چھٹا فلسفہ

اکثریت

عمل سے فرار کا سب سے اطمینان بخش جواز اکثریت کا بہانہ ہے۔
جب سبھی غلط کررہے ہوں تو انہی میں شامل ہوکر ضمیر کا بوجھ ہلکا ہوجاتاہے۔ صحیح بھی غلط نظر آتاہے۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی مسئلہ Psychological problem ہیکہ آدمی کو اکثریت کے طریقے سے ہٹ کر کرنے میں جھجھک اور خوف آتا ہے۔ وہ اکثریت کے آگے احساسِ کمتریInferiority complex میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس Syndrome سے باہر نکلنے کیلئے آدمی کو بہت بڑے حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور اس سے کہیں زیادہ اہم یہ کہ اُسے باہر نکلنے کیلئے خواہش Willingness بھی ہو۔ اُسے یہ شعور بھی ہو کہ وہ ایک غلط کام کررہاہے۔
علامہ اقبال نے اِ سی کو ”احساسِ زیاں“ سے تعبیر کیاہے۔ فرماتے ہیں
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

جوڑا جہیز کو مٹانے کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ یہی اکثر یت کا بہانہ ہے۔ لوگ اتنے بزدل ہیں کہ ایک طرف اقرار تو کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے اِسے مٹانا چاہئے لیکن جب وقت آتا ہے تو منہ موڑ جاتے ہیں۔ اور ایسا رویّہ اختیار کرلیتے ہیں جیسے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ کے ساتھ کیا کہ
”تم اور تمہارا خدا مل کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں“۔
یہ لگتا ہے یوں کہہ رہے ہوں کہ تم اور تمہارے رسول جا کر علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) جیسی شادی کرلو ہم تو اپنا کلچر نہیں چھوڑ سکتے۔ ورنہ اکثریت ہمارے خلاف ہوجائیگی۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بھی کئی جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جس نفسیاتی خطرے سے خبردار کیا ہے وہ یہی اکثریت سے مرعوبیت کا خطرہ ہے۔
لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِي الْبِلاَد // آل عمران:196
مطلب یہ ہیکہ اے پیغمبر، شہر میں یہ جو اعلیٰ شہری کہلاتے ہیں اور ان کی روش انکار کرنے والوں کی روش ہے۔ ان کی چلت پھرت، طور طریق آپ کو کہیں احساسِ کمتری میں نہ ڈال دے یا یہ کہ مرعوب نہ کردے۔
یہ بڑے لوگ عام لوگوں کے سامنے اپنے گھر کی شادیوں میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے کئی دوسرے شعبوں میں بھی ایسا ماڈل پیش کرتے ہیں کہ عام آدمی کے دل میں اُسی کو اپنانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے آدمی اسکو ترقی اور اعلیٰ سوسائٹی کی نشانی سمجھتاہے۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو رنجیدہ ہوجاتاہے۔ اسی چیز سے اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی با خبر کررہے ہیں کہ
وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللّهُ أَلاَّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيم // آل عمران:176
ترجمہ :
آپ کو رنجیدہ نہ کردے ان (اعلیٰ سوسائٹی کے )کفر کرنے والوں کی ترقی جو کفر میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ چاہتا بھی یہی ہیکہ آخرت میں انہیں کچھ حصہ نہ ملے۔ (جو بھی خوشیاں یہ یہاں منانا چاہتے ہیں منالیں)۔

جب پیسے کی افراط ہوتو آدمی یہ سمجھتا ہیکہ اس پر اللہ کی خاص رحمت ہے لہذا جو کام بھی وہ کررہا ہے وہ اللہ ہی کی مرضی سے کررہاہے۔ اگر اس کام میں گناہ کا احساس بھی ہو تو وہ اپنی طرف سے خود ہی اللہ کی رحمت کا حقدار بن جاتاہے اور سمجھتا ہیکہ کچھ خیرات و انفاق کرکے بچ کر نکل جائیگا۔ یہی روش پھر اکثریت اپنانے لگتی ہے۔ مینڈھوں اور بکریوں کی طرح ہر شخص ایک دوسرے کی تقلید بلکہ سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔۔

اکثریت کبھی انقلاب نہیں لاتی

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب دوسرے سارے بدل جائینگے تو ہم بھی بدل جائیں گے وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔ انقلاب کا راستہ باہر سے اندر نہیں اندر سے باہر جاتا ہے۔ جب تک آپ خود نہیں بدلیں گے کوئی نہیں بدلے گا۔ اب ایسی کوئی آسمانی طاقت نہیں جو ایک آن میں تبدیلی لادے۔ اس تبدیلی کا راستہ یہ ہیکہ ہر شخص اپنے گھر کی شادی مکمل اسلامی شریعت کے مطابق کرے، یہ دیکھ کر اسکے اپنے خاندان والے، دوست احباب اور ان کے ساتھ وہ غیر مسلم جو اسکے ساتھ کام کرتے ہیں یا اس بستی میں رہتے ہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اکثریت کے خلاف جانے کی ہمت ایک آدمی میں تو ہے۔ پھر ہر مسلمان اپنی زبان سے بھی جوڑا جہیز کے خلاف اٹھ جائے اور ایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ بھی کرے جہاں یہ حرام جائز کرلیاگیا ہے۔ خود بخود انقلاب کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اکثریت یقینا کبھی نہیں بدلے گی لیکن سب سے بڑی کامیابی یہی ہیکہ لوگوں کے دلوں میں کانٹے چبھ جائیں۔ جو لوگ آج جوڑا جہیز لینے پر مصر ہیں کل یہی لوگ اپنی اولاد کی شادی وقت اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہونگے۔
اکثریت کا سہارا ڈھونڈھنے والے کم از کم اس بات کا اطمینان کرلیں کہ ان کی آخرت کیا اکثریت کا جواز پیش کرنے پر کامیاب ہوجائیگی؟ اگر وہ اس لئے معاف کردیئے جائیں گے کہ اکثریت بھی وہی کرتی تھی تو پھر ایسی شریعت پر چلنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں
زِرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

تبصرہ ارسال کریں