اسراف

جن علماء کے نزدیک جوڑا جہیز ، منگنی، بارات، شادی کے دن کا کھانا، ولیمے میں ضیافتوں کا مقابلہ حرام ہیں ان کی بنیاد ”اسراف “ ہے۔ اسراف کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اِسے قرآن نے حرام قرار دیاہے۔
.... وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا
إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُواْ إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا
الإسراء (بني إسرائيل):26-27

ترجمہ : فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
اسراف کی تعریف: آسان الفاظ میں اسراف کی تعریف یہ ہیکہ
Before you spend a single penny, think: is it necessary‪?
ایک بھی روپیہ خرچ کرنے سے پہلے اچھی طرح یہ سوچئے کہ کیا یہ ضروری ہے؟
ایک مسلمان کیلئے ضروری یا غیر ضروری کی کسوٹی شریعت ہوتی ہے۔ اگر اسکا دل گواہی دے کہ اس خرچ سے اللہ اور اسکے رسول کی رضا حاصل ہوگی تو وہ ضرور خرچ کرے۔ ورنہ یہی اسراف ہے۔

بوہرہ برادری کا بہترین طرز عمل

بوہرہ کمیونٹی میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی طرز معاشرت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ان کے ہاں غلط رسومات پر سخت پابندی ہے ۔ ڈاکٹر سیدنا محمد برہان الدین اور ان کے نائب مولانا حسام الدین بذات خود ہر شہر میں ایک ایک ہفتہ قیام کرتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں ۔ غریب لڑکیوں کے لیے بیت المال سے اتنی مدد مل جاتی ہے کہ مزید جہیز وغیرہ کیلئے ماں باپ کو پریشانی نہیں ہوتی ۔
اُن کے یہاں کھانا نکاح کے دن ہی لڑکے کی طرف سے کھلایا جاتا ہے جسے ولیمہ کہتے ہیں ۔ علماء اہل سنت نے بھی اس کی اجازت دی ہے کہ اگر ایجاب و قبول کے بعد مرد ولیمہ دینا چاہے تو شرعاً جائز ہے ۔ جو خوشحال لوگ ہیں وہ بھی جہیز وغیرہ سے پرہیز کرتے ہیں ۔ نکاح عام طور پر دن میں ہوتا ہے ظہرانہ Lunch دیا جاتا ہے جو کہ ولیمہ ہوتا ہے اور بعد مغرب رخصتی ہوجاتی ہے ۔ دلہا کو نقد رقم دینے کا ان کے ہاں رواج نہیں ہے۔ البتہ فی زمانہ کچھ مثالیں ایسی ضرور ہیں جہاں لڑکوں کو مال یا سامانِ جہیز دیا گیا ہے لیکن اکثریت آسان نکاح اور کم خرچ پر شادی کی پابند ہے۔

چوتھی کا کھانا

بعض مقامات پر ولیمہ میں اگر دلہن والوں کے رشتے دار بھی طعام Dinner میں شریک ہوں تو دلہا والے اس کے پیسے وصول کرتے ہیں ۔ دلہن والوں کے اس کھانے میں شرکت کو چوتھی کہا جاتا ہے ۔
یہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ خود دلہن کے رشتے داروں کا یہ فرض ہے کہ جب تک ولیمہ کی دعوت خود دلہا یا اس کے سرپرست نہ دیں وہ شریک ہی نہ ہوں ۔ دلہن کے سرپرستوں کو چاہئے کہ اگر کھلانا اتنا ہی اہم ہے تو کسی اور موقع پر کھلا دیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر دلہا والوں کے پچاس یا سو آدمی ہوں تو وہ اپنے گھر پر بھی یہ انتظام کرسکتا ہے لیکن دلہن والے بھی شریک ہوں تو بڑی تعداد کے پیش نظر شادی خانہ یا ہال وغیرہ لینا لازمی ہوجاتا ہے جس سے خرچ دوگنا ہوجاتاہے اور دونوں خاندان زیر بار ہوتے ہیں ۔لوگ کیوں غور نہیں کرتے کہ کیا بارات ، کھانا ، جہیز ، چوتھی وغیرہ کی رسمیں کسی شیعہ ، سنی ، بریلوی یا دیوبندی یا اہل حدیث وغیرہ کے مسلک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یا کسی صحابی کے حوالے سے جائز ہیں ؟ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کسی اُم المومنین یا بیٹی کی چوتھی دی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) یا کوئی صحابی کسی بارات کے کھانے یا چوتھی کے کھانے میں شریک ہوئے ہیں ؟

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں