دوسرا فلسفہ

جہیز فاطمی

بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و وطن
اس زمانے میں کوئی حیدر و کرار بھی ہے

نہ صرف علمائے اہل سنت و الجماعت بلکہ شیعہ علماء بھی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو رخصتی کے قت جو چار چیزیں دی تھیں وہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) ہی کی زِرہ فروخت کروا کر اسی رقم میں سے مہر اور یہ چیزیں دی تھیں ۔اسکی روایت امام احمد، امام حاکم اور نسائی نے کی ہے۔ لیکن جس طرح ایک چور بھوک کو جواز بناتا ہے لڑکی والے سماج کی مجبوری کو جواز بناتے ہیں اور لڑکے والوں کا یہ جواز ہے کہ
”ہم نے کچھ نہیں مانگا ،ہم نے لڑکی والوں کی مرضی پر چھوڑ دیا تھاانہوں نے جو کچھ دیا اپنی خوشی سے دیا“ ۔
یہ سب جہیز فاطمی سے ضمیر کی تسلی کے لیے جواز نکال لیتے ہیں حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تین اور صاحبزادیاں بھی تھیں کوئی شخص جہیز زینبی یا جہیز ام کلثومی یا جہیز رقیہ کا حوالہ نہیں دیتا ۔اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُسی نیت سے حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو جہیز دیاجس طرح آج ہم دیتے ہیں تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ناانصافی اور غیر مساوات کا ایک الزام ہے نعوذباللہ۔ کیسے ممکن ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دوسری بیٹیوں کو کچھ نہ دیتے اور صرف فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کودیتے؟

اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نزدیک بیٹی کو وداع کرنے سے پہلے کچھ دینا یا داماد کا سسر سے کچھ نہ کچھ خوشی سے لینا امت کے حق میں بہتر ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ساری بیٹیوں کی رخصتی پر کچھ نہ کچھ ضرور دیتے جب کہ پہلی دو صاحبزادیوں کی شادی کے وقت تو حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) یعنی ان کی والدہ زندہ تھیں اور مالدار بھی تھیں ۔حضرت زینب (رضی اللہ عنہا) کا نکاح حضرت ابوالعاس بن ربیع (رضی اللہ عنہ) سے اور حضرت رقیّہ (رضی اللہ عنہا) کا نکاح حضرت عثمان بن عفّان (رضی اللہ عنہ) سے ہوا تھا۔ حضرت زینب (رضی اللہ عنہا) کو انہوں نے اپنا ہار دے دیا تھا لیکن یہ واقعہ نبوت سے بھی کافی پہلے کا ہے ۔ ہوسکتا ہے گھر کی پہلی بیٹی جب وداع ہورہی ہو ، دلہن کے کپڑوں میں سج رہی ہو ، ایسے وقت میں ماں کی ممتا امڈ آئے اور ماں نے اپنا ہار پہنا دیا ہو لیکن اس کو جہیز سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔ ورنہ جہیز ہوتا تو حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) باقی بیٹیوں کو بھی ضرور کچھ نہ کچھ دیتیں ۔

جہیز وہ لے جو سسر کا پالا ہوا ہو

اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جو تکیہ ، چادر ، چکی اور مشک ( پانی کی صراحی ) یہ چار چیزیں دیں تھیں وہ جہیز ہی تھا تو یہ جہیز آج کے لڑکے والوں کے لیے اور بھی معیوب ہے ۔ حضرت علی کو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے گود لیا تھا اور اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا کیوں کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے والد ابوطالب حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے بچپن میں ہی انتقال فرما گئے تھے ۔ آپ کے دوسرے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کی حضرت عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) نے کفالت اپنے ذمے لے لی تھی۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا نہ ذاتی گھر تھا نہ کوئی ساز و سامان ۔ جب آپ (رضی اللہ عنہ) کے نکاح کی بات آئی تو ایک صحابی حضرت حارث بن نعمان (رضی اللہ عنہ) نے بخوشی اپنی سعادت سمجھتے ہوئے اپنا ایک گھر حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو رہنے کے لیے پیش کردیا ۔۔

جب یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے بھی کفیل تھے تو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی ضرورتوں کی تکمیل بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کاہی اخلاقی فرض تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نبھایا۔اگر آپ نے تکیہ، چادر اور صراحی دی ہوگی تو اس لئے دی ہوگی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اچھی طرح علم تھا کہ یہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے ہاں پہلے سے موجود نہیں تھیں۔ اس سے جہیزِ فاطمی کا جواز اِسطرح تو نکل سکتا ہے کہ اگر کوئی داماد یتیم ہو اور اپنے سسر کا پالا پوسا ہو تواسکے لئے جائز ہے لیکن سوال یہ ہیکہ آج ہر وہ دلہا جو لاکھوں کا نقد اور جہیز لے رہا ہے کیا وہ اپنے سسر کا پالکڑا ہے؟ ۔ کیا وہ یتیم ہے ؟ اگر نہیں تو جہیز فاطمی ان کے لیے جواز نہیں بنتا بلکہ اُن کی خود داری کے خلاف پڑتا ہے ۔

حضرت علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی شادی

تقریباً سبھی علماء کرام نے اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی ہیں ، کہ جس وقت حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) شادی کی عمر کو پہنچچکیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) اور دوسرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی نسبت مشورہ کیا اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو یہ رشتہ پیش کیا ۔
علی (رضی اللہ عنہ) نے جب مہر اور دیگر سامان جہیز فراہم کرنے کے لیے اپنی عدم استطاعت بیان کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مشورہ دیا کہ اپنی زِرہ بیچ دیں جو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہی انہیں تحفے میں دی تھی۔ آپ (رضی اللہ عنہ) زرہ لے کر حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کے پاس گئے اور سارا ماجرا بیان فرمایا ۔
حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) نے اس زرہ کے چار سو درہم پیش کیے اور جاتے وقت وہ زرہ اپنی طرف سے آپ کو ازراہ محبت تحفے میں دے دی ۔ مہر اور دیگر سامان کی کل قیمت 480 درہم بنتی تھی ۔ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے باقی رقم اپنی طرف سے ڈالی ۔

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے سامنے بات رکھی آپ (رضی اللہ عنہا) حیا سے سرخ ہوگئیں اور گردن جھکالی جو کہ آپ کی اپنے والد کے فیصلے پر خوشی سے رضا مندی کی علامت تھی ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت اُم سلمہ (رضی اللہ عنہا) کو کچھ درہم دئیے اور فرمایا” ’جھز‘ ‘ یعنی تیاری کرو انہوں نے دلہن کو تیار کرنے جو بھی سامان سنگار ہوتا ہے وہ خریدا اور حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو تیار کیا ۔
عصر کی نماز کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قریب میں رہنے والے چند صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو بلوالیا اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے نکاح کا اعلان فرمایا اور خطبہ دیا پھر حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) و اُم سلمہ (رضی اللہ عنہا) کو حکم دیا کہ علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے ساتھ ان کے نئے گھر تک جاو اور فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو چھوڑ آؤ۔( ابن ماجہ)۔ بعض روایت میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے بجائے ام ایمن (رضی اللہ عنہا) کا نام ہے۔ اس موقع پر لڑکیوں نے دف پر گیت بھی گائے ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے منع نہیں کیا ۔

کھجور بانٹنا سنت ہے
ابن ماجہ کی رویت ہیکہ اِس نکاح کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کھجور منگوائے اور تقسیم کئے۔ قربان جائیے اس امت کے بھی کہ اس سنت کو بھی آج تک گلے سے لگائے ہوئے ہے۔ آج بھی کسی نکاح کی تقریب کا کھجور کے بغیر انعقاد ناممکن ہے۔ اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایسی چھوٹی چھوٹی سنّتون سے بھی اتنی محبت کرنے والی امت منگنی، پاوں میس، طعام بروزِ نکاح، جہیز، جوڑے کی رقم وغیرہ لیتے وقت یہ کیوں بھول جاتی ہے کہ یہ چیزیں اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت نہیں بلکہ اس مشرک قوم کی سنّت ہیں جس سے اللہ اور اسکے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جنگ ہے۔

ہے نا عجیب شادی !
» کتنی عجیب مثالی شادی ہے ۔ نہ تو بارات ہے اور نہ ہی باراتی ۔ہماری معمولی سے معمولی تقریب میں بھی اس سے کہیں زیادہ افراد جمع ہوجاتے ہیں۔
» صحابہ (رضی اللہ عنہم)نے کیا کیا قربانیاں نہیں دیں ، مکّہ میں اپنے گھر بار اور کاروبار سب کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خاطر چھوڑ آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو چاہئے تھا کہ سب کو دعوت دیتے ایک وقت کا کھانا کھلاتے اور پھر آخری بیٹی کی رخصتی تھی۔ سب کو دعوت نہیں دے سکتے تھے تو کم از کم اتنا تو کرسکتے تھے کہ اہم ترین صحابہ (رضی اللہ عنہم) ہی کو پہلے سے دعوت دے کر بلا لیتے ؟
» یا کم از کم ان سردارانِ قبائل کو ہی بلا لیتے جو مسلمانوں ، مشرکوں اور یہودیوں میں سے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس طرح تو Status Quo قائم رکھنا چاہئے تھا ۔
» بیٹی ایک خالی مکان میں جارہی تھی۔ داماد کا کوئی ذریعہ روزگار نہیں تھا۔ کم از کم گھر کی دوسری اہم ضروریات کی چیزیں تو دینا ہی چاہئے تھا ۔
» حضرت علی (رضی اللہ عنہ) تو کم از کم اپنے دوستوں کو بلاتے ، کچھ تو دکھاتے کہ خوشی کی تقریب کسے کہتے ہیں ۔
» کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سب اس لیے نہیں کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بہت تنگدست تھے ؟ کیاآپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی قرض دینے والا بھی نہیں تھا ؟ کیا بیٹی کے چچا ، ماموں ، پھوپھا وغیرہ اس قابل نہ تھے کہ آگے بڑھ کر داماد کو کچھ تحفتاً ہی دے دیتے؟
» کیاآپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) سوسائٹی سے ناواقف تھے ؟ جیسے آج ہم ہیں ہمارے پاس سلیقہ ہے کیا اُس وقت نہیں تھا؟
» آج ہم سوسائٹی ، کلچر اور خاندانی عزت کے نام پر جو کچھ کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ کیا ہم اپنے رویئے سے یہ ثابت نہیں کرتے کہ رسول کلچرڈ نہیں تھے لیکن ہم کلچرڈ ہیں۔ عزت اس طریقے میں نہیں جس طریقے سے رسول نے اپنی بیٹی کو وداع کیا بلکہ عزت اس طریقے میں ہے جس طریقے سے ہم اپنی بیٹیوں کو وداع کرتے ہیں۔ رسول کی سوسائٹی معمولی سوسائٹی تھی ہماری سوسائٹی اعلیٰ سوسائٹی ہے۔علی (رضی اللہ عنہ) ایک گمنام نوجوان تھے جن کو سوسائٹی میں کوئی جانتا نہیں تھا اسی لئے کسی نے ان کی شادی میں نہ شرکت کی اور نہ دعوت کا ماحول بنایا لیکن ہمارا نوشہ ایک ہردلعزیز نوجوان ہے۔ اچھے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے والا ہے۔ بے شمار اسکے جاننے والے ہیں۔ ان تمام کی شرکت کے بغیر شادی کا تصور بھی ناممکن ہے۔
» کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بیٹی سے محبت نہیں تھی ۔
» کیا حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے سر پر بڑی بزرگ خواتین کا سایہ نہیں تھا جو ان کی شادی کا ارمان پورا کرتیں ۔

بلا شبہ آپ کہیں گے ایسا نہیں تھا ، لیکن آج کی ہر شادی کی تقریب چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ایسا ہی تھا ۔ بیٹی کی رخصتی کسے کہتے ہیں یہ رسول اللہ کو معلوم نہیں تھا لیکن ہمیں معلوم ہے ۔ ہو سکتا ہے علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے کوئی رشتے دار نہ ہوں لیکن ہمارے بیٹے بیٹیوں کے سارے بڑے جب تک موجود ہیں نہ کوئی دلہن خالی ہاتھ جائیگی اور نہ کوئی دلہا خالی ہاتھ جائیگا چاہے اسکے لیئے گھر فروخت یا رہن کرنا پڑے چاہے چندہ مانگنا پڑے یا قرض لینا پڑے۔ ہمارے گھر کی شادی ہے کوئی علی (رضی اللہ عنہ) و فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی نہیں جومعمولی طریقے سے ہوگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے زیادہ ہمیں معلوم ہے کہ بیٹی کا بھی حق ہوتا ہے ۔ بیٹی ایک بوجھ نہیں بلکہ ہماری جان ہے اس کے لیے تو ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں اور اگر لڑکی غریب ہے تو ہمارے پاس اتنا دم ہے کہ دونوں طرف سے کر کے لے جاسکتے ہیں لڑکی لاوارث نہیں ہے جب تک ہمارے بڑے بزرگ زندہ ہیں ان کا ہر ارمان پورا ہونا چاہئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سب کیوں نہیں کیا ؟ یہ ہم اگلے صفحات پر غور کریں گے ۔۔

» اپنی عزت کا خیال رکھنے والا ہر وہ شخص جو کئی کئی قسم کے گوشت ، بریانی اور میٹھوں کے دستر سجاتا ہے کیا وہ درحقیقت رسول اللہ کا مذاق نہیں اڑا رہا ہے کہ وہ نادار اور مفلس تھے اس لیے انہوں نے جواری کی روٹی اور دودھ کے پیالوں پر ولیمہ کیا لیکن ہم مالدار اور عزت دار لوگ ہیں ؟ عثمان غنی (رضی اللہ عنہ) اور عبدالرحمان بن عوف (رضی اللہ عنہ) ہوسکتا ہے ہماری طرح امیر رہے ہوں لیکن ان کے کلچر اور ہمارے کلچر میں فرق ہے ؟
» اس حدیث کے پیش نظر کہ :
’ جب کسی فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ کا عرش غضب سے ہل جاتا ہے ‘ ،
کیا ایسی دعوتیں کھاکر ان کا تذکرہ یا تعریف کرنے والے لوگ فاسقوں کی تعریف کرنے والے نہیں کہلائیں گے جو بین السطور دراصل یہ کہتے ہیں کہ فلاں نے تو رسول اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی دعوتوں سے بھی کہیں زیادہ بہتر دعوت کی ؟
» دلہن والوں کی طرف سے بھیجی گئی پھولوں سے سجی کار میں بیٹھ کر آنے والے بے غیرت دلہے کیا حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا مذاق نہیں اڑاتے جن کے لیے نہ گھوڑا بھیجا گیاتھا نہ خچر۔؟

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking

10 Comments

  1. ماشاء الله اللہ اآپکو اسکا بھترین اجر ادا کریگا ۔۔۔۔۔۔

    شادی ہم کرتے کیوں ہے کیا صرف اپنی خواہش کیلئے ۔۔۔ تو شادی کیوں ضروری ایسے ہی خواہش پوری کر سکتے ہیں شادی کیوں ۔۔۔

    سنت ہے تو سنت کی طرح کرو میرے عزیزو ۔

    آپکا بھائی داود محمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *