ایک عام آدمی کا رول

تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے
تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے

کونسی جماعت صحیح ہے؟

آج یقیناً بے شمار جماعتیں ، سلسلے، انجمنیں، تحریکیں، عقائد، مسالک اور مدارس ہیں۔ ہر عالمِ دین اپنے حق ہونے کے دلائل پیش کررہاہے اور دوسرے کی تکفیر کررہاہے۔ ایک عام مسلمان برسوں سے بلکہ دو ڈھائی سو سال سے اس سوال سے پریشان ہیکہ صحیح کس کو کہے اور غلط کس کو۔ دین پر مر مٹنے کا جذبہ ہر دل میں ہے لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہاہے کہ دین کا کو نسا حکم پہلے ہے کو نسا بعد میں ہے۔ ایسے وقت میں ایک مسلمان کیلئے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہیکہ وہ شریعت کی بالادستی چاہتا بھی ہے یا نہیں۔
ہندوستان میں اگر مسلمانوں کا غلبہ ممکن ہے تو صرف ایک صورت میں۔ وہ یہ کہ ہندو معاشرے میں اسلام کے صحیح سماجی اور اخلاقی نظام کو پیش کریں۔ لوگ آپ کی نمازوں کو دیکھتے ہیں نہ داڑھی کی سائز کو، نہ آپ کے وظائف ان کے کام آنے والے ہیں نہ تقریریں۔آپ کی جماعت ان کیلئے اہم ہے نہ سلسلہ یا مسلک۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کی سوسائٹی میں لڑکیوں کی پیدائش ایک عذاب ہے یا رحمت۔ اسکی شادی ایک بوجھ ہے یا سچی خوشی ہے۔ اسکے لئے کمانے کے طریقے اخلاقی ہیں یا غیر اخلاقی۔
یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ کیا واقعی آپ شریعت کی بالادستی چاہتے ہیں ہم آپ کو ایک طریقہ بتانا چاہیں گے۔ یہ وہ طریقہ ہے جسکی مخالفت نہ کوئی جماعت کرسکتی ہے نہ کوئی مدرسہ یا سلسلہ اس پر انگلی اٹھا سکتاہے۔ اسمیں نہ کسی دیوبندی بریلوی کا اختلاف ہے نہ شیعہ سنّی کا۔
وہ طریقہ یہ ہیکہ آپ سوشیل ریفارم سے اپنے کام کا آغاز کریں۔
جوڑا جہیز کے نظام نے نہ صرف سوسائٹی کو بلکہ پورے اسلام کے نام کو برباد کیا ہے۔ اس کو مٹانے کے لیے اٹھنا دورِ حاضر میں مکہ کی زندگی کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مشن کو لے کر اٹھنے کے برابر ہے۔ جب تک آپ کے پاس انسانیت کے درد کا درماں نہ ہو ، لوگ دل سے آپ کونہ اپنا ہمدرد و بہی خواہ تسلیم کریں اور نہ آپ کے دین کو قبول کریں گے۔ اس کام کے لیے آپ کو پہلے ایک اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔ یوں سمجھ لیجیئے کہ آپ کے سامنے دو پارٹیاں ہیں۔ آپ کو کسی ایک کو ووٹ دے کر اُسے اہم اور دوسرے کو غیر اہم قرار دینا ہے۔ یاد رکھئے جس کو آپ ووٹ دینگے وہ آپ کو بھی عزت دے گا۔ کس کی دی ہوئی عزت آپ کو پیاری ہے یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ یہ ووٹنگ ایک دو بار نہیں، قدم قدم پر ہے۔آپ نے کبھی ایک کو ووٹ دیا اور کبھی دوسرے کو ، تو یہ منافقت ہوگی۔ اس منافقت میں نہ آپ کبھی سربلند ہونگے نہ آپ کے دین و قوم۔

آپ کس پارٹی کے ساتھ ہیں؟

ذیل میں دس سوال دئے گئے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیئے کہ دو پارٹیاں ہیں ایک پارٹی ”ز“ ہے اور دوسری پارٹی ”ش“ ہے۔
ہر سوال کے حق میں دو جواب ہیں ایک ”ز“ کی جانب سے اوردوسرا ”ش“ کی جانب سے۔
آپ کو کوئی ایک جواب منتخب کرنا ہے۔
آخر میں پتہ چل جائگا کہ آپ کس پارٹی کے آدمی ہیں۔
جو جواب آپ کو صحیح لگے، اس کے بٹن کو کلک (click) کیجئے۔

نمبر شمار سوال ز ش
1 جہیز
  جہیز اگر خوشی سے دیا جائے توجائز ہے  
  خوشی سے دیاجائے یا سوشیل بلیک میل کی وجہ سے ، ہرگز جائز نہیں  
 
2 جوڑا، تلک، استری دھن یا اسکے بدلے کوئی اور Deal
  والدین کی خواہش یا لڑکی والوں کے اصرار پر لینا جائز ہے  
  یہ الرجال قوامون ۔۔۔ کے خلاف ہے ، لینا ہرگز جائز نہیں  
 
3 نکاح
  نکاح بے شک مسجد میں ہو، وداعی شادی خانے سے ہو یہ دستور ہے  
  نکاح مسجد میں ہو، دلہن اسکے گھر سے وداع ہو، یہ سنّت ہے  
 
4 شادی کے دن کا کھانا
  کھانا معیاری ہونا چاہئے تمام دوست و رشتے دار جمع ہونا چاہئے  
  لڑکی والوں کے خرچ پر اپنے مہمانوں کو کھلانا بے غیرتی اور ناجائز ہے  
 
5 مہر
  فوری ادا کرنا ضروری نہیں ، بعد میں کبھی ادا کیا جا سکتا ہے  
  اِسے فوری ادا کرنا واجب ہے ورنہ زانیوں میں سے اٹھایا جائیگا  
 
6 ولیمہ
  شاندار پیمانے پر ہو، ہر شخص تعریف کرے  
  حسبِ استطاعت ہو، انتہائی سادہ ہو چاہے کسی کو پسند نہ آئے  
 
7 تحفے
  تعلقات کی بنیاد پر دینا چاہئے ، اس سے عزت بڑھتی ہے  
  دینے وقت صرف اللہ کی رضا دل میں ہو، نہ کہ عزت  
 
8 شرکت
  تعلقات کی بنیاد پر ہر شادی میں شرکت کرنا چاہئے چاہے جیسی ہو  
  چاہے تعلقات خراب ہوجائیں اگر شادی میں جوڑا جہیز، کھانا یا اسراف ہو تو ہرگز شرکت نہیں کرنا چاہئے ، مکمل بائیکاٹ ہو  
 
9 جو لے چکے وہ کیا کریں
  اللہ معاف کرنے والا ہے، جو لے چکے اُسے بھول جانا چاہئے  
  یہ رشوت تھی جس کا لوٹانا فرض ہے، چاہے وہ واپس نہ لیں ، یہ ناجائز ہے  
 
10 امر بالمعروف نہی عن المنکر
  یہ رسم مٹانا ناممکن ہے، اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے ، کہہ کر اپنے تعلقات خراب کرنے نہیں چاہئے  
  منکرات سے روکنا فرض ہے چاہے کوئی سنے یا نہ سنے  
 

’ز‘ پارٹی سے مراد زمانہ ہے
اور
’ش‘ پارٹی سے مراد شریعت ہے۔
آپ اپنے ووٹوں کا Total کیجیئے اور دیکھیئے کہ آپ نے کس کے حق میں زیادہ ووٹ دیئے ہیں؟
اگر آپ کے ووٹ شریعت کے حق میں زیادہ ہیں تو الحمدللہ ، آج سے سچے دل سے عہد کیجئے کہ آپ اپنے ووٹ پر قائم رہیں گے اور منافقت ہرگز نہیں ہونے دینگے۔
اور اگر آپ کے زیادہ ووٹ” ز“ پارٹی کیلئے ہیں تو درخواست ہیکہ ایک بار پھر پوری کتاب پڑھ کر اسکے خلاف دلائل جمع کیجئے اور مطمئن ہو جائیے کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مرضی کے مطابق ہے۔ آپ کو کئی ایسے مولوی اور ملّا مل جائیں گے جو ان تمام واضح احکامات کی خلاف ورزی کے باوجود جنت اور شفاعت اور مغفرت کے طریقے بتاسکتے ہیں۔

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *