جوڑا جہیز اور وراثت کا مسئلہ

ہندو دھرم میں جہاں عورت کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ، جہیز کے ذریعے اس کے ساتھ انصاف کر دیا جاتا ہے۔
اسلام نے عورت کو باپ اور بھائی کی وراثت کا حقدار قرار دیا ہے۔ لیکن جوڑا جہیز کے لزوم compulsion نے لوگوں کو احکامِ وراثت سے منہ موڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اکثر یہ شکایتیں سامنے آتی ہیں کہ عورتوں کو وراثت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ شریعت کی ایک صریح نافرمانی ہے کیونکہ قرآن نے وراثت کے احکامات کے ذریعے مردوں اور عورتوں کے حقوق کے درمیان ایک انصاف قائم کیا تھا جس کو مرد پامال کر رہے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لڑکیوں کو جوڑا جہیز دیا جائے تو لڑکوں کے ساتھ انصاف کہاں قائم رہتا ہے؟ ایسے خوشحال گھرانے معاشرے میں پانچ دس فیصد ہی ہوتے ہیں جن کے مال میں لاکھوں کا جہیز دینے کے بعد بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن %90 تو وہ گھرانے ہوتے ہیں جہاں ایک باپ کو بیٹیوں کا جہیز دینے کے بعد بیٹوں کو دینے کچھ نہیں بچتا۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ ایک باپ جتنا بیٹیوں کے جہیز پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتا ہے اس کا آدھا بھی بیٹوں کو نہیں دے سکتا۔ اب یا تو لڑکیوں کو جہیز دینے کے بعد باقی مال بھائیوں کو وراثت میں دے دیا جائے یا پھر جوڑا جہیز کو بند کیا جائے۔ تاکہ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابر کا انصاف ہو۔ ورنہ کسی ایک کے ساتھ تو ناانصافی یقینی ہے۔
جب تک جوڑا جہیز سوسائیٹی سے ختم نہیں ہوگا بھائی اپنی بہنوں کو حقِ وراثت سے محروم کرتے رہیں گے اور بہنیں جوڑا جہیز کی وجہ سے بھائیوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتی رہیں گی۔
ہر دو صورتوں میں شریعت کی نافرمانی کی سزا میں فتنہ ، فساد اور نفرتیں پروان چڑھیں گی اور انصاف کے لئے غیر شرعی کورٹ اور وکیلوں کے دروازے کھٹکھٹانا پڑے گا۔
ظاہر ہے جوڑا جہیز ایک غیر اسلامی رسم ہے ، اس کی خاطر وراثت کے نصوصِ قرآنی تو نہیں بدلے جا سکتے۔ لیکن سوال یہ ہنوز باقی ہے کہ پھر لڑکوں کو انصاف کیسے ملے گا؟

یہ مسئلہ ہمارے علماء ، مشائخین ، جماعتوں اور دانشوروں کے لئے فوری توجہ کا طالب ہے۔ ہاں اگر عورت چاہے تو یہ مسئلہ آج ہی ختم ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے مردوں کو عورت کی تربیت کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ جو آج کے مردوں کے لئے ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے۔